گورنمنٹ کالج میرپور کے سابق طلبا کی تنظیم اولڈ سروشنیز یونین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرپور آزاد کشمیر کا ایک قدیمی اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ ایک بہت خوبصورت شہر ہے جسے مِنی لندن بھی کہا جاتا ہے۔ گو کہ یہ شہر آج کل زبوں حالی کا شکار ہے۔ یہ شہر 1640 عیسوی میں ایک حکمران میراں شاہ غازی نے آباد کیا۔ قدیمی شہر 1960 کی دہائی میں منگلا ڈیم بننے کی وجہ سے ڈیم کے پانی میں ڈوب گیا۔ اور اس کی جگہ منگلا جھیل کے کنارے بلاہ گالا کی پہاڑیوں پر موجودہ شہر آباد کیا گیا۔

گورنمنٹ کالج میرپور کا قیام آج سے پچھتر سال قبل 1944 میں سری کرن سنگھ کالج میرپور کے نام سے عمل میں لایا گیا۔ اس وقت کشمیر میں ڈوگرہ حکومت قائم تھی۔ پروفیسر جیالال کول کالج کے پہلے پرنسپل تعینات ہوئے۔ 1947 میں آزاد کشمیر کی آزادی کے دوران شورش کی وجہ سے کالج کو بند کر دیا گیا۔ آزاد کشمیر میں سول حکومت کے قیام کے بعد دوبارہ کالج کو 1951 میں کھولا گیا اور پروفیسر صغیر حسین کو کالج کا پرنسپل لگایا گیا۔ ابتدائی طور پر یہ انٹر میڈیٹ کالج تھا جس کو 1955 میں ڈگری کا درجہ دیا گیا۔

میرپور شہر کے زیر آب آ جانے کی وجہ سے یہ کالج ایک بار پھر بند ہوا اور نئے شہر کی تعمیر کے بعد نئی جگہ پر موجودہ عمارت میں کالج 1966 میں منتقل ہوا۔ اس وقت یہ پوسٹ گریجویٹ کالج ہے جس میں 3500 سے زیادہ طالب علم زیر تعلیم ہیں۔

کالج کے مجلہ کا نام ”سروش“ ہے۔ اسی نسبت سے کالج کے سابق طلبا کو ”سروشینز“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ بوجوہ دیگر قدیم تعلیمی اداروں کی طرح عرصہ دراز تک یہاں پر سابق طلبا کی کوئی باقاعدہ تنظیم قائم نہیں ہوسکی۔ چند سال قبل تک اولڈ سروشییٔنز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں اور کچھ پرانے طلبا نے اپنے طور پر اولڈ سروشینز یونین کے قیام کے لئے تگ و دو بھی کی۔ اور اپنے طور پر دو تین تقاریب کا اہتمام بھی کیا۔ لیکن دو سال قبل ادارہ کے ایک سابق طالب علم جناب محمد اعظم خان (R) چیف جسٹس نے اس تنظیم کے قیام کا بیڑا ٹھایا۔

انھوں نے اولڈ سروشینز یونین کے لئے باقاعد ہ کوششوں کا آغاز کیا۔ یونین کا آئین بنایا۔ پرانے طالب علموں کو اکٹھا کیا اور ان کے بہت سے اجلاس ہوے رفقاء کی کوششیں بلا آخر بار آور ثابت ہوئیں۔ اور پچھلے سال اولڈ سروشینز یونین کو باقاعدہ ایک تنظیم کے طور پر قائم کر دیا گیا۔ ڈاکٹر سی۔ ایم حنیف نے اس کے قیام میں عملی طور پر بہت کام کیا۔ اولڈ سروشینز یونین کے قیام کے بعد اس کا پہلا باضابطہ اجلاس مورخہ 31 مارچ 2018 کو کالج کے ہال میں منعقد ہوا۔ اس میں سارے آزاد کشمیر، پاکستان اور بیرون ممالک سے سابق طلبا اور طالبات نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں متفقہ طور پر یونین کے آئین کی منظوری دی گئی۔ اور عبوری مدت کے لئے سب شرکاء کی رضامندی سے عہدے داروں کا چناؤ عمل میں لایا گیا۔

جناب جسٹس (R) محمد اعظم خان سرپرست اعلیٰ، جناب نذر حسین صاحب پرنسپل ادارہ۔ پیٹرن انچیف، صدر جناب محمد اقبال رتیال، نائب صدر محترمہ شہناز اعجاز، نائب صدر چوہدری محمد اسحاق، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر۔ سی۔ ایم حنیف، سیکرٹری مالیت چوہدری محمد شکیل، سیکرٹری اطلاعات ظفر احمد مغل، اس کے علاوہ مجلس عاملہ کا چناؤ بھی ہوا۔

اس سال بھی گزشتہ سال کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے 31 مارچ 2019 کو اولڈ سروشینز یونین کی طرف سے گورنمنٹ کالج کے ہال میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب منعقد کرنے کے سلسلے میں قائم کمیٹی نے بہت پہلے تیاریاں شروع کیں۔ سوشل میڈیا، اخبارات، واٹس ایپ اور میسیجیز کے ذریعے ممبران کو اطلاع دی گئی۔ اولڈ سروشینز کے تمام عہدے داران خصوصاً محمد اقبال رتیال، ڈاکٹر سی۔ ایم حنیف اور چوہدری محمد شکیل نے تقریب کی تیاری کے لئے دن رات کام کیا۔

اور تقریب کے کامیاب انعقاد میں اہم کردار اد اکیا۔ ان کو جناب محمد اعظم خان سرپرست اعلیٰ کی خصوصی سرپرستی حاصل رہی۔ جنہوں نے اس تقریب کے انعقاد میں قیمتی مشوروں سے اس کو باوقار بنایا۔ کالج کے پرنسپل صاحب اور ان کے رفقاء پروفیسر صاحبان اور موجودہ طالب علموں نے تقریب کے لئے بہت کام کیا۔ اور اس کی کامیابی ان کی بھی مرہونِ منت ہے۔

2019۔ 31 مارچ کو منعقدہ اس تقریب میں آزادکشمیر، پاکستان اور بیرون ملک سے سروشینز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس دن کالج میں چھٹی ہونے کے باوجود ایک جشن کا سماں تھا۔ صبح ہی کالج کی پوری انتظامیہ موجودہ طالب علم اور اولڈ سروشینز یونین کے عہدیداران مہمانوں کوخوش آمدید کہنے کے لئے چشم راہ تھے۔ مہمامان گرامی کے لئے ریڈ کارپٹ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ہر آنے والے اولڈ سروشینز کا استقبال ڈھول کی تھاپ پر کیا جاتا رہا۔

انہیں پورے پروٹوکول کے ساتھ ہال میں ان کی نشستوں پر پہنچایا جاتا۔ مہماناں گرامی کے لئے اولڈ سروشینز کے خصوصی بیجز کا اہتمام کیا گیاتھا۔ جو ہر آنے والے مہمان کے سینے پر سجایا جاتا۔ 11 بجے تک ہال مہمانوں سے بھر گیا تھا۔ پچھلے سال کی نسبت اس سال ان فارمل طریقے سے تقریب کا آغاز کیا گیا۔ کوئی سٹیج وغیرہ نہیں بنایا گیا۔ بلکہ سب مہمامان کو ایک خاص ترتیب سے بٹھایا گیا۔ جس سے وہ ہر ایک سے باہمی گفت و شنید کر سکتے تھے۔

اس ترتیب کو سب شرکاء نے پسند کیا۔ ہال کے ایک طرف ملٹی میڈیہ کے ذریعے کالج کے بارے میں اولڈ سروشینز ڈاکٹر عبدالحمید کی بنائی ہوئی دستاویزی فلم دکھائی جا رہی تھی۔ جو تقریب کے دوران چلتی رہی۔ اور اولڈ سروشینز نے د لچسپی سے دیکھا۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک۔ اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور حضور اکرم کی نعت سے ہوا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض اولڈ سروشینز کے سیکرٹری مالیات اور ریڈیو پاکستان کی معروف شخصیت چوہدری محمد شکیل نے بطریق احسن ادا کیے۔

سب سے پہلے کالج کے پرنسپل جناب نذر حسین صاحب اور یونین کے پیٹرن انچیف نے خطبہ استقبالیہ دیا۔ انہوں نے کالج میں اولڈ سروشینز کو خوش آمدید کہا۔ اور کالج کی کارکردگی سے سامعین کو آگاہ کیا۔ ان کے بعد پروفیسر محمد ظہیر چوہدری نے کالج کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ 1944 میں کالج کے قیام سے لے کر آج تک محتلف ادوار کا مختصر مگر جامع احاطہ کیا۔ اس کے بعد چوہدری محمد شکیل نے مائک سنبھالا اور ایک انٹر ایکٹیو سیشن کا آغاز کیا۔

اور ہال میں بیٹھے ہوئے سابق طالب علموں سے ان کے کالج میں گزرے ہوئے شب و روز کے بارے میں استفار کیا۔ ابتدا محترمہ شہناز اعجاز راجہ اور برطانیہ سے آئی ہوئی محترمہ یاسمین غزالہ فاروق سے ہوئی۔ جنہوں نے کالج میں اپنے گزرے ہوئے ماہ و سال کو یاد کیا۔ خورشید محی الدین قادری۔ چوہدری محمد اسحاق۔ چوہدری منیر حسین جسٹس (R ) ۔ ڈاکٹر محمد امین۔ فدا حسین کیانی اور چوہدری محمد نسیم ایڈوکیٹ نے اپنے اپنے دور کی یادیں تازہ کیں۔

محترمہ ناہید طارق۔ محمد لطیف صاحب۔ پروفیسر چوہدری محمد ایاز۔ راجہ نجابت حسین۔ راجہ محمد صفدر۔ اصغر ملک ایڈوکیٹ۔ سردار جمیل صادق اور ڈاکٹر محسن شکیل نے کالج میں گزرے ہوئے خوبصورت لمحات کا احاطہ کیا۔ استاد محترم جناب نذیر تبسم صاحب انگلیڈ سے خصوصی طور پراس تقریب میں شرکت کے لئے تشریف لائے تھے۔ وزیر حکومت چوہدری محمد سعید اور اعجاز رضا بھی خصوصی طور پر تقریب میں شریک ہوئے۔ جناب عارف کمال صاحب ہر تقریب میں شرکت کر کے رونق دوبالا کرتے ہیں۔

جناب منان گوہر نے اپنے روایتی جوش خطابت سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ چوہدری خالد یوسف اور ظہیر قریشی صاحب نے بھی اس تقریب کے لئے اپنی مصروفیات سے وقت نکالا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ امتیاز عالم چوہدری نے بھی پنے خیالات کا اظہار کیا راقم کے علاوہ عبدالرحیم جوشی۔ فاروق میر۔ خالد میر۔ شوکت مجید ملک۔ راجہ عبدالروف۔ منیر حسین بزمی۔ خواجہ منیر حسین۔ ڈاکٹر عظیم رتیال۔ ڈاکٹر ندیم بٹ۔ نشاط کاظمی۔

بشیر احمد پاشا۔ محترمہ نزہت کامران۔ چوہدری محمد عقیل۔ چوہدری غضنفر علی۔ چوہدری ممتاز علی۔ عبدالطیف ثانی۔ بشیر پرواز۔ چوہدری محمد حنیف۔ ڈاکٹر طاہر محمود۔ فرخ ڈار اختر میر کے علاوہ بہت سے دوسرے سابق طلبا نے تقریب میں شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگائے۔ عطامحی الدین قادری صاحب نے دھیمے لہجے میں سیف الملوک کے چند اشعار سنائے۔ شکیل صاحب نے اولڈ سروشینز افضل ضیائی کے بارے میں انکشاف کیا کہ وہ بہت اچھے غزل گو ہیں۔

اور مائک ان کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے طبلے اور ہارمونیم کی سنگت سے پروین شاکر کی غزل ”کو بکوپھیل گئی خوشبو“ بہت اچھے انداز میں سنا کر ایک سماں باندھ دیا۔ جو ایک خاصے کی چیز تھی۔ ادارہ کے سب سے سینئر طالب علم جناب منصف داد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انٹر ایکٹیو سیشن کے اختتام پر تقاریر کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ محمد اقبال رتیال صدر یونین نے فورم کی غرض وغایت پر روشنی ڈالی اور کالج کے لئے ایک سال کے دوران کیے اقدامات کے بارے میں بتایا۔

ان کی کوششوں اور وزیر حکومت چوہدری سعید کی مدد سے نئے اکیڈمک بلاک کی تعمیری منظوری حاصل کی اور کام کا باقاعدہ اختتام وزیراعظم نے گزشتہ روز کر دیا ہے۔ انہوں نے کالج میں کوالٹی ایجوکیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ یونین کے سیکرٹری جنرل سی۔ ایم حنیف نے یونین کی سرگرمیوں میں سب سے زیادہ متحرک ہیں نے سکالر شپ کی اپیل کی تو پل بھر میں 25 سکالر شپ کا اعلان اولڈ سروشنیز نے کر دیا۔

وزیر حکومت چوہدری محمد سعید اور ڈی جی ایم۔ ڈی ایر اعجاز رضا نے کالج اور یونین کے لئے خصوصی تعاون کا یقین دلایا۔ کالج کے سابق طالب علم اور شہر کے معروف شاعر ذوالفقار اسد۔ عمران شفیع اور راشد اکرم نے اپنا خوبصورت کلام سامعین کی نذر کر کے داد حاصل کی۔ اس کے علاوہ معروف پہاڑی گلوکار امجد بٹ نے جاوید حسن کے پہاڑی کلام کے علاوہ دیگر گیت گاکر داد سمیٹی۔ آخر میں اولڈ سروشینز یونین کے سرپرست اعلیٰ جسٹس (R ) محمد اعظم خان نے خطاب کیا۔

کالج کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ اور اتنی خوبصورت تقریب کے کامیاب انعقاد پر سب کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے نومبر میں یونین کے باقاعدہ انتخاب کا اعلان کیا اور شرکاء کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی ہدایت بھی کی۔ کالج کے سب سے اولد سروشینز 1944 کی کلاس کے جناب ذکریہ بھٹی صاحب اور 1951 کی کلاس کے چوہدری منصف داد کو یادگاری شیلڈ دی گئی۔ جناب عبدالحمید نقشبندی صاحب کو بھی یادگاری شیلڈ دی گئی۔ تقریب کے اختتام پر کالج کے لان میں ایک بہت ہی پُرتکلف لنچ کا انتظام کیا گیاتھا۔ جس میں سب سابق طالب علم آپس میں گھل مل گئے اور اپنے اپنے دور کو یاد کرتے ہوئے ہنسی مذاق اور وہی پرانے قصے اور پرانی باتیں کیں۔ ایک دوسرے پر آوازے کسے۔ اس تقریب کا خوبصورت اختتام ہوا جو مُدتوں سب کو یاد رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •