صدارتی طرز حکومت: وفاتی یا وحدانی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دنوں پاکستان کے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر صدارتی طرز حکومت کی نفاذ کے لئے زور و شور سے تحریک چل رہی ہے، پاکستانی دانشوروں کا خیال ہے کہ چونکہ پارلیمانی طرز حکومت سے ملکی مسائل حل نہیں ہوئے اس لئے اس نظام کو لپیٹ کر اس کی جگہ صدارتی طرز حکومت نافذ کیا جائے تو پلک جھپکتے ہی سارے مسائل حل ہوں گے معیشت بہتر ہوگی قانون پر عمل درآمد ہوگا اور عدالت اپنے فیصلے بروقت کریں گے۔ کیا ایسا ہونا ممکن ہے۔ ؟ یہ سوال قاریئن پہ چھوڑ کے دوسرے سوال کی جانب جاتے ہیں آخر یہ صدارتی طرز حکومت کیا ہے۔ ؟

بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا میں دو قسم کے جمہوری نظام رائج ہے ایک پارلیمانی اور دوسرا صدارتی۔ پارلیمانی طرز سیاست و حکومت ”مادر آف ڈیموکریسیز“ یعنی برطانیہ کی پیداوار ہے جبکہ صدارتی نظام حکومت کا آغاز امریکہ سے ہوا۔ مگر اس کے علاوہ بھی دنیا میں مختلف قسم کے جمہوری نظام رائج ہے مگر ہمارے دانشوروں کو ان کا علم تک نہیں۔ مثلا فرانس میں صدارتی کم پارلیمانی نظام جمہوریت رائج ہے یہ ماڈل ترکی میں بھی کئی سالوں سے نافذ ہے تاہم جدید دور میں اردوان نے سارے اختیارات کو اپنی ذات تک محدود کرنے کے لئے آئین میں ترامیم لاکر پارلیمان کے اختیارات میں کمی کی تاہم اب بھی ترکی میں صدارتی کم پارلیمانی نظام حکومت رائج ہے۔

جرمنی کا اپنا الگ جمہوری نظام ہے۔ اگر خالص صدارتی نظام کی بات کی جائے تو اس کے لئے ہمیں امریکن سیاسی نظام کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ امریکہ شاید دنیا کی واحد جمہوریت ہے جہاں ہر سال انتخابات ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی صدارتی انتخابات، کبھی ایوان نمائندگان کے الیکشن، کبھی سینٹ، کسی سال ریاستی گورنرز کے انتخابات اور کسی سال بلدیاتی الیکشن۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ کا سیاسی نظام سب سے زیادہ متحرک ہے۔

امریکی سیاسی نظام کے مطالعہ سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں ایگزیکٹیو اختیارات صدر کے پاس ہوتے ہیں جبکہ پارلیمانی نظام میں یہ اختیارات وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں۔ قانون سازی کے لئے امریکہ میں بھی ہاؤس آف ریپریذنٹیٹیوز یعنی ایوان نمائندگان کے علاوہ سینٹ میں بھی دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ دونوں ہاؤسز کو ملا کر کانگریس کہا جاتا ہے۔ کوئی بھی قانونی مسودہ راتوں رات پاس نہیں ہوتا۔ امریکی نظام کو وفاقی طرز حکومت بھی کہا جاتا ہے جس میں دفاع، کرنسی اور خارجہ امور کے علاوہ سارے اختیارات ریاستوں کے پاس ہوتے ہیں۔ البتہ اس نظام کے اندر یہ خوبی موجود ہے کہ کابینہ کا انتخاب صدر اپنی مرضی سے کرتے ہیں کابینہ کے اراکین کے لئے یہ لازم نہیں کہ وہ منتخب نمائندے ہو۔

فرض کیا پاکستان سے پارلیمانی نظام حکومت کا بوریا بستر لپیٹ کر یہاں امریکی طرز کا صدارتی نظام نافذ کیا گیا تو اس سے پاکستان کے مسائل کس طرح حل ہوں گے۔ ؟ فی الحال اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل پارہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے دانشور صدارتی اور پارلیمانی طرز حکومت کے علاوہ وفاقی اور وحدانی طرز حکومت میں تمیز نہیں کرتے۔ امریکہ میں وفاقی صدارتی طرز حکومت رائج ہے جبکہ برطانیہ میں وحدانی پارلیمانی نظام حکومت۔ مگر جہاں ہم سوشل میڈیا سے لے کر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر صدارتی نظام کی خوبیان بیان کرتے نہیں تھکتے وہیں ہمیں یہ تک پتہ نہیں کہ وفاقی اور وحدانی حکومتین کس چڑیا کا نام ہے۔

وفاقی طرز حکومت دو ایوانی مقننہ پر مشتمل ہوتی ہے جس میں عموما اپر ہاؤس یا سینٹ ریاستوں یا صوبوں کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ لوئر ہاؤس یعنی ہاؤس آف ریپریذنٹیٹیو / ایوان نمائندگان ( پاکستان میں قومی اسمبلی ) وفاق کے نمائندے ہے۔ وحدانی طرز حکومت میں صوبوں کے پاس اختیارات نہیں ہوتے نہ ہی صوبوں کی اپنی اسمبلیاں اور قانون ساز ادارے ہوتے ہیں سارے اختیارات مرکز کی تحویل میں ہوتی ہے۔ ہمارے دانشور امریکہ کے طرز کا وفاقی صدارتی نظام چاہتے ہیں یا پھر یہاں وحدانی صدارتی نظام لانے کے خواہاں ہے۔ ؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی دانشور وں کو نہ صدارتی نظام کا علم ہے اور نہ ہی پارلیمانی نظام کا وہ مطالعہ کرتے ہیں نہ وہ وفاقی طرز حکومت کے متعلق جانتے ہیں اور نہ ہی وحدانی طرز حکومت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ وہ خود بھی کنفیوز اور عوام کو بھی صدارتی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •