آدم خور قبیلہ اور ایک پراسرار بیماری ‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 12
  •  

”انسانی گوشت بہت مزیدار ہوتا ہے، بس اوپری جلدی تھوڑی کڑوی ہوتی ہے باقی کا گوشت بہت مزیدار ہوتا ہے۔ “ جنگلی قبیلے کی عورت کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ”جب بھی ہمارا کوئی عزیز مرتا ہے تو اس کے قریبی رشتہ دار اس کی لاش کو پکا کر کھاتے ہیں، خاندان کی سب سے بڑی عورت اس لاش کو پکاتی ہے۔ لاش کے ہاتھ بہو کو کھلائے جاتے ہیں اور یہ اس کے لئے قابل فخر بات ہوتی ہے۔ “

یہ الفاظ پاپوانیوگینیا کے ایک جنگجو قبیلے کے افراد کے تھے جو کہ آدم خور بھی تھے۔ سب کچھ روٹین کے مطابق چل رہا تھا۔ آدم خوری بھی اور زندگی کاسفر بھی، لیکن پھر ایک نامعلوم بیماری سامنے آگئی۔ یہ بیماری انتہائی عجیب تھی اس میں پہلے مریض کے سر میں درد ہوتا، یوں لگتا کہ بخار ہورہا ہے مگر پھر اس مریض کا جسم کانپنا شروع ہوجاتا اور وہ مریض لڑکھڑانے لگ جاتا، اور آخر میں مکمل بے جان ہوجاتا۔ چونکہ دور دراز علاقے کے لوگ تھے سو توہم پرست بھی تھے۔

انہوں نے اس بیماری کو جادو کا نام دے دیا اور ایک گاؤں کا کوئی شخص بیمار پڑتا تو اس گاؤں کے لوگ تعویذ دھاگے اور جادو کا الزام لگا کر دوسرے گاؤں کے لوگوں پہ حملہ کردیتے اور ان کو اس گھناؤنے فعل پہ قتل کر دیتے۔ لیکن بیماری تھی کہ پھیلتی ہی جارہی تھی۔ اس بیماری کا شکار عورتیں اور بچے زیادہ ہورہے تھے۔ جبکہ بہت کم مرد اس بیماری کا شکار ہورہے تھے۔


سن انیس سو ستاون ہے میڈیکل کالج کے طالب علم ڈاکٹر مائیکل الپس نے آج اخبار پڑھتے ہوئے ایک حیران کن خبر دیکھی خبر یہ تھی کہ ایک نامعلوم بیماری کی وجہ سے جنگلی ضلع اوکاپا کے ”فور“ لوگ دھڑا دھڑ مر رہے ہیں اس نامعلوم بیماری کا کچھ بھی علم نہیں، یہیں سے ڈاکٹر مائیکل کی جستجو کا سفر شروع ہوتا ہے اور حیران کن طور پہ اس کی اپوائنمنٹ بھی اسی علاقے میں کروا دی جاتی ہے اور یہ اس علاقے کا پہلا میڈیکل افسر بن جاتا ہے۔

ڈاکٹر مائیکل اپنے آفس کو چھوڑ کر ان جنگلی لوگوں میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے تاکہ وہ کرو نامی اس بیماری کو زیادہ سے زیادہ جان سکے۔ وہاں کافی تجربات کے باوجود اس بیماری کے لنک کا کچھ بھی نہیں پتا چلتا۔ جبکہ اسی طرح کی ایک بیماری بھیڑوں میں بھی ملتی ہے۔ ان کے دماغ کے تجزئے کے بعد پتا چلتا ہے کہ ان کے دماغ میں سوراخ بن چکے تھے مگر کیا یہ بیماری انسانوں میں بھی ایک سے دوسرے میں ٹرانسفر ہوتی ہے کہ نہیں؟

مگر اس تجربے کے لئے ٹیسٹ کیس ملنے کے لئے دس سال انتظار کرنا پڑا۔ آخرکار دس سال بعد ایک ٹیسٹ کیس بچی جس کو ڈاکٹر فالو کررہا تھا وہ فوت ہوجاتی ہے اور ڈاکٹر اس کے دماغ کے ٹشو لے کر سیدھا نیویارک چلا جاتا ہے جہاں لیبارٹری میں دو بندروں کا پہلے سے انتظام ہوچکا تھا۔ اب اس نامعلوم وائرس والے ٹشو بندروں میں ٹرانسپلانٹ کردیے جاتے ہیں اور ایک بار پھر سے انتظار شروع ہوجاتا ہے۔ یہ انتظار زیادہ لمبا نہیں تھا بلکہ دوسال کے عرصے میں بندروں میں یہ علامات شروع ہونا ہوچکی تھیں۔ اور اب اس بات کا کنفرم ہوچکا تھا کہ یہ ایک نیوروڈیجنرٹیو بیماری تھی۔ اور میڈیسن میں یہ دریافت ایک حیران کن دریافت تھی جس کی بنیاد پر مائیکل کو نوبل انعام ملا۔ مگر ابھی سفر ادھورا تھا سوال باقی تھے۔ یہ بیماری کیسے پھیلتی تھی اس کا پتا لگانا تھا اور اس بیماری کو پھیلانے والے جادوگر وائرس کا بھی۔


مائیکل واپس پاپوانیوگینیا پہنچ گیا تھا اب کی بار اس کا کام تھوڑا آسان تھا کیونکہ اس کو کنفرم ہوچکا تھا کہ یہ بیماری آدم خوری سے پھیلتی تھی۔ اس بار اس پر حیران کن انکشاف بھی ہوا وہ انکشاف یہ تھا کہ جب کوئی قریبی عزیز مرتا ہے تو اس کی لاش کو عورتیں پکاتی ہیں اور عورتوں کی ایک بڑی تعداد اس لاش کو کھاتی ہیں جبکہ مرد خاص کر جنگجو مرد اس لاش کو نہیں کھاتے تھے کیونکہ یہ ان کو کمزور کر سکتی تھی۔ سو مائیکل کو یہ جواب بھی مل گیا کہ یہ بیماری آدم خوری سے پھیلی۔

مگر اس بیماری کا پہلا کیس کیسے سامنے آیا اس سوال کا جواب مائیکل کو نا ملا اور ملتا بھی کیسے؟ جبکہ ان جنگجوؤں کے پاس کو ڈاٹا موجود ہی نا تھا اپنی تاریخ نا تھی۔ سو مائیکل اس پزل کو حل نا کرسکا۔ اٌدھر انگلینڈ میں پاگل گائے کا گوشت کھانے سے بہت سے لوگ بیمار ہونا شروع ہوگئے ڈیڑھ سوکیس سامنے آئے جن کی علامات ”کرو“ کے ساتھ ملتی تھی۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ اس بیماری کو پھیلانے والا اور کرو کو پھیلانے وال ایجنٹ ایک ہی ہے تجزیوں سے پتا چلا کہ یہ وائرس کی اک نئی قسم تھی بائیوکیمسٹ سٹینلی نے اس کو وائرس کہنے کی بجائے پریون کا نام دیا اور بیس سال بعد نوبل انعام جیتا۔

لیکن یہ بیماری کیسے پھیلتی تھی اورکیوں اس کا جواب نہیں ملا تھا۔ لیکن اب ہمارے پاس اس سوال کا جواب موجود ہے۔ ہمارے دماغ میں موجود پروٹین کی مس فولڈنگ کی وجہ سے یہ بیماری شروع ہوتی ہے لیکن جب ان انفیکٹڈ لوگوں یا جانوروں کا گوشت انسانوں نے کھایا تو یہ غلط پیک شدہ پروٹین ان کے جسم میں بھی چلے گئے وہاں سے یہ دماغ تک پہنچ اور دماغ کے ایک سیل پر حملہ کرکے اس کو بھی میوٹنٹ سیل بنا دیا اور یہ اک سیل سے شروع ہونے والا سلسلہ پورے دماغ کے پروٹین سیلز کو خراب کرنے لگا۔ اور یوں یہ بیماری شروع ہوئی۔

انیس سو اسی کے بعد اس قبیلے نے آدم خوری کم کر دی جس کے نتیجے میں یہ بیماری تقریباً ختم ہوگئی۔ لیکن ہمیں ایک نئے وائرس کی پہچان دے گئی جوکہ انتہائی مہلک ہے اسے ہم پریون کہتے ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 12
  •  
ضیغم قدیر کی دیگر تحریریں
ضیغم قدیر کی دیگر تحریریں