گداگری کو فروغ دینا بند کریں
رمضان کا انتظار ہم سب ہی شدت سے کرتے ہیں کیونکہ رمضان میں عبادت کرنے کا جو لطف ہے وہ دیگر مہینوں میں چاہ کر بھی حاصل نہیں ہوپاتا۔ رمضان اپنے ساتھ بہت کچھ لے کر آتا ہے کچھ لوگوں کو رمضان کا انتظار صرف اس لیے ہوتا ہے کیونکہ رمضان میں ان کی روزی میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ جو اخراجات دیگر مہینوں میں نہیں کرپاتے وہ ان کے لیے رمضان میں کرنا ممکن ہوجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ مہینہ کچھ لوگوں میں آس بھی باندھتا ہے کہ بڑے لوگ نیکی کرنے کی خواہش میں ان کی مدد کریں گے اور ان کے بچے پیٹ بھر کر کھانا کھا سکے گے۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ شہر کراچی جسے روزگار کمانے کا گڑھ سمجھا جاتا ہے وہاں پر سگنلز، مالز غرض یہ کہ ہر جگہ پورے پاکستان سے آئے ہوئے پیشہ ور گداگر دیکھنا شروع ہوجائیں گے۔ ان گداگروں میں معذور گداگروں کے ساتھ، ہٹی کٹی عورتیں بھی نظر آئیں گی جنھیں ہاتھ پھیلاتے ہوئے شرم نہیں آتی اور جب وہ گاڑی کے شیشے پر کٹھکٹھا کر روایتی اندازمیں رٹے رٹائے جملے دکھ بھرے انداز میں ادا کرتی ہیں تو پاکستانیوں کا دل پسیج جاتا ہے اور وہ مدد کے نام پر بھیک دیں دیتے ہیں۔
میں آپ سب سے یہیں کہنا چاہتی ہوں اور میری یہ درخواست بھی ہے کہ گداگری کو فروغ دینا بند کریں۔ ان پیشہ ور بھکاریوں کو جن کے حلیے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ وہ محنت نہیں کرنا چاہتے، محنت سے جی چراتے ہیں اور انھیں بھیک مانگنا ہی درست فعل لگتاہے کو بھیک دے کر اس بات پر مہر مت لگائے کہ ان کا فیصلہ درست ہے اور وہ محنت نہیں کر کے بالکل ٹھیک کررہے ہیں۔
میری اس بات سے آپ کو ہوسکتا ہے یوں محسوس ہورہا ہو کہ میں آپ کو نیکی کرنے سے روک رہی ہو ں مگر میں آپ کو نیکی کرنے سے نہیں روک رہی بلکہ یہ کہہ رہی ہو ں کہ اگر آپ نیکی کرنا ہی چاہتے ہیں تو تھوڑی تگ و دو کرلے اور اپنی زکوتہ، خیرات ان لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں جو سفید پوش ہیں جن کی حاجتیں پوری نہیں ہو پا رہی اور وہ تو ایسے ہیں کہ آپ ان کی مدد رقم کے ذریعے بھی نہیں کرسکتے بلکہ آپ کو ان کی مدد کے لیے تحفوں کا سہارا لینا پڑے گا جنھیں وہ بخوشی قبول کر لیں گے اور ان کی ضرورت بھی پوری ہوجائے اور حقیقی ضرورتمند کی مدد بھی ہوجائے گی۔
ان پیشہ ور گداگروں کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان حقیقی ضرورتمندوں کا ہورہا ہے آپ خود سوچے وہ بچہ جو چائے کے ڈھابے پر صبح سے شام تک محنت کرتا ہے اگر آپ اسے بیس، تیس روپے ٹپ کے دیتے ہیں تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے یا پھر وہ ہٹی کٹی عورت جو اس سے عمر میں بھی بڑی ہے اور صرف ٹسوے بہا کر آپ سے بھیک وصول کرنا چاہتی ہے آپ کا بھی فیصلہ یقینا بچہ کی طرف ہی جائے گا کیونکہ محنت میں ہی عظمت ہے۔
آپ خود سوچے اگر آج ہم ان پیشہ ور گداگروں کو بھیک دیں گے تو کل کو وہ مزدور طبقہ جو دن، رات محنت کرکے پیسے کماتا ہے یہ نہیں سوچے گا کہ اگر بغیر محنت کیے پیسے مل سکتے ہیں تو محنت کیوں کی جائے اور اس سے نقصان کس کا ہوگا؟ آپ کا؟ ہمارا؟ کیونکہ ہم پھر مزدور طبقہ سے ہی محروم ہوجائے گے جن کے بغیر ہماری زندگیاں آدھوری ہیں اس لیے کسی کے لیے نہیں اپنے فائدے کے لیے ان پیشہ ور گداگروں کو بھیک دینا بند کریں اور اپنی زکوتہ اور خیرات ان لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں جو اس کے حقیقتاً ضرورت مند ہے۔


