ممی کی ڈائری: ممی اور بچوں کی پڑھائی


پڑھاتے ہوئے بچے کی مکمل توجہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ممی بچے کو وہ مکمل توجہ دے رہی ہو۔ اگر موبائل ممی کے گھٹنے کے نیچے ہوا اور بار بار ٹون ٹون کرے گا یا بچے کے لکھنے کے دوران ممی موبائل پر یا اخبار رسالے پر یا ٹی وی کی سکرین پر نظر رکھے گی تو بچہ بھی وہی کرے گا۔ اور کبھی بھی وہ توجہ پڑھائی کو نہیں دے سکے گا جو ممی اس سے چاہتی ہے۔ آپ کی توجہ کا ذرا سا ادھر ادھر بٹھکنا آپ کے بچے کی توجہ کا ارتکاز خراب کرے گا۔

اس لئے اس دوران ہر مصروفیت گھر کے دوسرے کونے میں چھوڑ آتی اور سو فی صد توجہ فاطمہ کی پڑھائی، اس کے چہرے، اس کی نظروں، لفظوں اور انگلیوں کی طرف لگا دیتی۔ جسے کہتے ہیں پورے جسم سے متوجہ ہونا۔ ، اس کے الفاظ لکھنے کی رفتار اور طریقہ، اس کی ہینڈ رائٹنگ، اس کے ہاتھ، اس کی سوچ ہر ہر ایک چیز پر نظر رکھنا ممی کا بنیادی کام تھا۔

جتنا ممی کا اپنا دماغ ٹینشن فری سٹریس فری ہو گا اتنی دلچسپی سے وہ پڑھا سکے گی اور اتنی ہی دلچسپی سے بچہ پڑھ سکے گا۔ ماں کے دماغ میں شور برپا رہا تو جس بچے کو آپ سکھانے کی کوشش کر رہی ہیں وہ بھی تمام تر صلاحیت کے باوجود سیکھ نہ سکے گا۔ پھر چاہے اس کے کان مروڑ لیں یا ڈنڈے لگا دیں۔ ممی کو اپنے دماغ اور خیال کی کنٹرول تھراپی کی بہت شدید ضرورت ہے۔ ہر ٹینشن، سٹریس، کھانے بنانے کی فکر، کپڑے دھونے کے اوقات، کسی کا فون، کسی کا حکم ہر سوچ کو کمرے سے باہر پھینک دیں اور اپنے بچے کے ساتھ اس دنیا میں پہنچ جائیں جہاں صرف آپ ہوں، آپ کا بچہ اور دونوں کی مکمل توجہ کے ساتھ پڑھائی۔ جب جب ممی نے یہ معرکہ کامیابی سے سر کیا میں نے فاطمہ کی کارکردگی سو فی صد پائی۔ اور اس کی توجہ قابل رشک۔ اور جب بھی میں اپنی سٹریس کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی یا بچے وقت سے پہلے جاگ کر مجھے دوسری ذمہ داریوں میں الجھنا پڑا میں فاطمہ سے کچھ بھی حاصل نہ کروا سکی۔

محمد میرا سب سے چھوٹا بچہ تھا۔ دو بیٹیوں کے بعد بیٹا۔ بیٹیاں دونوں نیند کی چور۔ چناچہ وہ جو صبح کا بے مثال وقت تھا جب باقی سب کے سوتے میں فاطمہ یا آمنہ کو توجہ سے سب کچھ پڑھا دیتی تھی محمد کو نہ مل سکا۔ کہ اس کے اٹھنے سے پہلے ہی دونوں نیند کی چور بچیاں اٹھ چکی ہوتیں۔ اب چھوٹا ہونے کی وجہ سے جاگتے کھیلتے ہوئے آس پاس پھرتے شور مچاتے بچوں سے محمد کی توجہ ہٹانی مشکل تھی۔ بچے تو بچے ہیں نہ بڑے بچوں کو خموش اور نچلا بٹھایا جا سکتا نہ چھوٹے بچے کو ان کی طرف متوجہ ہونے سے روکنے کا کوئی حربہ تھا۔

