فیس بک… مشتری ہشیارباش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دن پہلے فیس بک پر کچھ نوجوانوں کی ترتیب دی ہوئی ’’پسندیدہ‘‘ شعرا کی فہرست دیکھی! عباس تابش اور اختر عثمان کے سوا کوئی معتبر شاعر اس نام نہاد فہرست میں شامل نہ تھا۔ شعرا پرتو نہیں، شاعری پر برا وقت ہے۔ مشاعرے کیا کم تھے، پست ذوقی کی ترویج کیلئے کہ فیس بک بھی اس جرم میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرنے لگی ہے!

محب عارفی یاد آ رہے ہیں ؎ رواں ہر طرف ذوق پستی رہے گا بلندی کے چشمے ابلتے رہیں گے شریعت خس و خارہی کی چلے گی علم رنگ و بو کے نکلتے رہیں گے مچلتے رہیں روشنی کے پتنگے دیے میرے کاجل اگلتے رہیں گے پہلے مشاعروں کی بات ہو جائے کہ کس طرح عارضی شہرت اور وقتی دادو تحسین شعرا کو غلط فہمی میں مبتلا کرتی ہے، یہاں تک کہ عمر ڈھل جاتی ہے اور وہ مشاعروں کے قابل نہیں رہتے۔

شہرت اور دادو تحسین سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ مشاعروں سے مراد وہ مشاعرے نہیں جو غالب اور ذوق کے زمانے میں برپا ہوتے تھے۔ تقسیم سے پہلے بھی مشاعروں کے سامعین باذوق ہوتے تھے۔ بدذوقی کا سلسلہ تب شروع ہو اجب بیرون ملک مشاعروں نے کاروبار کا روپ دھارا اور پاک و ہند میں اس حوالے سے ٹھیکے ملنے لگے۔

تاہم شاعری کے اعلیٰ معیار کا اس کاروبار، اس ٹھیکیداری اور اس کٹ تھروٹ دوڑ دھوپ سے کوئی لینا دینا نہ تھا۔ معتقدین میں جمیل الدین عالی نے سب سے زیادہ غیرملکی مشاعرے پڑھے، ٹھیکہ بھی ایک مدت تک انہی کے پاس رہا۔ پھر متوسطین کا عہد آیا۔ وسیم بریلوی اور پیرزادہ قاسم نے ریکارڈ قائم کئے مگر جمیل الدین عالی صاحب، وسیم بریلوی یا پیر زادہ قاسم کے کتنے اشعار شائقینِ شعر کو یاد ہوں گے؟ کیا عجب ایک بھی یاد نہ ہو!

جمیل الدین عالی کے جو گیت زندہ ہیں ان میں زیادہ کمال شہناز بیگم کا ہے! متاخرین میں عباس تابش اس ضمن میں استثنا ہے! مکمل استثنا! جون ایلیا کے بعد وہ واحد شاعر ہے جس نے بلند پایہ شاعر ہونے کے باوجود بہت مشاعرے پڑھے ہیں اور مسلسل پڑھ رہا ہے۔ تاہم اس کی شہرت مشاعرہ بازی کی مرہون منت نہیں! یہ کام شروع کرنے سے پہلے وہ ادب کے سنجیدہ حلقوں میں اپنی دھاک بٹھا چکے تھے۔

یہ الگ بات کہ مشاعروں کی خاطر اسے اپنی سطح سے ذرا نیچے آنا پڑا۔ جس شاعر نے ایسا باکمال شعر کہا ہو ؎ حالت جنگ میں آدابِ خور و نوش کہاں اب تو لقمہ بھی اٹھاتا ہوں میں تلوار کے ساتھ اسے اعتبار کیلئے مشاعروں کی ضرورت نہیں! ہاں کور ذوقی کے اس کثیف زمانے میں مشاعرہ بازی اس کے طفیل تھوڑا بہت اعتبار رکھنے لگی ہے!

بات یہاں سے شروع ہوئی تھی کہ فیس بک کس طرح پست ذوقی کی ترویج کر رہی ہے۔ شعرا کی فہرست میں عباس تابش اور اخترعثمان کے سوا کوئی قابل ذکر شاعر نہ تھا۔ افتخار عارف کا نام تھا نہ وحید احمد کا! سعود عثمانی کا نہ معین نظامی کا! فرح یارکا نہ امداد آکاش کا! یہ وہ شعرا ہیں جو زبان و بیان کے ماہر ہیں اور ظفر علی خان جیسے ثقہ ادیبوں کی روایت کے تسلسل میں لفظی اور لغوی صحت کا خیال رکھتے ہیں!

نوجوان شاعروں کا ایک پورا گروہ صرف فیس بک کی پیداوار ہے۔ وہیں سے ان کا راستہ مشاعرہ بازی کی طرف نکلا۔ فاش غلطیاں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ کسی سے مشورہ نہیں لیتے یہاں تک کہ ادبی جرائد میں بھی چھپنا ضروری نہیں سمجھتے۔ احمد ندیم قاسمی، وزیر آغا، محمد سلیم الرحمن اور شمس الرحمن فاروقی جیسے جید مدیرانِ عظام ایسی شاعری اپنے جرائد میں شائع کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے جو معیار سے گری ہوئی ہو۔

اس گئے گزرے زمانے میں بھی مبین مرزا، ناہید قاسمی، نصیر احمد ناصر اور ممتاز شیخ جیسے مدیر، معیار کی حفاظت پر کمربستہ ہیں! فیس بک کے ذریعے اپنی شاعری منتشر کرنے والے نوجوان شاعروں کو سب سے زیادہ گھاٹا یہ ہو رہا ہے کہ غلط اور صحیح میں سفید اور سیاہ میں فرق نہیں رہا۔ کوئی بتانے والا نہیں! کوئی نشان دہی کرنے کے قابل ہی نہیں!

عالم یہ ہے کہ فراز، فیض اور غالب کے نام پر جو خودساختہ، بے وزن، ’’اشعار‘‘ پوسٹ کیے جا رہے ہیں ان پر بھی داد دی جا رہی ہے۔ ادبی جرائد پڑھنے والے اور لوگ تھے۔ فیس بک تو اندھیرے میں لکڑیاں چننے والی بات ہے۔ سوکھی اور گیلی میں تمیز ہی نہیں ہو سکتی۔

ہماری توجہ ایک شاعر نے اس طرف مبذول کی کہ کیا ’’خوشی اور غمی‘‘ درست مرکب ہے؟ غمی تو کوئی لفظ ہی نہیں، خوشی کے ساتھ غم آئے گا! غمیں ایک لفظ ضرور ہے مگر اس کا مطلب ’’مغموم‘‘ ہے جیسے کہ اقبال نے کہا ؎ وہ مرغزار کہ بیم خزاں نہیں جس میں غمیں نہ ہو کہ ترے آشیاں سے دور نہیں اسی طرح ان بچوں کو یہ بتانے والا کوئی نہیں کہ گاؤں اور پاؤں وغیرہ کے الفاظ کس وزن پر باندھنے ہیں۔

شعر میں ’’پاؤں‘‘ کو ’’پیر‘‘ کے وزن پر باندھنا ہوتا ہے، ’’پیروں‘‘ کے وزن پرنہیں! مثلاَ ؎ ہاتھوں میں پھول ہیں مرے پاؤں میں ریت ہے یہاں پاؤں درست نہیں باندھا گیا۔ اس کے مقابلے میں ظفر اقبال صاحب کا یہ شعر دیکھنا ہو گا ؎ اب کے اس بزم میں کچھ اپنا پتہ بھی دینا پاؤں پر پاؤں جو رکھنا تو دبا بھی دینا دونوں میں فرق ہے۔

اسی طرح احسان دانش کا یہ شعر بھی رہنمائی کرتا ہے ؎ کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر یہاں ناؤ، نار کے وزن پر اور دباؤ، دبار کے وزن پر استعمال ہوا ہے یہی فصاحت اور پرفیکشن کی علامت ہے۔

فراز صاحب نے جب ’’سیہ چشمگی‘‘ کا لفظ استعمال کیا تو ظفر اقبال صاحب نے بجا طور پر نشان دہی کی کہ درست لفظ سیہ چشمگی نہیں، سیہ چشمی ہے جیسا کہ احمد ندیم قاسمی نے کہا ؎ تو نیند میں بھی میری طرف دیکھ رہا تھا سونے نہ دیا مجھ کو سیہ چشمئی شب نے فیس بک اور بیرون ملک مشاعرے، یہ دونوں نشے شاعری کو صیقل کرنے کے راستے کی رکاوٹیں ہیں!

نوجوان شاعر اس زعم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ ہمچو من دیگری نیست! دادو تحسین کے ڈونگرے فیس بک پر ’’لائیک‘‘ کرنے والوں کی تعداد! مگر ان میں سے کچھ بھی شاعری کے معیار پر دال نہیں ہو سکتا! ایک عزیز کو جو اچھے خاصے شعر کہہ رہا ہے۔ مشورہ دیا کہ ادبی جریدوں کو اپنا کلام بھیجو تاکہ ادب کے سنجیدہ قارئین تک تمہارا کلام پہنچے۔

اس نے کمال خود اعتمادی سے جواب دیا کہ یہ کام میں فیس بک سے لے رہا ہوں اور کلام لوگوں تک پہنچ رہا ہے! سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا تھا کہ ؎ ہرکس کہ نداند و نداند کہ نداند ٭٭٭٭٭ جناب افتخار عارف کی صحت اب تدریس اور مشورے دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی ‘تاہم نوجوان شعرا کو چاہیے کہ اسلام آباد میں اخترعثمان اور وحید احمد سے، اور لاہور میں سعود عثمانی، عباس تابش، معین نظامی اوردوسرے ثقہ اور معتبر شعرا سے مشورہ کیا کریں۔

ہاں! ایک بابا اور بھی ہے جو شعر شناسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا مگر ہاتھ مشکل سے آتا ہے۔ شعیب بن عزیز سے فائدہ حکمرانوں نے اٹھایا حالانکہ یہ حق شعرا کا تھانکتہ دانی اس پر ختم ہے!

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •