پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے بعد اب آئی باری سوشل میڈیا کی
پاکستان کے ایوانِ بالا کے بعد قومی اسمبلی میں موجود پاکستان مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور دوسری جماعتوں نے بھی 11 اگست 2016 ء کو الیکٹرانک جرائم کے تدارک کے لئے متنازع سائبر کرائم بل کی منظوری دی۔ اس بل میں ایسے 23 جرائم کی وضاحت کی گئی تھی، جن پر ضابطہ فوجداری کی 30 دفعات لاگو ہو سکیں گی۔
واضح رہے کہ الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 ء مندرجہ ذیل معاملات میں سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے حکومتی اتھارٹی کو تسلیم کرتا ہے۔
معلوماتی نظام یا ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی:
کسی بھی معلوماتی نظام یا اعداد و شمار تک جان بوجھ کر غیر قانونی طریقے سے رسائی حاصل کرنے پر تین ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
ڈیٹا کی بلا اجازت نقل یا ترسیل:
ڈیٹا کو جان بوجھ کر یا بغیر اجازت نقل کرنے یا آگے بھیجنے والے فرد کو زیادہ سے زیادہ چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔
معلوماتی نظام میں مداخلت:
کسی بھی ڈیٹا سسٹم میں جزوی یا مکمل مداخلت یا اسے نقصان پہنچانے والے شخص کو زیادہ سے زیادہ دو سال قید اور پانچ لاکھ جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
لازمی بنیادی ڈھانچے کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی:
کسی بھی لازمی بنیادی ڈھانچے (کریٹیکل انفراسٹرکچر) کے ڈیٹا کی جان بوجھ کر یا بغیر اجازت نقل کرنے یا منتقلی پر زیادہ سے زیادہ تین سال قید اور دس لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
لازمی بنیادی ڈھانچے کے ڈیٹا کی بلا اجازت نقل یا ترسیل:
لازمی بنیادی ڈھانچے سے متعلق ڈیٹا کو جان بوجھ کر یا بغیر اجازت نقل کرنے یا آگے بھیجنے والے فرد کو زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔
لازمی بنیادی ڈھانچے کے معلوماتی نظام میں مداخلت:
لازمی بنیادی ڈھانچے کے کسی بھی ڈیٹا سسٹم میں جزوی یا مکمل مداخلت یا اسے نقصان پہنچانے پر زیادہ سے زیادہ سات سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
جرم کی تشہیر:
کسی بھی معلوماتی نظام یا آلے کی مدد سے دہشت گردی اور دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور ان سے منسلک افراد کی سرگرمیوں کی تشہیر کے لئے معلومات تیار کرنے اور یا ان کی نشر و اشاعت پر سات سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔
سائبر دہشت گردی:
اس مسودہ قانون میں لازمی بنیادی ڈھانچے کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی، غیر مجاز نقل اور اس میں مداخلت کے علاوہ جرم کی تشہیر کو سائبر دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ حکومت یا عوام میں خوف و ہراس یا عدم تحفظ پیدا کرنے کی کوشش اور سماج میں خوف پھیلانے کی کوشش یا اس سے متعلق دھمکی بھی سائبر دہشت گردی کے زمرے میں آئے گی۔ بین المذاہب، فرقہ وارانہ یا نسلی نفرت کو بڑھاوا دینے یا اس کی دھمکی دینا بھی سائبر دہشت گردی ہو گا اور ان تمام جرائم پر 14 برس تک قید اور پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
نفرت انگیز تقاریر:
بین المذاہب، فرقہ وارانہ یا نسلی منافرت کو بڑھاوا دینے والی معلومات تیار کرنے یا اسے نشر کرنے پر سات سال قید اور جرمانے کی سزائیں دی جائیں گی۔
دہشت گردی کے لئے بھرتی، رقوم کی فراہمی:
دہشت گردی کی غرض سے معلومات تیار کرنے، فنڈ طلب کرنے، لوگوں کو بھرتی کرنے یا دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے پر سات سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
الیکٹرانک جعل سازی:
کسی بھی انفارمیشن سسٹم، ڈیوائس یا ڈیٹا میں مداخلت یا دھوکہ دہی کے مقصد کے تحت اس میں ڈیٹا داخل کرنے، خارج کرنے، چھپانے یا اس میں ترمیم کرنے پر تین سال تک کی قید، ڈھائی لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
الیکٹرانک دھوکہ دہی:
دھوکے کی نیت سے کسی معلوماتی نظام یا آلے میں مداخلت، یا اس کے استعمال، کسی شخص کو دھوکہ دینے یا اسے دھوکے سے تعلق بنانے پر مائل کرنے پر دو سال کی قید یا ایک کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ:
جرم میں استعمال کے لئے آلات کی تیاری یا فراہمی۔ سائبر جرائم میں مدد کے لئے آلات فراہم کرنے کی پیشکش کرنے، اس کی تیاری، برآمد یا آلات کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی معاونت پر چھ ماہ کی قید یا 50 ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
شناختی معلومات کا غیر مجاز استعمال:
بغیر کسی اختیار کے کسی دوسرے شخص کی شناختی معلومات حاصل کرنے، فروخت کرنے، قبضے میں رکھنے، منتقل کرنے، استعمال کرنے پر تین سال تک کی قید یا پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ جس شخص کی معلومات استعمال کی جائیں وہ اپنی معلومات کو روکنے کے لئے اتھارٹی کو درخواست دے سکتا ہے جو مناسب اقدامات کرے گی۔
سم کارڈ کا غیرمجاز اجراء وغیرہ:
منظور شدہ قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر موبائل فونز کے سم کارڈ، دوبارہ استعمال کے شناختی ماڈیول یا سیلولر موبائل، وائرلیس فون اور دیگر ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز جیسے کہ ٹیبلٹس کی فروخت پر یا فراہمی پر تین سال تک قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں۔
مواصلاتی آلات میں ردو بدل:
کسی مواصلاتی سامان کے ’منفرد شناختی آلے‘ (unique device identifier) بشمول موبائل فون، وائرلیس وغیرہ میں ردوبدل کر کے استعمال یا فروخت پر تین سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانے یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
غیر مجاز حصول:
انفارمیشن سسٹم سے یا اس کے اندر سے کوئی غیرمجاز ٹرانسمیشن جو عوام کے لیے نہ ہو یا عوام کے لیے عام نہ ہو، یا کسی انفارمیشن سسٹم سے ڈیٹا کے غیرمجاز الیکٹرومیگنیٹک اخراج پر دو سال تک قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
عزت و وقار کے خلاف جرائم:
کسی معلوماتی نظام کے ذریعے کسی شخص کے خلاف ارداتاً اور سرعام جھوٹی اور شہرت کے لئے نقصان دہ معلومات کا اظہار یا نمائش یا منتقلی پر تین سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا یا دونوں ہو سکتی ہیں۔ اس کا اطلاق پیمرا کے تحت لائسنس یافتہ چینلز پر نہیں ہوگا۔
پاک دامنی کے خلاف جرائم:
معلوماتی نظام کی مدد سے کسی شخص کے چہرے کی تصویر فحش تصویر یا ویڈیو پر چسپاں کرنے، کسی فرد کی شہوت انگیز تصویر یا ویڈیو کی نمائش یا اشاعت کرنے، کسی شخص کو جنسی فعل یا عریاں تصویر یا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرنے یا اسے جنسی فعل کے لئے قائل کرنے، ترغیب دلانے یا مائل کرنے پر پانچ سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
نابالغ کے ساتھ پہلی بار ان جرائم پر قید کی سزا کی مدت سات سال ہو گی اور دوبارہ ارتکاب پر دس سال ہوگی۔
نابالغوں کی عریاں تصویر کشی:
معلوماتی نظام کی مدد سے نابالغ یا نابالغ نظر آنے والے افراد کی جنسی عمل میں مشغولیت کی تصاویر یا ویڈیو پھیلانے، اسے اپنے پاس رکھنے یا دوسروں کو دینے یا ایسے نابالغ افراد کی شناخت ظاہر کرنے پر سات سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
ضرر رساں کوڈ:
کسی ڈیٹا سسٹم یا ڈیٹا کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے، چوری کرنے، تبدیل کرنے کی غرض سے بلا اجازت ضرر رساں کوڈ (کمپیوٹر پروگرام) لکھنے اور کسی معلوماتی نظام یا آلے کے ذریعے اس کی پیشکش کرنے، فراہم کرنے، تقسیم یا منتقل کرنے پر دو سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
سائبر سٹاکنگ:
کسی شخص کو مجبور یا خوفزدہ یا ہراساں کرنے کی نیت سے انٹرنیٹ، ویب سائٹ، ای میل سمیت دیگر مواصلاتی ذرائع کی مدد سے اس کا پیچھا کرنے، رابطہ کرنے، نگرانی یا جاسوسی کرنے، بغیر اجازت تصویر کشی یا ویڈیو بنانے اور اس کی نمائش یا تقسیم کرنے پر تین سال تک قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
سپیمنگ:
کسی شخص کو اس کی اجازت کے بغیر نقصان دہ، فریب کارانہ، گمراہ کن، غیرقانونی یا ان چاہی معلومات کی پیغام رسانی سپیمنگ ہے جس کی سزا تین ماہ تک قید اور 50 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتی ہے۔
دریں اثنا بلاواسطہ مارکیٹنگ کے عمل میں مصروف افراد یا اداروں یا تنظیموں کو اپنے پیغامات کے وصول کنندہ کو یہ اختیار دینا ہو گا کہ وہ یہ پیغامات وصول کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔
سپوفنگ:
بدنیتی سے کسی ویب سائٹ کا قیام اور کسی جعلی ماخذ سے اس ارادے سے معلومات کی فراہمی کہ وصول کرنے والا اسے مصدقہ سمجھ کر یقین کر لے گا سپوفنگ ہے جس کی سزا تین سال قید یا پانچ لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔
اب اس ایکٹ کے تحت مارچ 2019 ء ایف آئی اے نے مختلف اداروں میں کام کرنے والے ورکنگ جرنلسٹس کے خلاف کارروائیوں سے سوشل میڈیا کو قابو کرنے والے سلسلہ کا آغاز کر دیا ہے۔ مارچ کے آخری ہفتے میں کراچی سے دو ایسے صحافیوں کو سادہ لباس میں کچھ نامعلوم مسلح افراد جبرا~ اپنے ساتھ لے گئے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ترقی پسندانہ خیالات رکھتے تھے۔ واضح رہے کہ ان صحافییوں کے اغواء ہونے سے متعلق پولیس نے اب تک ان واقعات کا مقدمہ بھی درج نہیں کیا ہے۔
کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران نے کہا ہے کہ صحافیوں کے یکے بعد دیگرے لاپتا ہونے کے واقعات افسوسناک اور تشویش کا باعث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کوئی بھی ٹھوس شواہد یا ثبوت ہیں تو صحافتی تنظیمیں ایسے ملزم کا ساتھ نہیں دیتیں، مگر دوسری جانب تفتیشی اداروں کو بھی انہیں قانون کے تحت عدالتوں میں پیش کر کے باقاعدہ تفتیش کرنی چائیے۔ کسی کو جبری لاپتا کرنے کا طریقہ درست نہیں۔
صحافت سے متعلق بین الاقوامی تنظیم ”رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز“ نے بھی مقتول سعودی صحافی جمال خشوگی کی تصاویر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پوسٹ کرنے پر متعدد پاکستانی صحافیوں کے خلاف تحقیقات کیے جانے کے اقدام کی مذمت کی ہے۔ صحافتی تنظیم نے مارچ کے آخری ہفتہ میں دیے گئے ایک بیان میں صحافیوں کے خلاف تحقیقات پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے کہ جمال خشوگی کا معاملہ اٹھانے پر کیونکر پاکستان میں بعض صحافیوں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔
عمران خاں کی تحریک انصاف حکومت میں سوشل میڈیا شدید ترین حکومتی دباؤ کا شکار ہے۔ سائبر حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے کہا ہے کہ اس بل میں ایک تو کسی بھی مواد کے مجرمانہ ہونے کے لیے دی گئی وجوہات کی تشریح موجود نہیں ہے اور دوسرا یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کون لوگ ہوں گے جو اس بات کا تعین کریں گے کہ کوئی بھی مواد یا ویب سائٹ اس زمرے میں آتی ہے اسی لیے کسی ایک ادارے کو اس طرح کا مکمل اختیار دینا مناسب نہیں ہے۔ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے مطابق صارفین کے ڈیٹا تک رسائی ذاتی مواد کے تحفظ کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔
الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 ء پر بات چیت کرتے ہوئے وکیل یاسر لطیف ہمدانی کا بھی کہنا ہے کہ پی ٹی اے کو صوابدیدی اختیار دینا ٹھیک نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اداروں میں بیٹھے افراد کے ذاتی خیالات اور مذہبی رجحانات اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ انھیں سائبر جرائم کی مکمل آگاہی ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اس پر بہترین عمل درآمد کروا سکیں۔


