نثری نظم اور کتاب ”ایسا ضروری تو نہیں“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر میں بات یہیں سے شروع کرلوں کہ ہر شخص شعر کہے ایسا ضروری تو نہیں، تو یہ ایک جملۂ معترضہ ہوگا مگر ایسا کہنا ضروری ہے کیونکہ اگر آپ کے پاس کچھ کہنے کو نہیں تو کس حکیم نے کہا ہے کہ درخت کٹوا کر کاغذ ضائع کریں۔ لیکن یہ اشد ضروری ہے کہ آپ شعرکہیں، نثر لکھیں یا کسی اور طرح اظہار کریں جب آپ کے پاس اظہار کرنے کو کچھ ہو۔ روبینہ فیصل کی کتاب ”ایسا ضروری تو نہیں“ پڑھ کر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ ہے اور یہی اس کے شاعرانہ رخ کا جواز بھی ہے اور خصوصیت بھی۔

یہ شعری مجموعہ جو دراصل نثری نظموں کا مجموعہ ہے، روبینہ کا شاعرہ کی حیثیت سے باقاعدہ اعلان اور تعارف ہے گو کہ ان کی نثری نظمیں اس سے پہلے بھی نظر سے گزرتی رہی ہیں مگر اس کتاب میں استواری کا وہ عنصر ہے جس نے اس حوالے پر مہر لگا دی ہے۔ روبینہ فیصل کو کالم نگار، ٹی وی میزبان اور افسانہ نگار کی حیثیت سے جانا جاتا ہے گویا قلم سے نثر کا گہرا رشتہ روبینہ کا اوڑھنا بچھونا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس نے جب اپنے اظہار کے لیے شاعری کے میدان میں قدم رکھا تو اس میں بھی نثری نظم کو اپنا وسیلۂ اظہار بنایا۔

بحیثیت صنف، نثری نظم کی حمایت اور مخالفت میں بہت طویل عرصے میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے۔ اس کا ایک مسٔلہ اس فربہ اندام حسینہ کا سا ہے جس کا نام ”نازک“ ہو اور وہ اپنے حسن اور جوبن کے بجائے محض اپنے نام کی وجہ سے موضوعِ گفتگو بنی رہتی ہو۔ ابتدائی بحثوں کی حد تک بات اور تھی مگر اب پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ اگرچہ اب بھی نام یا اصطلاح کا جھگڑا اپنی جگہ ہے اور اب بھی اکثر، نثر اور نظم کے اصطلاحی اختلاف سے بات شروع ہوتی ہے مگر بہرحال بات اس سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔

میری بحث بھی اصطلاح سے نہیں بلکہ اس سے ہے کہ کیا لکھا گیا ہے اور کیسا لکھا گیا ہے۔ جو لکھا گیا ہے اسے پڑھ کر کیا ہمارے شعری جمالیاتی ذوق کی تسکین ہوتی ہے، کیا اس میں شعریت ہے۔ کہیں یہ تحریر کسی افسانچے کا ٹکڑا تو نہیں لگ رہی یا کسی قصّے، کہانی کا سا آغاز اور اختتام تو نہیں رکھتی۔ لیجیے ایک اور جملۂ معترضہ لکھ دیا۔ مگر یہ لکھنا اس لیے ضروری تھا کہ نثری نظم کے نام پر کچھ معروف، کچھ غیرمعروف، کچھ نئے، یہاں تک کہ کچھ پرانے لکھنے والے بھی بہرحال ایسی نظمیں لکھ رہے ہیں جن کو پڑھ کر دوسرے لکھنے والے کہ اٹھیں کہ ”یارو اس میں ہمارا یا نثری نظم کا کیا قصور!

”۔ مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا کی عمر دراز ہو جہاں نثری نظموں کا ایک سیلاب ہے اور مختلف شعبوں سے تعلّق رکھنے والے وہ مشہور و معروف لوگ بھی اس سیلاب میں اپنی اپنی کلّیاں کرنے سے گریز نہیں کرتے جنہیں شاعری کا وہم ہو گیا ہے، سو وہم کا علاج کون کرے۔ لہٰذا ایسی“ نظمیں ”سنا سنا کر اداکاروں، صداکاروں اور جانے کن کن کاروں تلے لوگوں کا ادبی ذوق سرِعام کچلا جا رہا ہے۔ عوام کے ادب سے رشتے اور قاری کی تربیت کی صورتِ حال ہم سب جانتے ہیں، اس پر ستم یہ تحریریں، جن کی بدولت لوگوں کے ذوق اور معیار کا یہ عالم ہوگیا ہے کہ آج کسی بڑے سے بڑے اور مشہور سے مشہور شاعر کے نام سے آپ چھینک بھی دیں تو وائرل ہوجاتی ہے اور کسی کو اس وائرس کے شعر ہونے میں شک بھی نہیں ہوتا۔ سو جس چیز سے لوگوں کے شعری ذوق کی تربیت کی جاسکتی ہے، اسی سے انہیں زکام دیا جا رہا یے۔

غزل کو لے لیجیے۔ یہ ایسی صنف ہے جس میں کوئی بھی موزوں طبع شخص، تک بندی کر کے پوری کی پوری غزل کہ سکتا ہے بلکہ غزل ہو یا نظم، ایسی تحریروں کی بھرمار کوئی انہونی نہیں جن میں شعریت مفقود ہو، یعنی کاریگری پوری مگر شعری جمالیات کو چھونے والی خصوصیت غائب، مگر وہ پھر بھی شاعری کے زمرے میں بوجوہ آجاتی ہے۔ جیسے کراچی میں برسوں پر محیط پولیس ناکوں اور ڈبل سواری پر پابندی کی مستقل ہنگامی حالت میں زندگی گزارنے والے کچھ بیچارے تنگ آکر جینے کا طریقہ یوں ڈھونڈ نکالتے تھے کہ اپنے نام کا بالکل اصلی ”پریس کارڈ“ بنوالیتے تھے تاکہ ان کی بخشش کا سامان ہو جائے اور یوں وہ اپنے شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آجاسکیں، تو اسی طرح دو مصرعوں یا کچھ سطروں میں محض وزن کا خیال رکھ کر، یہ تحریریں شاعری کا پریس کارڈ دکھا کر ادبی ناکے سے بلکہ اہلِ ذوق کی ناک کے نیچے سے گزر جاتی ہیں۔

مگر نثری نظم کا معاملہ ٹیڑھا ہے کیونکہ اس کے پاس وہ رسمی پریس کارڈ نہیں ہے جو اسے کسی نہ کسی طرح ناکے سے گزار دے، لہذا اس کو وہی بتانا ہوتا ہے جو وہ ہے یعنی اس کے لیے نظم بن کر دکھانا لازمی ہے اور وہ بھی بغیر وزن کے، بغیر بحر کے، سو اسے اپنا راستہ بنانے کے لیے، پڑھنے والے کو شعریت کا احساس دلانا ضروری ہے ورنہ اس کے منہ پر لکھا ہوتا ہے کہ اس کا پریس کارڈ جعلی ہے۔ شعر یا غزل کہنا تو آسان ہوتا ہے مگر اچھا شعر اور اچھی غزل کہنا اتنا آسان نہیں ہوتا اور اس سے کہیں زیادہ پرخار راستہ نثری نظم کا ہے کہ نثری نظم لکھنا تو بظاہر آسان ہے کہ کوئی بھی بات سطروں میں تقسیم کر کے لکھ دی جائے جیسا بہت لوگ کر رہے ہیں، مگر ایسی نثری نظم لکھنا جو اپنے ہونے کا اعلان کرے، یہ مشکل کام ہے کیونکہ اس میں بحر نہ ہونے کے سبب، باقی سب کچھ چاہیے ورنہ اس کا دھرم بھرشٹ ہوجائے گا۔

اب اس تناظر میں اگر دیکھیں تو آج کل بہت سے نئے لکھنے والوں کا حال یہ ہے کہ سمندر پہ جانے کا تو شوق ہے مگر بس پیر بھگونے کی حد تک۔ تیرنے کا تو شوق ہے مگر گہرے پانی میں کون اُترے، تو کیوں نہ ربر کی ٹیوب لگا کر ڈبکی لگالیں اور غوطہ خوروں کی صف میں شامل ہو جائیں۔ شعر کا کیا ہے، دو دو مصرعے کہ لیے اور غزل تیار۔ اور اس سے بھی ترقّی یافتہ شکل اُن آسان پسندوں کی ہے جو پیر بھگونے یا ٹیوب کے ساتھ ڈبکی لگانے کی زحمت بھی نہیں کرتے بلکہ سمندر کے ساتھ تصویر کھنچوانے پر ہی اکتفا کرلیتے ہیں، چنانچہ وہ نثر کو نظم کا عنوان دے کر شاعروں کی صف میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ اکثر ایسی نثری نظمیں بھی پڑھنے کو ملتی ہیں جن میں نظم شروع ہونے کا انتظار ہی رہ جاتا ہے اور نثر اعصاب پر حاوی ہو کر رہ جاتی ہے جیسے آپ نظم نہ پڑھ رہے ہوں، کہانی پڑھ رہے ہوں۔ اس لیے نثری نظم کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ نثری ہونے کے باوجود، نظم ہی معلوم ہو اور نثر کی چغلی نہ کھائے۔

تو بات یہ ہے کہ پابند شاعری کو جو رعایتی نمبر مل جاتے ہیں، اس کا بہرحال جواز ہے کہ وہ شعریت (شعر کے نہیں، شاعری کے مترادف) یا شاعرانہ لذت سے عاری بھی ہو تو کم سے کم اپنی ہیئت اورشکل و صورت کی وجہ سے خود کو نظم کے قبیلے کا فرد منوا ہی لیتی ہے۔ یعنی اپنے وزن کی بدولت، چاہے اس وزن کے نیچے دبے لوگ کتنا ہی بلبلائیں، وہ صحیح یا غلط، اپنی پہچان نثر سے الگ کرا لیتی ہے، چاہے وہ سپاٹ سہلِ ممتنع ہی کیوں نہ ہو۔

لیکن جہاں ہیئت بھی مختلف نہ ہو، وہاں محض جملوں کو توڑ کر کئی سطریں بنانے سے نظم نہیں بن سکتی اور جن نثری نظموں میں یہ مسئلہ نظر آتا ہے وہ اپنے جواز کے لیے محلِّ نظر ہیں۔ سو بعض نثری نظموں میں سپاٹ بیانیہ انداز ان کے نظم کہلانے میں حائل ہوجاتا ہے۔ جہاں مضمون یا قصّے کا بیانیہ انداز ہو، ایسی تحریر نظم سے زیادہ عام گفتگو، یادداشت، تاریخی حوالے اور ڈائری کے صفحات کی شکل اختیار کر جاتی ہے اور سراسر نثر ہوکر رہ جاتی ہے۔

نثر کی شکل میں لکھے تعارفی نوٹ، تمہید، انسائیکلوپیڈیا کے اقتباس، تاریخی واقعے کے حوالے اور اخبار کے خالی گوشے کو بھرنے کے لیے درج اقوالِ زرّیں جیسی تحریروں کو نظم کہنے میں تامّل ہونا فطری بات ہے اور ایسی تحریر کو نظم کہنے پر اصرار، سخن فہموں کو کانٹوں پر گھسیٹنے سے کم نہیں۔ مگر کیا کیجیے کہ اس بات پر گویا زلیخا کے ہاتھ اور دامنِ یوسف کا جھگڑا شروع ہوجاتا ہے۔ چونکہ ایسی ’نظم ”لکھنے والے کو خود معلوم نہیں ہوتا کہ نظم کی سرحد کہاں ختم ہوئی یا کہاں شروع ہونا تھی تو اس کی طرف اشارے کرنے کو اکثر صنف کا جھگڑا سمجھ لیا جاتا ہے اور یہ شعری (یا تکنیکی) معاملہ بھی سیاسی رنگ اختیار کر لیتا ہے کہ دامن کس طرف سے پھٹا ہے۔

