چنگ منگ فیسٹیول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ تین دن 5، 6 اور 7 اپریل چائینہ بھر میں چنگ منگ فیسٹیول کے حوالے سے چھٹیاں تھیں۔ سالانہ طور پر یہ ایام اپنے گزشتگان یعنی مرحومین کو یاد کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ تین دنوں میں یہ لوگ اپنے مردوں کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں۔ قبروں پر پھول رکھتے اور ان کی صفائی کرتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں مختلف روایات ہیں۔ بعض علاقوں میں لوگ قبروں پر مختلف کھانے اور شراب وغیرہ لیجاکر بانٹتے ہیں۔ لوگ اس دن پتنگیں اڑاتے ہیں۔

یہاں کہ رویایت ہے کہ لوگ اپنے دکھڑے اور بدقسمتی کی داستان پتنگوں پر لکھ کرہوا میں اڑاتے ہیں اور جب پتنگ بہت زیادہ بلند ہوجائے تو ڈوری کاٹ دیتے ہیں۔ یعنی ایک طرح سے یہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کی بدقسمتی ہوا لے اڑی۔ بعض جگہوں پر لوگ کاغذ کے کرنسی نوٹ لیجا کر جلاتے ہیں اور بعض جگہوں پر اگربتیاں۔ بدھ مت اورعیسائیت کے پیروکاراپنے مذہبی روایات کے مطابق اس دعائیں مانگتے ہیں۔ مگر مطمح نظر سب کا یہی ہوتا ہے کہ اپنے بچھڑوں کو یاد کیا جائے۔

در اصل اس فیسٹیول کے پیچھے ایک داستان ہے۔ قدیم زمانے میں چائینہ مختلف ریاستوں پر مشتمل تھی۔ جنگیں عام تھیں اوردیگر دنیا کی طرح یہاں پر بھی مختلف بادشاہوں کا مختلف علاقوں پر قابض ہونا معمول تھا۔ مقامی روایات کے مطابق قریب چھے سوسال قبل مسیح چونگ ار نامی بادشاہ کو اپنی سلطنت، جس کا قدیمی نام چنِ موجودہ شنسی صوبہ ہے، سے ہاتھ دھونا پڑا۔ وہ جلاوطن ہوکر انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے لگے۔ کھانے پینے کو کچھ بھی نہیں بچا۔

ان کے ہمراہ صرف چند ایک ملازم تھے۔ انہی ملازمین میں ایک وفادار ملازم چیئے بھی شامل تھا۔ چیئے نے جب اپنے آقا کو دیکھا کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچا اور وہ بھوک کی شدت سے قریب المرگ ہیں تو اپنے جسم سے گوشت کا ٹکڑا کاٹا اور ابال کر اپنے آقا کو کھلا دیا۔ اس طرح بادشاہ کی جان بچ گئی۔ بادشاہ وفادار ملازم کے خلوص کا مقروض تھا۔ وہ سوچتا رہا کہ کس طرح سے ان کے اس عظیم احسان کا بدلہ چکایا جائے۔ دوسری جانب چیئے کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ اس کے آقا کو دوبارہ حکمرانی مل جائے اور وہ اپنے ملک کو خوشحال بنائے۔

19 سال تک جلاوطنی کے بعد جب بادشاہ کو حکمرانی دوبارہ نصیب ہوئی تو اس نے ان سب لوگوں کو دربار میں بلاکر انعام و اکرام سے نوازا جنہوں نے ان کے ساتھ بھلائی کی تھی۔ مگر اتفاقا انہیں اپنا وہ وفادار ملازم چیئے ایک سال تک یاد ہی نہیں آیا۔ سال گزرنے کے بعد جب انہیں یاد آیا تو بہت کوشش کی کہ وفادار ملازم چیئے کو بھی اپنے پاس بلالیا جائے۔ وہ انہیں تلاش نہیں کرسکے۔ ایک وزیر کو کسی نے بتایا کہ بادشاہ کا وفادار ملازم اپنی ماں کے ہمراہ جنگل میں گئے تھے۔

بادشاہ خود اپنے بندوں کے ہمراہ انہیں ڈھونڈنے نکل پڑا۔ جنگل بہت گھنا تھا، لاکھ کوشش کے باوجود وہ انہیں ڈھونڈ نہیں پایا۔ وزیر کے مشورے پرانہوں نے جنگل میں آگ لگوادی تاکہ اس طرح اس کا ملازم وہاں سے نکل آئے۔ مگر یہ کوشش بھی بے سود رہی۔ آگ بجھنے پربادشاہ نے جنگل کا چپہ چپہ چھان مارا۔ ایک جگہ جلے ہوئے درخت سے ٹیک لگائے انہیں اس ملازم کا جلا ہوا جسم نظر آیا جس کے ساتھ کچھ تحریر بھی پڑی تھی۔ تحریر میں بادشاہ کی سلامتی اور ملک کی خوشحالی کے لئے نیک خواہشات کا اظہاررقم تھا۔ وفادار ملازم نے بادشاہ سے ملک کے لئے جن خواہشات کا اظہار کیا تھا ان میں چائینیز لفظ چنگ منگ بھی شامل تھا۔ چنگ منگ کے معنی بہترین نظم و نسق یا روشن اور خالص کے ہیں۔

بادشاہ چونگ ارکو سخت افسوس ہوا۔ وہ دھاڑیں مار مارکر روتے رہے۔ انہوں نے ملازم کو اسی درخت کے ساتھ دفنا کر اس کا مقبرہ بنوایا۔ حکمرانی کا پورا عرصہ وہ اپنے اس وفادار ملازم کو یاد کرکے رعایا کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے۔ ملک کو خوشحال بنانے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سال گزرنے کے بعد بادشاہ چیئے کے قبر پر حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہ جلا ہوا درخت سرسبز و شاداب ہوگیا ہے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ یقینا ان کی طرز حکمرانی اس وفادار ملازم کی خواہشات کے مطابق ہے۔ بادشاہ چونگ ار بہت خوش ہوگئے۔ چائنیز کے مطابق یہاں سے اس روایت کو بہت زیادہ اہمیت ملی کہ کس طرح ایک وفادار ملازم کی اپنی سلطنت اورمخلص آقا کے لئے نیک خواہشات، قربانی، اور خلوص کے طفیل ملک خوشحال ہوتا گیا۔

چائنیز تاریخ میں اس بادشاہ کو بہت زیادہ انصاف پسند اور رحمدل بادشاہ کے طور یاد رکھا جاتا ہے۔ اس کی بادشاہت میں ریاست خوشحال، پر امن اور رواداری پر مبنی رہی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صدیاں بیتنے کے باوجود چائینیز لوگ اس دن کو اتنی اہمیت دیتے ہیں۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کرتے ہوئے کوئی انہیں مردہ پرست نہیں کہتا۔ کوئی روایت پسند اور قدامت پرست کہہ کر طعنے بھی نہیں دیتا۔ چائینہ ایک کمیونسٹ ملک ہے، یہاں کوئی سرکاری مذہب نہیں، مذہب پر پابندی بھی نہیں۔ ہرکوئی اپنے عقیدے میں انفرادی طور پر آزاد ہے۔ مقامی لوگ کمیونسٹ کہتے ہوئے فخر کرتے ہیں اور اپنی روایات کو بھی شان کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

چائنیز نیشنل ڈیز کے علاوہ بھی ایسے بہت ساری روایتی تہوار ہیں جن کو سرکاری طور پربھی مناتے ہیں جن میں لالٹین فیسٹول، ڈریگون بوٹ فیسٹیول، مڈ آٹم یا مون کیک فیسٹول، دسمبر میں لمبی ترین رات کی مناسبت سے ونٹر سولسٹک یا تونگچی یعنی ایرانیوں کے بقول شب یلدا، اور جون میں لمبے ترین دن کی مناسبت سے سمر سولسٹک یا شیاچی فیسٹیول، ساتویں ماہ کی ساتویں تاریخ 77 کو کنواروں اور کنواریوں کا تہوار، اور نویں ماہ کے نویں دن بزرگ شہریوں کا دن 99، نیوائیر فیسٹول جس پر پورے ایک ہفتے کی چھٹیاں ہوتی ہیں، اور سپرنگ فیسٹول وغیرہ شامل ہیں۔ چنگ منگ فیسٹول بھی انہی میں سے ایک ہے جس کے لئے تین دن تک سرکاری طور پر چھٹیاں ہوتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •