مذہبی مجاہدین سے معاشی مجاہدین تک
خطے کی سیاست اور گردوپیش پر مجھ سمیت بہت سے نظر رکھنے والے دوستوں کا ماتھا اسی روز ٹھنک گیا تھا جب 27 فروری 2019 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین نے "ویٹو” کے ذریعے جیش محمد کے سربراہ کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں ڈالے جانے سے بچا لیا تھا۔ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی درخواست بھارت نے اقوام متحدہ میں جمع کرائی اور جسے قرار داد کی صورت میں سلامتی کونسل میں امریکہ برطانیہ اور فرانس نے مشترکہ طور پر پیش کیا تھا۔ بظاہر چین کی جانب سے اس قرارداد کی مخالفت کو چین کی جانب سے مسعود اظہر پر نرم گوشہ یا بھارت کی ہزیمت سمجھا گیا۔ جس پر پاکستان کی وزارت خارجہ نے بیان دیا کہ "چین نے بھارت کو پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی حمایت کا جھوٹا پروپیگنڈے کرنے کی سزا دے کر پاک چین دوستی کے رشتوں کو مزید مستحکم کیا ہے”۔ پاکستان کے اس بیان کو مقتدر میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ مگر دوسرے ہی روز وزیر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ "چین ھمارا پرانا اور قابل استعمال دوست ہے لہذا وزیر موصوف خود چل کر چین سے خطے کی صورتحال پر "اسٹریٹجک ڈائیلاگ کریں گے اور چینی قیادت کو اعتماد میں لیں گے”۔ مذکورہ بیان کے بعد فوری طور پر شاہ محمود قریشی چین روانہ ہوئے اور چینی قیادت سے بات چیت کے عمل کو اطمینان بخش اور لازوال دوستی کا تسلسل قرار دیا۔
سوال یہ ہے کہ فوری طور سے چین کی قیادت کو اعتماد میں لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ جس کا جواب چینی وزارت خارجہ کے اس بیان میں بہت واضح دکھائی دیتا ہے کہ”چین خطے میں کسی قسم کی دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بچایا گیا ہے۔ البتہ چین عالمی طور سے دہشت گردی کی مفاد پرست تفہیم کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی وہ کسی بھی دہشت گرد کو کسی خاص مقاصد کے استعمال کی اجازت دے گا”۔
چین کی جانب سے یہ مذکورہ بیان دراصل اپنے پڑوسی ممالک سمیت ان ممکنہ امریکی اتحادیوں کو "شٹ اپ” کال تھی جو اس خطے میں بڑھتی ہوئی چینی معیشت کو مستقبل کے نئے اتحاد سے روکنا چاہتے تھے۔
اس پوری صورتحال کو سمجھنے کے لیئے افغان جہاد کے اتحادیوں میں سرفہرست سعودی اثر کو نمایاں کرنا بھی چین کی حکمت عملی کا نتیجہ تھا جس پر امریکہ سمیت سعودی عرب کا کوئی واضح موقف تو سامنے نہ آسکا البتہ بڑی ہی چابکدستی سے امریکہ سمیت مغربی طاقتوں نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے ایک انٹرویو کے ذریعے بیان جاری کروایا کہ "بھارت میں حالیہ انتخابات میں مودی کے جیتنے سے خطے میں مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد ملنے کے زیادہ امکانات ہیں جبکہ کانگریس اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ اس مسئلے کے حل میں کوئی مضبوط کردار ادا کر سکے”۔
وزیر اعظم کے مذکورہ بیان پر کسی قسم کا واویلا نہ ہونا اور فریقین کا چپ سادھ لینے کا اصل مقصد یہ نکالا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے واضح طور پر امریکی خطے میں امریکی کیمپ کا اتحادی ہونے کو تسلیم کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کا پیغام پہنچایا کہ”چین، روس اور ایران سمجھ لیں کہ آئندہ مستقبل میں اس خطے کی معاشی اور سیاسی پالیسیز امریکہ کے اتحادیوں کی ہی قبول کی جائیں گی جس میں خطے کے معاشی استحکام میں بھارت اھم فریق کے طور پر شامل رہے گا”۔
اس صورتحال میں گویا ایک بار پھر یہ پیغام خطے کی طاقتوں اور عوام کو دیا جا رہا ہے کہ یہ خطہ اب 1979 کے مذہبی جہادیوں کو معاشی جہادی کے طور پر قبول کرنے پر تیار ہے جس پر بھارت یا مودی کو کوئی اعتراض نہیں۔
مذہبی جہادیوں کو معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اسی پالیسی کو چین اپنے معاشی استحکام کے لیے ایک خطرناک ہتھیار سمجھتا ہے لہذا اس نے بھارت سے واضح طور سے کہا ہے کہ سنکیانگ میں بھارت مذہبی جہادیوں پر کیوں خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ اس صورتحال میں دلچسپ بات چین اور روس کے ساتھ ایران کی قربت اور ان افغان مجاہدین کی ممکنہ مدد بھی خارج از امکان نہیں جو خطے میں کسی طور امریکہ اور مغربی طاقتوں کا وجود نہیں چاہتے اور نہ ہی یہ افغان مجاہدین سعودی عرب پر اعتماد کے لیے تیار ہیں۔
امریکہ اور سعودی عرب کے مرکزی کردار کی بدولت پاکستان اور بھارت کی ممکنہ قربت کا عندیہ وزیر اعظم کی جانب سے آنے کا مطلب ہے کہ مقتدرہ عمران کے اس بیان پر یکسو ہے۔
دوسری جانب ابھی تک وزیر اعظم عمران خان کے مودی حمایت بیان پر ایران روس اور چین کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا سوائے اس کے کہ ایران کی مسلسل شکایت پر جندولہ کے ایک بڑے دہشت گرد کو کراچی سے گرفتار کرنے کی اطلاعات ہیں جو شاید ناراض ایران کے لئے خیر سگالی کا ایک اشارہ کہا جا سکتا ہے۔ ۔اس پورے تناظر میں یہ لگتا ہے کہ یہ خطہ دوبارہ سے امریکہ کے بھارت سمیت نئے”جہادی معیشت دانوں” کے حوالے کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کے بہت سے اھم پہلو سامنے آئیں گے۔ پاکستان میں "میڈیا کنٹرول” ان میں سے ایک اہم زاویہ ہے۔ جبکہ اس پوری صورتحال پر روس چین اور ایران نے مٹھی بند رکھی ہوئی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ ان تین طاقتوں کی یہ بند مٹھی کب کھلتی ہے؟


