افتخار مجاز بھی رخصت ہوئے


موت برحق ہے اور ہر ایک کو آنی ہے۔ لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے بچھڑنے کا دکھ بہت تکلیف دیتا ہے۔ اگرچہ یہ محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ کوئی آپ کا پیارا آپ سے بچھڑنے والا ہے، مگر امید کا ایک پہلو ہوتا ہے کہ شاید وہ نہ جائے اور ہمارے درمیان ہی رہ کر ویسے ہی وقت گزارے جیسے گزار رہا ہوتا ہے۔ لیکن موت کو کون ٹال سکتا ہے۔ بعض شخصیات کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ بچھڑنے کے باوجود ہمیشہ آپ کے دل میں ہی رہتے ہیں۔ افتخار مجاز بھی ایک ایسا ہی فرد تھا۔ اپنی ذات میں انجمن اور ایسا خود دار کہ اپنے دل کا دکھ بھی زبان پر لانے کی بجائے ہمیشہ ہنس کر اندر کے دکھ کو چھپانے کی کوشش کرتا تھا۔ ساری زندگی جدوجہد کی علامت ریٹائرمنٹ کے باوجود کام کرنے کا جنون اور جدوجہد کا سفر ختم نہیں ہوا تھا۔ علم دوست افتخار جب زندگی کے آخری حصہ میں تھا تو محض چند دن قبل ہسپتال سے فیس بک پر دوستوں سے پوچھتا ہے کہ میں ہسپتال میں ہوں کچھ نئی کتابیں چھپی ہیں تو براہ کرم ان کے نام بتا دیں۔ میں بازار سے منگواکر پڑھنے کی کوشش کروں گا۔ جو بھی اسے کتاب تحفہ میں دیتا تو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ افتخار کا دوست بن گیا ہے۔ مجھے جب بھی کچھ نئی کتابیں ملتیں تو ان کی ایک ہی درخواست ہوتی کہ اسے پڑھنے کے بعد مجھے مطالعہ کے لیے ضرور دینا۔

افتخار مجاز بنیادی طور پر الیکٹرانک میڈیا کے فرد تھے۔ پی ٹی وی ان کی اصل پہچان تھی۔ کرنٹ افیرز سے ان کا تعلق تھا اور شہر کی تمام سیاسی اور سماجی و ادبی مجالس ان کی پہچان تھی۔ شہر میں کوئی بھی علمی و فکری مجلس ہو افتخار مجاز اس کا حصہ ہوتے تھے۔ بحث ومباحثہ میں ہمیشہ نیا نکتہ تلاش کرتے اور ایسے سوالات کرتے جو علم و فہم کے نئے دریچے کھولنے کا سبب بنتے تھے۔ مجھے ذاتی طور پر الیکٹرانک میڈیا میں پہلی بار بطور تجزیہ کار انہوں نے ہی  پی ٹی وی پر متعارف کروایا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پی ٹی وی کے علاوہ کوئی ٹی وی نہیں تھا اس دور میں جو میڈیا پر بولنے کی تربیت افتخار مجاز نے سکھائی وہی آج بھی کام آ رہی ہے۔

وہ کافی عرصہ سے مختلف بیماریوں سے لڑرہے تھے۔ لیکن مایوس نہیں تھے دو سے تین بار بیماری کے دوران ملا تو غمگین ہونے کی بجائے علم پر مبنی گفتگو ہی کرتے رہے۔ فرخ سہیل گوئندی کا دفتر ہو، تنویر شہزاد کا گھر یا خالد رسول کی محفلیں یا کاسمو کلب کا مرکز ہو افتخار مجاز سب کا عملی طور پر افتخار ہوتا تھا۔ محفل کو زندہ رکھنا اور بھرپور بنانا بشمول قہقوں کے ساتھ یہ کمال افتخار ہی کا تھا۔ شعر و ادب کا خوب استعمال کرتے اور خشک مجالس کو بھی مختلف اشعار یا واقعات سے رونق دیتے۔

مثبت سوچ کے ساتھ بات کرنا اورہمیشہ محض ماتم پر زور دینے کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھتے تھے۔ میڈیا کے محاذ پر جو کچھ ہورہا ہے اس پر اپنا دکھ بھی سناتے اور کہتے تھے کہ ہم نے میڈیا میں جو کچھ سیکھا پڑھا یا کام کیا وہ یہ میڈیا نہیں تھا جو آج ہمیں دکھایا جا رہا ہے۔ ان کا ایک فقرہ ہمیشہ یاد رہتا کہ جو میڈیا تنقید اورتضحیک کے درمیان فرق کو نہیں سمجھ سکا وہ کیسے لوگوں کی تربیت کرسکتا ہے یا رائے عامہ مثبت طو رپر تشکیل دے سکتا ہے۔

ان سے ابتدائی ملاقاتوں کا سبب میرے والد عبدالکریم عابد مرحوم تھے۔ مجاز صاحب کی میرے والد سے خوب دوستی تھی اوریہ دوستی میرے ساتھ بھی بنی جو ان کی زندگی کے آخری سانس تک قائم رہی۔ ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ جن کی تحریریں پڑھتے تھے ان سے ان پر اپنا اختلاف بھی سلیقہ سے پیش کرتے تھے۔ ان کا فون آتا اور میرے تجزیے پر اپنی کھل کر رائے دیتے اوربعض اوقات ان کی رائے مختلف ہوتی مگر شفقت کے ساتھ اپنی رائے دیتے اور چائے کی دعوت بھی۔ جب کبھی فون پر بات ہوتی تو ایک ہی جملہ کہتے کہ کافی دیر ہوگئی ملاقات کو کوئی سبب پیدا کریں۔ افتخار مجاز سے ملاقات کا سبب ہمیشہ تنویر شہزاد، خالد رسول، شہباز انور خان، فرخ سہیل گوئندی، زابر سعید، ڈاکٹر مغیث الدین شیخ، احمد شیخ، تاثیر مصطفے پیدا کرتے اورکئی کئی گھنٹوں پر محیط گفتگو ہوتی۔

کمال یہ تھا کہ جب افتخار مجاز کو انداز ہ ہوتا کہ اب بہت سیاست ہوگئی تو فوری طور پر محفل کو آسان بنانے کے لیے علم و ادب یا شاعری شروع کردیتے تاکہ لوگ زیادہ بور نہ ہوں، کہتے تھے کہ جب سیاست شخصیات تک محدود ہو اورگفتگو بھی وہی ہو تو جلد ہی موضوع بدل لینا چاہیے۔ سفر کے آدمی تھے اورجو بھی ان کو سفر کی دعوت دیتا تو فوری قبول کرلیتے تھے اور خوب رونق لگاتے۔ اہم بات یہ تھی کہ وہ اپنی ذات میں کمال کی تاریخ تھے۔ ایسے ایسے واقعات، نام اور قصہ کہانیاں جو شخصیات کے ساتھ جڑی ہوتی تھیں ان کے پاس ان کا خزانہ تھا۔ ایک بار میں نے افتخار سے کہا کہ یار ان تمام واقعات کو لکھ ڈالو لوگ بہت پسند کریں گے۔ لیکن کہتے تھے کہ کروں گا، لیکن زندگی کی جال میں جکڑے افتخار مجاز کو یہ وقت ہی نہیں مل سکا کہ یہ کام کرجاتا۔

افتخار مجاز کو میں میڈیا اورسیاست کا انسائیکلوپیڈیا بھی سمجھتا ہوں۔ یعنی معلومات سے بھرا شخص جو سیاست، سماج، ادب، مذہب، صحافت سب بڑے ناموں سے نہ صرف واقف تھا بلکہ خوب آشنائی تھی۔ بڑے بڑے حکمران اور طاقت ور طبقات سے براہ راست رسائی لیکن کبھی بھی ان تعلقات کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا۔ کوئی بھی فرد آپ کو ایسا نہیں ملے گا جو اس کے کردار کی گواہی نہ دے۔ بہت سے لوگ اس سے راضی بھی رہے اور ناراض بھی، لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ جو کرتا تھا اس میں بدنیتی ہوتی تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد عملی طور پر صحافت کرنے کی بجائے پڑھنے، لکھنے کے شوق تک محدود رہے۔ میڈیا سے جڑے طالب علموں کو پڑھایا، لیکن ہمیشہ گلہ کرتے تھے کہ نئی نسل کے لوگ مطالعہ نہیں کرتے اورنہ ہی ان میں شوق ہے۔

اگرچہ افتخار مجاز چلے گئے، لیکن مجھے دو باتوں پر فخر ہے۔ اول میرا ان سے باہمی پیار کا تعلق اور دوئم وہ ایک بھرپور زندگی گزارکر گئے ہیں۔ ان کی زندگی نے مختلف سیاسی اور سماجی ادوار دیکھے اوراس میں جو کچھ ہوا وہ خلاصہ کے طور پر سب کو سناتے۔ دھیمے مزاج کے افتخار مجاز لفظوں کا چناؤ بھی خوب کرتے۔ ان کے بقول اس عمل میں جو مجھے فائدہ ہوا وہ ایک مطالعے کی عادت، علمی و فکری مجلسوں کے اداب کو سیکھنے اور ایسے لفظوں کا چناؤ جو کسی کی دل آزاری نہ کرے، میرے کام آیا۔

شائشتگی سے بات کرنا ان کا کمال تھا اورہر عمرکے لوگوں سے ان کی خوب دوستی ہوتی تھی۔ کھانے پینے کے شوقین افتخار مجاز کو مچھلی کا سالن اور تلی ہوئی مچھلی خوب اچھی لگتی تھی۔ میرے دفتر آتے تو کہتے تھے کہ بس مچھلی منگوا لو میں آتا ہوں۔ تنویر شہزاد اور خالد رسول کے گھر چند ناشتوں کی محفل میں اصل دولہا افتخار مجاز ہی تھے کیونکہ وہی مجلس کو چلاتے اور ان کی اجازت سے ہی سب اپنی گفتگو کرتے تھے۔

افتخار مجاز کے آخری دنوں میں شہباز انور ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا۔ زابر سعید اور علامہ عبدالستار عاصم اور فاروق چوہان سے ہمیشہ ان کے بارے میں آگاہی ملتی تھی۔ علامہ عبدالستار عاصم ان کی بیماری پر بہت پریشان نظر آتے تھے۔ اصل دکھ شہبازانور کا ہے جس کا اصل دوست اس سے بچھڑ گیا ہے۔ سوچتا ہوں کہ اب شہباز انور کس کے ساتھ علمی اور فکری مجلسوں کا ساتھی ہوگا۔ بہرحال اس شہر کا حقیقی مجلسی آدمی ہم سے جدا ہوا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ پورے شہر کو وہ ویران کرگیا ہے۔ لیکن خوشی ہے کہ اس کی یادوں کا ایک بڑا سہارا مجھے اور دیگر دوستوں کو حاصل ہے اور یہی ہمارے ساتھ چلے گا۔

جان دے ہی دی جگر نے آج پائے یار پر

عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا

پھول وہ شاخ سے ٹوٹا کہ چمن ویران ہے

آج منہ ڈھانپ کے پھولوں میں صبا روئے گی

Facebook Comments HS