ممی کی ڈائری: ممی اور بچوں کی پڑھائی
ممی کو یہ سب کرتے اس بات کا شدید احساس تھا کہ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔ میں اپنے بیٹے سے شرمندہ تھی۔ میں دوسرے مسائل میں پھنس کر اسے اتنا وقت نہ دے سکی تھی جتنا میں نے دوسرے بچوں کو دیا تھا۔ میں فاطمہ اور آمنہ کی طرح پوری توجہ سے محمد کو پڑھا بھی نہ سکی تھی۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ جیسے دونوں بچیاں آسانی سے سب کر لیتی ہیں ایسے ہی محمد بھی سب کر جائے گا۔ ایسا کرتے میں بھول گئی کہ ہر بچے کی ذہانت اور صلاحیت مختلف ہوتی ہے اور خاص طور پر یہ کہ ہر بچہ ماؤں اور باپوں کے ہاتھوں کی مہارت سے بنتا ہے۔ ہماری محنت جتنی کم ہو گی ان کی حالت اتنی ہی خراب ہو جائے گی۔ اسی لئے ایک جھٹکا لگا اور محمد کو پیچھے لے گیا۔ یہ ممی کی تکلیف تھی۔ مجھے اس کا ازالہ کرنا تھا اور میں نے اس کی کوشش کی۔
ممی کے لئے بچوں کو پڑھانا ایک سائنس ہے۔ ایک ایسا عمل جس کے لئے ایک خاص فضا چاہیے ایک خاص ماحول اور خاص توجہ۔ فاطمہ کو پڑھانا میرے لئے سب سے آسان تھا چونکہ آمنہ کے صبح دیر تک سونے کے اوقات میں اسے چپکے سے سوتے سے اٹھا کر صبح ہی صبح ناشتے کے بعد پڑھنے کے لئے بٹھا لیتی اور اگر آمنہ غیر ضروری جلدی نہ اٹھ جاتی تو ویک اینڈ کی صبح دو یا تین گھنٹے اس کی ساری پڑھائی نپٹ جاتی۔ صرف میں اور فاطمہ ایک بند کمرے میں پوری توجہ سے دو گھنٹے بغیر کسی مداخلت کے سب نپٹا لیتے کہ چھوٹی کو دیر سے اٹھنے کی عادت تھی۔
یہ روٹین صرف تب بگڑتی جب آمنہ وقت سے پہلے اٹھ جاتی اور مجھے فاطمہ کو چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہونا پڑتا۔ فاطمہ کے پہلے دو تین سال اسے باقاعدگی سے وقت دیا تو اتنے عرصے میں وہ خود توجہ دینا ذمہ داری لینا سیکھ گئی اور اس نے گریڈ تین کے بعد اپنی پڑھائی کی ذمہ داری اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ دو تین سال بچے کے ساتھ بیٹھ کر بچے کو ذمہ داری لینی سکھا دی جائے، اسے دکھا دیا جائے کہ یہ کام کرنا ہے ہر حالت میں، اور اسے ایک اچھی پوزیشن پر رہنے کی عادت ڈال دی جائے، اس کے لئے مطلوبہ طریقہ سکھا دیا جائے تو بچہ تین چار سال میں سولو فلائیٹ لینے لگتا ہے۔
آمنہ کو اگرچہ فاطمہ کی موجودگی کو تھوڑا بہت برداشت کرنا پڑا مگر اس کے لئے زیادہ مسئلہ نہ ہوا۔ شاید اس کی ذہانت کا معیار زیادہ بہتر تھا اس لئے وہ فاطمہ جیسی بلا شرکت غیرے توجہ کے نہ ہوتے بھی آرام سے پڑھتی اور سیکھتی چلے گئی۔ پھر دونوں کو پڑھنے کے لئے بھرپور توجہ کے ساتھ وقت ملتا رہا۔ اس میں ان کی خدادا د صلاحیت بھی ہے تو ممی کی کی محنت اور سکھایا ہوا ارتکازبھی۔
صلاحیت خدا ہر انسان کو دیتا ہے اسے نکھار کر اس سے فایدہ اٹھا لینا انسان کے اختیار میں ہے۔ بہت سے دلوں میں یہ بات آج بھی دُکھتی ہو گی کہ ان کو پڑھائی کی طلب تو بہت تھی مگر صحیح رہنمائی، وقت یا وسائل نہیں ملے۔ ممی ان حالات میں بہت سی رہنمائی دے سکتی ہے اور اس کے لئے ممی کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، کروانے کی نہیں۔ آپ سمجھ لیں کہ آپ کے دوبارہ پڑھنے کا وقت ہے، اسے پڑھانے کا وقت مت سمجھیں۔ سب سے زیادہ محنت آپ کو خود کرنی ہے۔
فاطمہ کو پڑھانے کے لئے ہفتہ کی صبح کا وقت بہترین تھا کہ جمعہ کی چھٹی فرصت سے گزار کر ہفتہ کی صبح وہ ذہنی طور پر پڑھنے کے لئے آسانی سے تیار ہو سکتی تھی۔ دوسرا، میں نے اسے ایک عادت بنایا تاکہ ہر ہفتے نئے سرے سے اسے کام کے لئے تیار نہ کرنا پڑے بلکہ اس کو پہلے سے پتا ہو کہ آج اس وقت اس کو پڑھنا ہے۔
صبح سویرے یعنی صبح کا سب سے پہلا کام! ۔ اب میاں صاحب آفس کے لئے نکلتے تو سارے کام چھوڑ کر ہر ذمہ داری اور سوچ پش پشت ڈال کر، گھر کے سب سے الگ کونے میں دروازے بند کر کے فاطمہ کو لے کر ممی کا بیٹھ جانا۔ موبائل بند، فون بند۔ رسالے اخباریں، کتابیں ہر چیز توجہ سے دور۔ ہر سوچ ہر فکر ہر ذمہ داری سے اپنے دماغ کو آزاد کرنے کی کوشش کرنا۔ آمنہ ابھی چھوٹی تھی اور دس بجے تک اٹھتی تھی اس لئے اس کے کپڑے بدلنے، کھلانے پلانے کے اوقات سے پہلے مجھے وہ قیمتی وقت استعمال کرنا تھا جس نے فاطمہ کی ذہنی صلاحیت میں بہت اضافہ کیا۔
صبح کا پہلا کام اگر پڑھائی کیا جایے تو اس کا مطلب ہے، بچے کی اور آپ کی توجہ ابھی دن کے بکھیڑوں سے بگڑی نہیں اور کچھ بھی سیکھنے کے لئے بالکل بہترین صورت میں موجود ہے تو یہی وقت ہے اسے سب سے قیمتی مقصد کے لئے استعمال کرنے کا۔ اور اس سے پہلے کوئی ٹی وی، موبایل، ٹیں بلٹ یا گیمز نہیں۔ بچے کا دھیان کسی اور چیز کی طرف چلا گیا تو پھر اسے واپس خالی کرنا ناممکن۔ یاد رہے تب فاطمہ کی عمر چار سال تھی اور کلاس کے جی ٹو۔ اور ہمارا پڑھائی کا شیڈول اس کے سیلبس اور سکول کے پڑھانے کے طریقے کے حساب سے ہفتہ میں ایک دن ہفتہ کے روز تھا۔ اب یہ وہ ماحول اور وقت حاصل ہو گیا جو ممی اور ممی کی بیٹی کو مکمل توجہ سے پڑھنے اور پڑھانے کے لئے درکار ہے۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

