سمجھ نہیں پائی کہ لوگ اس پوسٹر سے اتنا خوفزدہ کیوں ہو گئے

عمار ابراہیم - بی بی سی کہانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب رومیسا لاکھانی اور راشِدہ شبیر حسین نے عورتوں کے بین الاقوامی دن کے موقع پر ایک جلوس کے لیے پلے کارڈز بنائے تھے تو اُن کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ پورے ملک میں ہر ایک کا موضوعِ بحث بن جائیں گے۔

عالمی یومِ خواتین سے ایک دن پہلے بائیس برس کی دو طالبات نے کراچی یونیورسٹی میں پوسٹرز بنانے کے ایک سیشن میں شرکت کی تھی۔ یہ کچھ اس طرح کا پوسٹر بنانا چاہتی تھیں جو سب کی توجہ کا مرکز بن جائے۔ انھوں نے اس پر سوچ بچار شروع کردی۔ ان کی ایک دوست وہاں ٹانگیں پھیلائے قریب ہی بیٹھی تھی۔ اس انداز کو دیکھ کر ان کے ذہن میں خیال پیدا ہوا کہ وہ اس انداز پر پوسٹر بنائیں۔

رومیسا کے مطابق عورتوں کے بیٹھنے کے انداز پر معاشرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی بات ہوتی رہتی ہے۔ ’ہمیں باوقار نظر آنا چاہیے، ہمیں اپنے جسم کے خد و خال بہت عیاں نہیں کرنے چاہیے۔ مرد اگر ٹانگیں کھول کر یا پھیلا کر بیٹھیں تو اِس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے۔‘ رومیسا نے اپنے پوسٹر پر ایک ایسی عورت کی تصویر بنائی جو بے باک انداز میں عینک لگائے ارد گرد کے ماحول سے بے پرواہ ٹانگیں پھیلائے بیٹھی ہے۔

اُس کی دوست راشِدہ نے اُسے اِس پوسٹر کے لیے ایک موزوں سا نعرہ بنا کر دیا۔ راشِدہ کی کوشش تھی کہ وہ اس بات کو پیش کرنے کی کوشش کرے کہ کس طرح معاشرہ ایک عورت سے توقع کرتا ہے کہ وہ ’کیسے بیٹھے، کیسے چلے، کیسے بات کرے۔‘ اس طرح انھوں نے ایک سُرخی سوچی ’لو بیٹھ گئی صحیح سے۔‘

رومیسا اور راشِدہ کی پہلی ملاقات حبیب یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ رومیسا کمیونیکیشن ڈیزائین کی طالبہ ہیں جبکہ راشِدہ سوشل ڈیویلپمنٹ اینڈ پالیسی کی طالبہ ہیں۔ راشِدہ کہتی ہیں ’ہم دونوں بہترین دوست ہیں۔ ہم اکٹھا ہنستے ہیں، ہم ایک دوسرے کو اپنی اپنی باتیں بتاتے ہیں۔‘ وہ صنفی تفریق کے ذاتی تجربات کی وجہ سے جذباتی حد تک عورتوں کے حقوق کے بارے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

رومیسا کے لیے جلد شادی کے خاندانی دباؤ سے نمٹنا روز کا معمول ہے۔ انھوں نے اب تک شادی نہیں کی ہے اور وہ اسے اپنی فتح سمجھتی ہیں۔ راشِدہ کہتی ہیں کہ انھیں عموماً گلیوں میں سڑکوں پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اس خیال سے پریشان ہوتی ہیں کہ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ جلد شادی کرکے ایک گھریلو خاتون بن جائے۔ اس لیے یہ دونوں طالبات پچھلے ماہ پاکستان کے شہروں میں ہونے والے کسی ایک عورت مارچ میں شرکت کی بہت خواہشمند تھیں۔

‘یہ ایک بڑے ہی کمال کی بات تھی کہ اتنی ساری خواتین، عورتوں کے حقوق کے لیے نعرے لگا رہی ہوں گی۔‘ رومیسا کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک قسم کی ہماری طاقت کا مظاہرہ تھا اور میرا خیال ہے کہ اس مارچ میں شامل ہر عورت اپنے آپ کو با اختیار محسوس کر رہی تھی۔‘ عورتوں کے حقوق کے لیے نکالے جانے والے جلوسوں میں یہ عورت مارچ خواتین کے حقوق کے لحاظ سے خاص حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں اس سے پہلے بھی عورتیں بڑی تعداد میں ایسے جلوسوں میں شرکت کر چکی ہیں۔

ان مظاہروں میں طبقاتی تقسیم سے بالا تر ہو کر شرکت کی جاتی ہے جس میں ہم جنس پرست مرد اور خواتین کہ علاوہ مخنث یا ایل جی بی ٹی کہلانے والی کمیونیٹی کے ارکان بھی شامل ہوتے ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کی سنہ 2018 کی رپورٹ میں پاکستان کو صنفی برابری کے معیار کے لحاظ سے دنیا کا بد ترین سطح یا 149ویں نمبر کا معاشرہ قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان سے بدتر معاشرہ صرف یمن کا تھا۔ پاکستان میں عورتوں کا گھریلو تشدد کا نشانہ بننا، اُن کی زبردستی شادی ہونا اورجنسی ہراسیمگی کا نشانہ بننا معمول کی بات ہے۔ یہاں عورتیں عزت کا نام پر قتل بھی کردی جاتی ہیں۔

اس برس ہونے والے عورت مارچ کے جلوسوں میں بنائے گئے پلے کارڈز اور پوسٹرز جنسی موضوعات پر بھی تیار کیے گئے تھے اور اس قدامت پسند معاشرے میں انھوں نے ایک شدید ردِ عمل پیدا کیا۔ اس مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان پوسٹروں کے خلاف رد عمل اس لیے تھا کیونکہ یہ مردوں کے اس تصور کو چیلینج کرتے ہیں کہ مرد عورتوں کے اپنے جسم اور رویے کا تعین کرنے کا مجاز ہیں۔ ان جلسوں کی ایک منتظم مُنیزا کہتی ہیں کہ ’ہم عورتوں کے جسم کے صنفی رویے کے بارے میں مردوں کی طاقت کو چیلینج کر رہے ہیں۔ یہ ایک مذہبی اقدار کا معاشرہ ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ عورت اپنے جسم کو ڈھانپ کر رکھے۔ ہم اسی خیال کو چیلینج کر رہے ہیں۔‘

رومیسا کا کہنا ہے کہ ان جلوسوں میں ساڑھے سات ہزار خواتین کی شرکت کے مناظر نے قدامت پسندوں کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ’اتنے شور کے ساتھ سڑکوں پر آکر ایسا کرنے نے کئی لوگوں کو پریشان کردیا ہے۔ لوگ کہہ کرہے ہیں کہ یہ اسلام کے لیے خطرہ ہے، لیکن میرا ایسا خیال نہیں ہے۔ اسلام تو حقوقِ نسواں کا مذہب ہے۔‘

اس جلوس کے بعد ابھی رومیسا گھر بھی نہیں پہنچیں تھیں کہ انھیں احساس ہو گیا تھا کہ ان کے پوسٹر کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

فیس بک پر ایک کمنٹ تھا ’میں اپنی بیٹیوں کے لیے ایسا معاشرہ نہیں چاہتا ہوں۔‘ ایک اور کمنٹ تھا ’میں ایک عورت ہوں لیکن میں اس بات سے اچھا محسوس نہیں کرتی ہوں۔‘ جبکہ ایک اور کمنٹ میں کہا گیا تھا کہ ’یہ عورتوں کا دن تھا، نہ کہ کتیاؤں کا دن۔‘

تاہم بہت سارے لوگوں نے پلےکارڈ کے پیغام کی حمایت بھی کی تھی۔ ایک خاتون نے ٹویٹ کیا کہ ’میں واقعی اس بات کو سمجھ نہیں پائی ہوں کہ لوگ اس پوسٹر کے الفاظ سے اتنا خوفزدہ کیوں ہوگئے ہیں جبکہ اصل میں تو انھیں پاکستان میں عورتوں کی غلامانہ حیثیت پر کراہت محسوس کرنی چاہیے۔‘

رومیسا کو ان لوگوں کی جانب سے بھی پیغامات ملے جنھیں وہ جانتی تھیں۔ ایک نے کہا ’ہمیں یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ تُم نے کیا۔ تُم تو ایک با حیا خاندان سے تعلق رکھتی ہو۔‘ رومیسا کے رشتہ داروں نے اس کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ انھیں ان جلسوں میں شرکت کرنے سے روکیں۔ اس دباؤ کے باوجود رومیسا کے والدین نے اس قسم کے مظاہروں میں شرکت کے فیصلے پر اس کی حمایت برقرار رکھی۔

اس مظاہرے میں ایک اور پلے کارڈ پر ایک یہ نعرہ بھی تھا ’میرا جسم میری مرضی‘۔ سما ٹی وی چینل کے مطابق، اس نعرے کی وجہ سے کراچی کے ایک مذہبی رہنما نے اپنے خطبے میں ان عورتوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ’میرا جسم میری مرضی ۔۔۔۔۔ تمہارا جسم تمہاری مرضی ۔۔۔ تو پھر تو مردوں کے جسم اور مردوں کی مرضی ۔۔۔ وہ بھی جس پر چاہیں چڑھ سکتے ہیں۔‘ مولانا منظور احمد مینگل کی یہ تقریر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہے۔ ان مولانا پر تنقید کرنے والوں نے ان پر لوگوں کو ریپ پر اکسانے کا الزام لگایا ہے اور مارچ کی منتظم مُنیزہ نے کہا ہے کہ ’اس مارچ کے بعد سے ریپ اور قتل کی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔‘

مُنیزہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس مارچ کے منتظمین پر ریپ اور قتل جیسی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ میرے خیال میں مردوں میں یہی وہ عورتوں سے نفرت کے خیالات ہیں جن کو ہم نے چیلینج کیا ہے۔‘ اس عورت مارچ نے پاکستان میں حقوقِ نسواں کی تحریک کو بھی تقسیم کردیا ہے۔ حقوقِ نسواں کی حامی کئی خواتین نے بھی اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ رومیسا کے مطابق، ان خواتین کا کچھ ایسا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی اہم مسائل نہیں ہیں، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ عورت کس طرح بیٹھے۔ میری اپنی دوست جو اپنے آپ کو حقوقِ نسواں کی حامی کہتی ہے، ایسے پوسٹر کو غیر ضروری سمجھتی ہے۔‘

کشور ناہید جیسی حقوقِ نسواں کی حامی سمجھتی ہیں کہ رومیسا اور راشِدہ کا پلے کارڈ معاشرتی اقدار اور روایات کی توہین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو یہ سمجھتی ہیں کہ اس طرح کے پلے کارڈز سے وہ زیادہ حقوق حاصل کرلیں گی، وہ جہادیوں کی طرح گمراہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ معصوم اور بے گناہ شہریوں کو قتل کر کے وہ جنت میں جائے گے۔ لیکن انگریزی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے سعدیہ کھتری کے ایک آرٹیکل نے کشور ناہید پر حقوقِ نسواں کی تحریک کا ساتھ نہ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جن پوسٹروں کو ’بے ہودہ‘ کہا جا رہا ہے انھیں گلے لگانا چاہیے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہمیں ان پوسٹرز کو اپنانا چاہیے اور ان کے اور بڑی سطح پر ’حقوقِ نسواں کی جدوجہد‘ کے درمیان تعلق دیکھنا چاہیے اور انھیں اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔

ایک لڑکی کا اپنی مرضی سے ٹانگیں کھول کر بیٹھنے کا حق دراصل معاشرے کی سرزنش یا ہراسیمگی کے خوف کے بغیر اس کا اپنے جسم پر اختیار حاصل کرنے کا حق ہے۔ یہ اُس کا آزادی کے ساتھ گھومنے کا حق ہے، یہ مسئلہ ایسے ہے کہ جیسے کہ جس لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اُسی کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔ یہ پوسٹر ایسی سوچ کے خلاف ایک مزاحمت ہے۔ لڑکی جیسے چاہے بیٹھے، اُس پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔

اس متنازع بحث کے باوجود رومیسا کو پوسٹر بنانے پر کوئی تاسف نہیں ہے۔ ’میں تو اس بات پر خوش ہوں کہ میرے پوسٹر کو انتی زیادہ توجہ ملی۔‘

’میں اس پوسٹر کی وجہ سے نہ شرمندہ ہوں اور نہ ہی خوفزدہ ہوں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایسے ہی نعروں کے ذریعے تو یہ بتا رہے ہیں کہ یہی ہمارے مطالبات ہیں، عورتوں کے مارچ میں ہر قسم کے ایشوز پر بات ہونا چاہیے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10827 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp