’’یہ تم نے کس کو سرِ دار کھو دیا لوگو‘‘ کے اصل خالق فیضؔ نہیں، احمد نوید ہیں


کبھی تو سوچنا تم نے یہ کیا کیا لوگو

یہ  تم نے کس کو سر دار کھو دیا لوگو

ہوائے بغض و خباثت چلی تو اپنے ساتھ

اڑا کے لے گئی انصاف کی قبا لوگو

دیا تھا صبحِ مسرت نے اک چراغ تمہیں

اسی کو تم نے سرِ شام کھو دیا لوگو

مسافتوں کے سوا ان کو کچھ نہیں ملتا

سفر میں ساتھ نہ ہو جن کے رہنما لوگو

سلا دیا جسے زنداں میں تم نے موت کی نیند

جگائے گی اسے حالات کی صدا لوگو

(احمد نویدؔ )

گو کہ تحقیق سے اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ نظم احمد نوید کی ہے لیکن احمد نوید کے قریبی حلقے کے سوا ایک خلقت اسے اب بھی فیض احمد فیض کی نظم سمجھتی ہے اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کے دفاتر، جلسے جلوسوں میں اسے فیض صاحب سے منسوب کر کے ہی پڑھا اور لکھا اور دیواروں پر آویزاں جاتا ہے۔

ہمیں یہ قصہ آج سے اٹھارہ انیس برس قبل تب پتہ چلا جب اوجِ کمال نے اپنے ادبی رسالے کے لیے ان سے ایک انٹرویو میں سوال کیا کہ سنا ہے کہ فیض صاحب کی اس مشہور نظم پر آپ کا دعویٰ ہے کہ یہ نظم آپ کی ہے۔ اس پر احمد نوید نے اس قصے کی تفصیل کچھ یوں بتائی کہ انہوں نے بھٹو کی پھانسی کی خبر سن کر چار اپریل کو یہ نظم کہنے کے بعد حسبِ معمول اپنے چند دوستوں کو سنائی۔ دوست گواہ تھے۔ اسی شام سکھر کے مشہور وکیل حسن حمیدی صاحب نے بھی احمد نوید سے یہ نظم سنی تو کسی اخبار میں چھپوانے کا کہہ کر یہ نظم لے کر چلے گئے۔

اگلی صبح اپنے دوستوں کی اطلاع پر انہوں نے دیکھا کہ مساوات اخبار میں بھٹو کی پھانسی کی خبر کی تفصیل اس ہیڈ لائن کے ساتھ ’’ یہ کس کو تم نے سرِ دار کھو دیا لوگو ‘‘ کے ساتھ چھپی تھی اور نیچے فیض احمد فیض کا نام لکھا تھا۔ پھر اگلے روز رسالہ چٹان میں مکمل نظم فیض احمد فیض کے نام سے شائع ہو ئی۔

احمد نوید نے اپنے جن قریبی دوستوں کو یہ نظم سنائی تھی وہ ان سے اصرار کرتے رہے کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں لیکن احمد نوید کے لیے یہ بات بڑی خوشی کی تھی کہ ان کی نظم کے ساتھ فیض صاحب کا نام جڑا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں بیس اکیس سال کا تھا۔ فیض صاحب اس زمانے میں اساطیری مقام کے حامل پو چکے تھے۔ اس لیے اس نظم نے بھی اڑان بھر لی۔ میں گم نام اور گوشہ نشین نوجوان تھا۔ اگر اس نظم کے ساتھ اتنے مشہور شاعر کا نام نہ جڑا ہوتا تو اس نظم کی پرواز بھی اتنی بلند نہ ہوتی۔

پی ٹی وی سے بھی یہ نظم کچھ سال تک فیض صاحب کے نام سے پیش کی جاتی رہی لیکن پھر تحقیق سے اصل حقیقت سامنے آئی۔ اور یوں یہ نظم کئی برس سے چار اپریل کو پی ٹی وی سے احمد نوید کے نام سے ہی پیش کی جاتی رہی ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ فیض صاحب نے کبھی اس نظم کو اپنے کسی مجموعہ کلام میں تو شائع نہیں کیا ، لیکن کبھی اس بات کا بر ملا اظہار بھی نہ کیا کہ بھائی جس نظم کو تم سب نے ہمارے نام سے منسوب کر رکھا ہے وہ ہماری نہیں۔ بہر حال یہ دو عظیم شاعروں کا قصہ ہے۔ ایک نے ا نکار اور دوسرے نے اصرار نہیں کیا۔

Facebook Comments HS