زلیخا کا ناسور
غربت کا ناگ ہے جس کے ڈسے ہوئے لوگ زندگی گزار تے نہیں بھگتاتے ہیں۔ ایسی جگہوں سے جہاں جوان لڑکیاں شادی کے بعد حمل کے دوران بچے جنم دینے میں ناکام ہوجاتی ہیں اور جب مرا ہوا سڑا ہوا بچہ کئی دنوں کے بعد پیدا ہوتا ہے تو پیشاب کی تھیلی میں سوراخ بھی کر ڈالتا ہے۔ پھر تھوڑے دنوں بعد ہر وقت پیشاب رستی ہوئی یہ لڑکیاں، گھروں سے نکال دی جانے والی بیویاں نہ جانے کن کن راستوں سے ہوتی ہوئی اور کیا کیا فاصلے طے کرکے اس اسپتال میں آتی ہیں اور یہاں ان کا فسٹیولا، یہ سوراخ صحیح کیا جاتا ہے میں نے ایسی ہی لٹی ہوئی لڑکیوں کو آتے ہوئے دیکھا، ان لٹی ہوئی لڑکیوں کے چہروں کی چھنی ہوئی مسکراہٹوں کو بھی واپس آتے ہوئے دیکھا۔ وہ تجربہ بہت حسین تھا۔ مجھے پہلی دفعہ شدید احساس ہوا کہ شیوان کتنا بڑا کام کررہی ہے اس اسپتال کے لئے پیسہ جمع کرنے سے بڑی کوئی عبادت کیا ہوسکتی تھی؟ مجھے اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔
پھر شیوان کے اسکول کی چھٹیوں میں ہم ہر سال ایتھو پیا جاتے تھے۔ دو ہفتے رضاکارانہ طور پر میں بھی اس اسپتال میں کام کرتا تھا۔ روزانہ پانچ چھ آپریشن میں بھی کرلیتا تھا۔ سال کے دو ہفتے کا یہ کام جتنی خوشیاں دے کر جاتا تھا، انگلستان میں سارا سال کام کرکے نہیں ملتی تھی۔ پھر انگلستان میں فسٹیولا کا مسئلہ تو تھا ہی نہیں۔ تیس پینتیس سال انگلستان میں گزارنے کے باوجود میں نے ایک بھی ایسی مریضہ یہاں نہیں دیکھی تھی۔
انگلستان اور یورپ کی عورتیں ذلت کی اس بیماری سے سالوں پہلے نجات حاصل کرچکی تھیں۔ یہ بیماری تو افریقہ اور ایشیاء کے ان ملکوں کی عورتوں کا مقدر تھا جہاں دولت ہونے کے باوجود غربت ہے۔ جہاں کے میرے جیسے ڈاکٹر جو یہ آپریشن کرسکتے ہیں مگر وہ لندن میں کسی شیوان، سکی جوزفین کے ساتھ سکھ چین کی زندگی گزاررہے ہیں۔ انگلستان نے مجھے بہت کچھ دیا تھا، شیوان میری زندگی تھی مگر نہ چاہنے کے باوجود یہ خیالات میرے دماغ میں آجاتے تھے، اپنے ملک سے باہر رہ جانے والوں کا رشتہ کبھی ٹوٹتا نہیں ہے یہ جیسے ناف کا رشتہ ہے جس کا نشان ساری زندگی کے بنیادی رشتے کی یاد دلاتا رہتا ہے۔
ایک دن اسپتال میں نذیر سومرو ملنے آیاتھا۔ پاکستان کا یہ ڈاکٹر لندن یونیورسٹی میں ایک کورس کررہا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ لندن میں ہی پاکستانیوں سے پیسے جمع کرکے لاڑکانہ کے اسپتال میں فسٹیولا کے آپریشن کے لئے ایک میڈیکل کیمپ لگارہا تھا۔ مجھے پہلی دفعہ پتا لگا تھا کہ پاکستان میں بھی لڑکیاں اس مرض کا شکار ہوتی ہیں۔ وہ اسی سلسلے میں مجھ سے ملا تھا۔
نذیر نے بتایا تھا کہ سندھ کے دیہاتوں میں کتنی ہی لڑکیاں ہیں جو فسٹیولا کے اس عذاب کے ہاتھوں زندہ درگور ہیں۔ نذیر کو پتا چلا تھا کہ میں ہر سال ادیس ابابا جاکر یہ آپریشن کرتا ہوں۔ اس نے مجھے دعوت دی تھی کہ میں تھوڑے دنوں کے لئے لاڑکانہ کے اس کیمپ میں مدد کروں۔ شیوان کا بھی یہی خیال تھا کہ ہمیں ضرور وہاں جانا چاہیے اور پھر ہم دونوں ہی نے اس کام کی حامی بھرلی تھی۔ مجھے اس فیصلے کے بعد بڑی خوشی ہوئی تھی بالکل ایسی ہی خوشی جیسی کسی بہت اچھے دوست کا بہت پرانا قرض اتار کر ہوتی ہے۔
میرا اب پاکستان میں کوئی نہیں تھا۔ ابا جان، امی اور بڑے ابو کے انتقال کے بعد نجمہ سے کوئی تعلق نہیں رہا تھا۔ مجھے تو پتا بھی نہیں تھا کہ وہ اب کہاں ہے؟ دوست پاکستان میں کوئی رہا نہیں تھا۔ میڈیکل کالج میں میری کلاس کے دوست امریکا میں تھے انگلستان میں اور خوش حال زندگی گزار رہے تھے۔ پاکستان سے صرف خبروں کا تعلق تھا۔ ریڈیو کا ایک رشتہ اور ٹیلی وژن کا ایک واسطہ۔ پاکستان کے بارے میں بہت سی باتوں کا اندازہ تھا مگر میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہاں بھی لڑکیاں حمل کے دوران انہیں تکالیف کا شکار ہوتی ہیں جو ایتھوپیا، تنزانیہ اور یوگنڈا کی عورتوں کا مقدر ہے۔
یہ تو قحط زدہ ملک ہیں، یہاں تو یہ ممکن ہوتا ہوگا، پاکستان میں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں افریقہ کے صحراؤں اور جنگلوں سے آنے والی عورتوں کا علاج کرتا رہا اور سمجھتا رہا کہ پاکستان ہندوستان غریب ممالک ضرور ہیں مگر وہاں یہ حال تو نہیں ہوگا۔ یہ خطہ زمین تو بہت پرانا ہے۔ موہنجوداڑو کے کھنڈروں سے لے کر اجنتا کے غاروں تک۔ افریقہ کے وحشیوں سے بہت پرانی تہذیب ہے ہماری۔ ہندوستان کے پاس تو ایٹم بم بھی تھا اور پاکستان کی تیاریاں بھی مکمل تھیں۔ یورپ میں ہر ایک کو پتا تھا۔ اس کے باوجود افریقہ جیسا حال۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے تھوڑی دیر کے لئے سوچا کہیں نذیر جھوٹ تو نہیں بول رہا ہے۔
میں نے اور شیوان نے بھرپور تیاریاں شروع کردی تھیں۔ میں واپس کراچی جارہا تھا جہاں میں اسکول اور کالج گیا تھا۔ اسکول کے زمانے میں مجھے موہنجوداڑو کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ میں نے اس وقت بھی سوچا تھا کہ ایک دن ضرور لاڑکانہ جاکر ہزاروں سال پرانے کھنڈرات دیکھوں گا۔ اب یہ پرانا بہت پرانا خواب تعبیر پارہا تھا۔ اب میں نہ صرف یہ کہ کراچی جارہا تھا بلکہ موہنجوداڑو اور لاڑکانہ بھی جارہا تھا۔ اسی پاکستان میں جس کی جنگ سبھی پاکستانی پاکستان سے باہر لڑتے ہیں۔
کراچی کا کانٹی نینٹل ہوٹل ویسا ہی تھا۔ ویسا ہی صاف ستھرا، وہی دوستانہ ماحول ویسے ہی لذیذ کھانے۔ کالج کے زمانے میں کسی دوا کی کمپنی کی طرف سے ہونے والی دعوتوں میں، میں نے وہاں کھانا کھایا تھا یا کبھی چائے پی لی تھی مگراس دفعہ ہم لوگ ٹھہرے ہی وہاں تھے۔ مہمان نوازی کا مزہ آگیا تھا۔
دو دن کراچی میں رہنے کے بعد ہم لوگ لاڑکانہ چلے گئے تھے۔ موہنجوداڑو ایئر پورٹ، موہنجوداڑو کے ساتھ ہی بنا ہوا تھا۔
موہنجوداڑو میری اور شیوان کی توقعات سے کہیں زیادہ شاندار تھا۔ شیوان تو موہنجوداڑو کے بارے میں بہت ساری کتابیں پڑھ کرآئی تھی۔ اس کے ساتھ مجھے بھی یہ کھنڈرات دیکھنے کا بہت مزہ آیا تھا۔ ہزاروں سال پرانی تہذیب اپنی تمام تر شان و شوکت کے ساتھ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود تھی۔ وہ لوگ بہت عزت و شان کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے گھر، ان کے اسکول، ان کی عبادت گاہیں، ان کا پانی کا نظام، ان کے گندگی کے نکاسی کے طریقے، ان کی عدالتیں، ان کے بازار، ان کا رہن سہن، ان کا طریق زندگی ہزاروں سال پہلے وہ اتنے ترقی یافتہ تھے، میں اش اش کراٹھا تھا۔
لاڑکانہ اتناہی خراب تھا۔ یقین ہی نہیں آتا تھا کہ اس شہر سے تھوڑے سے فاصلے پرہزاروں سال پہلے رہنے والوں نے جو شہر بسایا تھا یہ ان کے ہی بچوں کا دوسرا شہر ہے۔ گندگی کے ڈھیر، ابلتے ہوئے گندے پانی کے نالے، مکانوں کی بے سمت اور بے ترتیب قطاریں، ایک وہ شہر تھا جس کے کھنڈروں کودیکھ کرلگتا تھا کہ یہاں رہنے والوں کے نظام میں انصاف کو فوقیت رہی ہوگی اور لاڑکانے کو دیکھ کرلگتاتھا کہ غربت اور نا انصافی اس شہرکی بنیادوں میں شامل ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