صورتحال بھی ایسی کہ تینوں کی زندگی کا تماتر محور ممی تھی۔ گھر میں دادا دادی، چاچا پھپھو جیسا کوئی بھی رشتہ نہ تھا جو کچھ دیر کے لئے بڑے دونوں بچوں کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ بچیاں محمد کے اٹھنے سے پہلے کام کر لیتیں اور محمد کو وہ تنہا یکسوئی میسر نہ آتی جب صرف ممی کی آواز ہو اور آس پاس سے توجہ کی طالب کوئی بھی ترغیب نہ ہو۔ بچیوں کو کام یاد آتے، کسی کو بھوک لگتی کسی کا کھیلنے کا من کرتا، اب چھوٹے کی پڑھائی کی خاطر بڑی دونوں کو کھیلنے سے کیسے روک دیتی۔

پھر بھی بہت پابندیاں لگاتی مگر کبھی تھک کر چھوڑ دیتی کہ کر ہی لے گا یہ بھی۔ اور نتیجہ وہی تھا کہ بچوں کی زیادہ مصروفیات کی وجہ سے ممی کا دماغ بھی یکسو نہ ہو پاتا اور ممی کے بیٹے کا بھی نہیں۔ چھوٹا سا بچہ کتاب کاپی پر فوکس نہ کر پاتا تو میں بھی اٹھ جاتی۔ اتنے کام پڑے ہوتے ہر وقت کرنے والے، دھیان کسی بھی کام میں الجھ کر بٹ جاتا۔ زیادہ دیر تک ٹینشن لینے کی مہلت بھی نہ ملتی۔

محمد بھی کوشش کرتا ہی رہا کم سے کم اتنی کہ مجھے کوئی فکر نہ ہوئی چلو نوے فی صد نہ سہی اسی ہی سہی۔ یہی بہت ہیں۔ زیادتی کی تھی ناں میں نے! بات تو تب بگڑی جب بیماری کی وجہ سے غیر حاضری ہوئی اور سب کچھ بگڑ کر رہ گیا۔ اب تو کچھ بھی ہو جائے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔ چاہے جتنا بھی وقت ملے، چاہے جیسا بھی ارتکاز توجہ ہو، کام تھا کہ کرنا ہی تھا، اور پڑھانے سے زیادہ مشکل پڑھائی کی طرف اس کے رویے کو بدلنا تھا جو بے تحاشا خوفزدہ ہو چکا تھا۔

اس کے لئے بہت کچھ کیا۔ بورڈ پر لکھوا لکھوا کر سپیلنگز یاد کروائے۔ ایک ایک لفظ پر کئی کئی منٹ لگوائے، ورک شیٹس بنا بنا دروازوں اور دیواروں پر لگائیں۔ سورتیں یاد کروانے کے لئے یوٹیوب کا سہارا لیا۔ غرضیکہ جتنی اللہ نے توفیق اور وقت دیا اور جو کچھ بن پایا کیا۔ اور آہستہ آہستہ تین چار ماہ میں تھوڑا تھوڑا کرتا الحمدللہ محمد دوبارہ سے واپس اپنی پہلی پوزیشن پر واپس آیا۔

ہماری غلطیاں اپنی جگہ اور ہمارے مسائل اپنی جگہ۔ کچھ کمزوریاں ہماری مجبوریوں کے سبب ہوتی ہیں۔ دل دکھتا ہے یہ سوچ کر کہ پہلے بچے جیسی توجہ آخری بچے کو نہ دے سکی۔ پھر خود کو سمجھاتی ہوں کہ یہ مسائل میری حقیقت تھے اور میرے پاس ان کا کوئی حل نہ تھا۔ تو جب کوئی حل ہی نہ ہو تو پھر پچھتاوے سے کیا حاصل۔ ممی کو بھی اکثر خود کو معاف کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ شکر تو یہ ہے کہ جب مشکل پڑی تو اس کا حل ممکن ہو گیا۔ اک نقصان ہوا تھا جو بالآخر اللہ کے کرم سے پورا ہوا۔ اس پر شکر کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ آخر زندگی کا ہر رخ ہر صورت آئیڈیل تو نہیں ہو سکتی ناں!

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3