کوئی سمجھے نہ سمجھے، مگر ان کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے جنھیں یہ بتایا جاتا ہو کہ ان کی نظم نثر کا ارتکاب کر بیٹھی ہے۔ ورنہ ایسی صورت میں نظم پر اصرار اپنے ساتھ تو ظلم ہے ہی، اپنی تحریر کے ساتھ بھی ہے، نثری نظم کی صنف کے ساتھ بھی ہے اور ان شاعروں کے ساتھ بھی، جنھیں واقعی نثری نظمیں لکھنے کے باوجود، اس کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اب آتے ہیں روبینہ کی نثری نظموں کی طرف۔ میں نے اس سے پہلے ان کی یہ نگارشات بہت کم پڑھی یا سنی تھیں لہٰذا جب میں نے روبینہ کی نثری نظموں کی یہ کتاب ”ایسا ضروری تو نہیں“ پڑھی تو بحیثیت نظم کی شاعرہ کے، روبینہ کے کام اور کلام کا ایک مجموعی تاثر جو مجھے ملا، وہ خاصی حد تک اس کا تسلسل ہے جو ان کے افسانوں کے حوالے سے ہے میرے ذہن میں تھا۔ کتاب کے سرورق سے، ڈاکٹر ستیہ پال آنند اور ڈاکٹر سعادت سعید صاحبان کی آرا اور روبینہ کے کلام سے ہوتے ہوئے، کشور ناہید صاحبہ کے لکھے فلیپ تک، سوچ، مضامین اور اندازِ تحریر کا ایک تسلسل نظر آتا ہے۔

یعنی سفر اور سمت کا وہی تسلسل جو اس کے کالم، افسانوں اور دیگر تخلیقی کاموں سے ہوتا ہوا شاعری تک آپہنچا ہے۔ یہ نظمیں جس وحدتِ فکر کا پتہ دیتی ہیں، وہ لکھنے والی کے لکھنے کا جواز ہے۔ اس جواز کا ہر شاعر اور مصنّف کے ہاں کسی شکل، کسی اسلوب، کسی سطح پر ہونا ضروری ہے اور جو اس سوال کا جواب ہوتا ہے کہ ”میں کیوں لکھتا ہوں“۔ چاہے اس سوال کا جواب کبھی لکھنے والے نے سوچا ہو یا نہ سوچا ہو، وہ پوچھنے پر یہ جواب دے سکے یا نہ دے سکے، مگر یہ اس کی تحریر میں لازماً ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔

گو خود اسے اس کا مکمّل یا جزوی ادراک ہو یا نہ ہو، یہ ضروری ہے کہ اس کی تحریر خود اس کا جواب ہو جو پڑھنے والے کو یا نقّاد کو اس کی تحریر میں مل جائے۔ روبینہ کی نثر اور نظم دونوں میں یہ جواب موجود ہے اور کتاب کے پیش لفظ میں اس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ پیش لفظ سے ایک اور نکتہ بھی واضح ہے کہ روبینہ کو نثری نظم سے متعلّق اوپر درج مباحث اور اعتراضات کا ادراک بھی ہے اور احساس بھی، شاید اسی لیے اس نے اپنی کتاب کو ”غیر شاعری“ کی کتاب کہہ کر ایک پیش بندی بھی کی ہے اور اس کا جواز بھی پیش کیا ہے۔

میں اسے بہر حال غیرشاعری کی کتاب نہیں کہوں گا۔ یہ نثری نظموں کی کتاب ہے اور چونکہ اس میں کئی نظمیں مجھے اچھی لگیں جو ان مسائل سے پاک نظر آئیں یا کسی حد تک ان سے دامن بچاتی نظر آئیں جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے، تو میں اسے نثری نظموں کا انتخاب ہی کہوں گا۔ اب یہ پڑھنے والے اور نقاد کا استحقاق ہے کہ وہ ان میں سے کس کو نظم کے طور پر یا اچھی نظم کے طور پر قبول کرے مگر اس مجموعے کو غیر شاعری کا نام دے کر رد نہیں کیا جا سکتا۔

اس کتاب میں جو نظمیں مجھے اچھی لگیں، ان میں سے چند کا حوالہ دوں تو وہ ہیں ”تلاش“، ”روزِ قیامت“، ”کامیابی“، ”انجامِ محبّت“، ”سیڈازم سے باہر ایک نظم“، ”اب کہانی لکھی جائے گی“۔ اور بھی کئی نظمیں ہیں مگر بات لمبی ہو جائے گی۔ ”کل ہی کی بات نہیں ہوتی“ بھی مجھے پسند آئی مگر آخری سطر کے بغیر اور ایسی اور بھی نظمیں ہیں۔ بعض نظمیں ایسی ہیں جن پر روبینہ کے افسانوں کا اسلوب اور رنگ حاوی ہے۔ نثر نگار، چاہے وہ تنقید لکھتا ہو یا کہانی، اگر شاعری کی طرف آئے تو اکثر اس سفر میں پچھلی مسافت کی گرد اڑتی نظر آتی ہے جو کوئی نئی بات نہیں لہٰذا میرے خیال میں اس کا اثر آئندہ کے مجموعوں میں اور کم ہوگا۔

البتہ یہاں میں ان نظموں کی طرف بھی اشارہ کرنا چاہوں گا جنھیں افسانے سے تھوڑا سا بازیاب کرنے کی ضرورت ہے، ”مورال“ اور ”ایڈیٹنگ“ ایسی نظموں کی مثالیں ہیں۔ اسی طرح اگر ان نظموں کی بات کروں جن کے لیے بازیابی کا عمل کچھ زیادہ درکار ہے، تو ان کی مثال کے طور پر ”حلال دیس“ یا ”سوچ لیا“ کو دیکھا جا سکتا ہے۔

جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا ہے کہ روبینہ کے پاس لکھنے کی وجہ بھی ہے اور مواد بھی تو یہ تاثر اس کتاب کے ہر قاری کو ضرور ملے گا۔ روبینہ کی نظمیں اپنے اطراف کے منظرنامے سے چنی گئی سماجی جزئیات کا بھرپور اظہار ہیں۔ یہ نظمیں جہاں معاشرے کی عکّاس ہیں، وہیں اس کے پسِ پردہ عوامل، ذہنی انتشار، دکھ اور المیوں کا اظہاریہ بھی ہیں، مثلاً دیکھیے ”باغی پرندے“۔ روبینہ کے ہاں محض مسائل کی تصویرسازی نہیں ہے بلکہ ان کی جڑوں میں بیٹھے سانپوں کی، ان کے اسباب کی اور ان کے اثرات کی جھلکیاں بھی ہیں اور ان کا بے باکانہ اظہار بھی۔

بلکہ بعض جگہ شاعرہ نے ان سب سے ماورا ہو کر اُس دنیا کی جھلک دکھانے کی کوشش کی ہے جس میں وہ ان مسائل کا حل ڈھونڈھتی ہے۔ ”کیا ہے! “ کے بارے میں لکھنا اپنی جگہ (جو خود بے جگہ ہے ) ، مگر ”کیوں ہے“، ”کیا ہونا چاہیے“ اور ”کیا نہیں ہونا چاہیے“، یہ باتیں بھی ان نظموں میں جا بجا ملتی ہیں جیسے ”محبّت کیا ہے؟ “ اور ”مستقل مزاجی“۔ یہی وہ فکری وحدت ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے اور یہی اس شاعرہ، مصنّفہ کے تخلیقی کاموں کا خلاصہ بھی ہے۔

عورت کے مسائل اور نعرے بازی سے بلند ہو کر یا ان کی گہرائی میں اُتر کر، زمینی عورت کے زمینی مسائل اور معاملات اکثر روبینہ کے موضوعات ہوتے ہیں۔ سارہ شگفتہ اور امرتا پریتم پر لکھی نظمیں اس کا ثبوت ہیں۔ ”دیوی“، ”بھکارن“ اور ”اقصی کے لیے“ جیسی نظمیں اس کی مثالیں ہیں۔ مگر سب سے بڑھ کر خود کتاب کا سرورق ہی اس کتاب کے افکار اور موضوعات کی سمت کا بھرپور اعلان ہے۔

عورت کے لیے لکھنے والوں کی اکثریت ایسی یک رخی تصویریں بنانا شروع کردیتی ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ ایک انتہا کی تردید اور دوسری انتہا کی توثیق۔ البتہ یہ معاملہ سب کے ساتھ نہیں ہوتا اور ان مستثنیات میں روبینہ کا بھی شمار ہوتا ہے۔ اِس قبیل کے لوگوں کی طرح روبینہ کے ہاں بھی زنانہ تعصّب کے بجائے، فیمنزم کے بلندتر معانی کی ترجمانی ہے جو ایک تنگ نظر مرد کی عینک اتارنے کے لیے تنگ نظر عورت کی عینک آنکھوں پرنہیں سجاتی بلکہ اکثر متوازن اور منصفانہ معاشرے کی بات کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

مرد اور عورت کے تعلّق میں دونوں کو انسان کے طور پر دیکھنے، معاشرے میں مرد کا جو مقام ہونا چاہیے، اس کا اعتراف کرنے اور بعض معاملات میں خود عورت پر تنقید کا رویّہ، روبینہ کی تحریروں میں جابجا نظر آتا ہے۔ اس سماجی توازن اور موجودہ عدم توازن کی غیر جانبدارانہ عکّاسی کی مثالیں ”تب کیا کرو گے“، ”معالج“، ”ں ارسسزم“ وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اور عورت کے مسائل ہی کیا، اس کتاب میں دیگر معشرتی مسائل پر بھی نظمیں موجود ہیں، جن میں بعض نفسیاتی موضوعات صنفی بھی ہیں اور غیر صنفی بھی۔ مثال کے طور پر مغرب میں بوڑھے ماں باپ کی زندگی پر لکھی نظم ”کِس اینڈ رائڈ“ دیکھیے۔

کتاب کے آخری صفحات پر بعض نظمیں ہیں جن کے ساتھ ہی کچھ مصوّری کے نمونے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان نظموں کے موضوع کے اعتبار سے علامتوں پر مشتمل یہ تصویریں اور تصویری خاکے ثمرانہ خان صاحبہ نے خاص ان نظموں سے متاثر ہر کر اسی کتاب کے لیے بنائے ہیں بلکہ رضاکارانہ طور پر بنا کر تحفتاً اس کتاب کی نذر کیے ہیں۔ کتاب کا یہ حق ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں رائے قائم کی جائے، اچھی یا بری، مگر کی جائے، اور ”خود پڑھ کر“ کی جائے۔ لہٰذا میں قارئین کو بھی دعوت دوں گا کہ اس کتاب کو پڑھیں ضرور اور دیکھیں کہ وہ اِن باتوں سے کس حد تک متّفق ہیں، ہیں یا نہیں ہیں!

میں نے کتاب پر بات کرتے ہوئے، اس سے ہٹ کر بلا تکلّف کچھ اختلافی باتیں اوپر لکھ ڈالی ہیں تو ایسا اس لیے ہے کہ، وہ کیا اچھا مصرع ہے کہ ”غلام فریدا دل اوتھے دیّے جتّے اگلا قدر وی جانڑے“۔ یعنی جہاں اختلافی بات سننے کی گنجائش نہ ہو وہاں یہ سر پھٹوّل بے کار ہے اور ایسے میں توانائی کیا ضائع کرنا۔ لیکن جہاں معلوم ہو کہ بات ضائع نہیں ہوگی، وہاں نہ کہنے کا کواز نہیں بلکہ یہ کنجوسی ہوگی۔ یعنی اگر پھول کی پتّی کہیں اثر رکھتی ہو تو وہاں اس سے ہیرے کا جگر کاٹنے کی کوشش کر لینی چاہیے ورنہ:

”مردِ“ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر

اور ہاں، سب سے پہلی بات سب سے آخر میں، کہ روبینہ کو کتاب کی بہت مبارکباد

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •