ہیرے کی قیمت جوہری ہی سمجھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جو لوگ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں انہیں احساس ہوگا کا اس شعبے میں کس قدر بے ضابطگیاں ہیں۔ پورا شعبہ صرف چند کاغذوں پہ ہی چل رہا ہے۔ لکھا ہوا آرڈر آتا ہے اور ویسے ہی آرڈر کی تعمیل کی جاتی ہے۔ بھیجنے والا بھی وجہ اور اثرات سے نا آشنا ہے۔ اور عمل کرنے والے کو اپنی نوکری کی فکر ہے۔ بہت سی پالیسیاں ایسی آتی ہیں جو زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کر کے بنائی جاتی ہیں۔ یا یوں کہئیے کہ ہوا میں تیر چلایا گیا ہے نشانے پہ لگ گیا تو ٹھیک ہے نہ بھی لگے تو کوئی مضائقہ نہیں، کاغذوں میں تو یہ درج ہو ہی جائے گا کہ تیر چلایا گیا تھا اور یہ نشانے کی غلطی ہے کہ تیر اس تک نہیں پہنچ سکا۔

ہر نئی آنے والی گورنمنٹ نعرے لگاتی ہے شرح خواندگی بڑھانے کا اور پھر یہ دعوی بھی کیا جاتا ہے کہ شرح خواندگی بڑھ رہی ہے تو اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں اور ہم وہ خواب دیکھنے لگتے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب ہمارا شمار بھی ترقی یافتہ قوموں میں ہونے لگے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ آخر وجہ کیا ہے؟ شرح خواندگی بڑھ رہی ہے، نئی نئی یونیورسٹیز بن رہی ہیں، یونیورسٹیز میں طلباء کی تعداد بڑھ رہی ہے، ماڈرن کورسز اور ٹیکنالوجیز متعارف کروائی جا رہی ہیں مگر پھر بھی ملک کی صورتحال بہتر نہیں ہورہی ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں یہ تو کہا جاتا ہے کہ علم سے قوموں کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے، مگر ہمیں تقدیر بدلنے کے اسباب میسر نہیں کئیے جاتے۔ اگر کوئی بندہ اپنی محنت سے اسباب ڈھونڈ کے اپنے فن اور مہارت کا عملی مظاہرہ کرنا چاہے تو ہم بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے اس پہ ریاست کے قانون کی خلاف ورزی کرنے کی دفعہ بنائیں گے اور اسے کال کوٹھری میں بند کرکے باقی محنت کشوں کے لئے عبرت کا نشان بنا دیں گے۔ جب ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی ہے تو پھر ایک تو بے روزگاری جنم لیتی ہے اور دوسرا عوام اپنی ریاست سے بدظن بھی ہوتی ہے۔

پچھلے دنوں ہونے والے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کا احتجاج اور ان پر ہونے والا پولیس کی طرف سے تشدد سامنے آیا تو یہ جملہ ذہن میں آیا کا ہمارے نوجوان ہمارا مستقبل ہیں۔ اب تب سے یہی سوچ پریشان کر رہی ہے کہ ریاست کیا ہمیں تشدد زدہ اور بے روزگار مستقبل دے گی؟ حکومتی عہدیداروں کی طرف سے یہ بیان دینا کے نوکریاں دینا حکومت کا کام نہیں ہے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کی بھاگ ڈور ایسے ہاتھوں میں ہے جو لوہار ہیں اور ہیروں کی قدر اور اہمیت سے ناآشنا ہیں۔ ہم جب ترقی یافتہ ممالک کی ترقی دیکھ کر عش عش کر رہے ہوتے ہیں اور ان کی دریافتیں اور ایجادات دیکھ کر مسحور ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی حالتِ زار پر افسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر تب ہم اپنے وسائل اور بے حالی کا رونا رونے کی بجائے اپنی حالت بہتر بنانے کی کوشش کریں تو اس ملک کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

اگر کسی حاکم میں اتنی قابلیت نہیں ہے کہ اپنے ملک کے سائنسدانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکے تو پھر وہ جو ترقی کے وعدے کر رہا ہے وہ جھوٹے ہیں۔ اگر وہ عام شہری کو اپنی ذمے داری نہیں سمجھ رہا تو اس حاکم کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ ڈاکٹرز، کینٹینر پر کھڑے ہو کر اپنے گیس اور بجلی کے بل نہیں جلا رہے تھے یا پورے شہر کا امن و امان یا انتظام خراب نہیں کر رہے تھے وہ تو صرف یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کا جائز حق ان کو دیا جائے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن جو ساری یونیورسٹیز کا انتظام سنبھالتا ہے اس میں کتنی بے ضابطگیاں ہیں اس بات سے ہی دیکھ لیجیے کہ جب کوئی طالب علم پی ایچ ڈی کے لئے بیرون ملک جاتا ہے تو وہ ایک دستاویز دستخط کر کے جاتا ہے جس میں یہ درج ہوتا ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اسی ملک میں نوکری نہیں کرسکتا بلکہ وہ واپس پاکستان آکر نوکری کرنے کا پابند ہے۔ جب کوئی ادارہ کسی کو روزگار دینے کی استطاعت ہی نہیں رکھتا تو وہ انہیں واپس آنے کا پابند کیوں کرتا ہے؟

پھر یہ رونا روتے رہنا کہ ہمارے قابل افراد بیرونِ ملک کیوں چلے جاتے ہیں؟ جب ریاست نے اپنے کسی شہری کے بنیادی حقوق کا ہی تحفظ نہیں کرنا، ان کی صلاحیتوں سے ہی فائدہ نہیں اٹھانا، ان کو ملک و قوم کا فائدہ مند شہری سمجھنے کی بجائے ان کو ملک پہ بوجھ سمجھنا ہے تو پھر یہ شکوہ کیوں کہ ہمارے شہری بیرون ممالک چلے جاتے ہیں۔ کیا یہ واقعہ کم دلخراش نہیں تھا جب ایک غریب انسان نے اپنی ساری ذاتی جائیداد بیچ کے قرضہ لے کر اپنا ذاتی جہاز بنایا اور پولیس اسے گرفتار کر کے لے گئی یہ کہہ کر کہ وہ پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔

اور حکومتی ترجمان کا یہ بیان سامنے آیا کہ اسے اس لئے گرفتار کر لیا گیا کہ اس کے پاس جہاز اڑانے کا کوئی تجربہ یا لائسنس نہیں تھا۔ اس غریب انسان کہ چہرے پر جو دکھ رقم تھا وہ یہ سوال ضرور کر رہا تھا کہ رائٹ برادران کے پاس کتنے سال کا تجربہ تھا؟ ان کی خوش قسمتی یہ تھی کہ ان کی صلاحیتوں کو سراہا گیا تھا اور اسی اعتماد سے انہوں نے ایسی ایجاد پیش کی جس سے ساری دنیا مستفید ہو رہی ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ ہمارے ملک میں لوگ سائنسدان کم، چور، ڈاکو اور قاتل زیادہ بنتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •