زلیخا کا ناسور


مجھے پاکستان آکریہ پہلا دھچکا لگا تھا۔ وزیراعظموں، وزیراعلاؤں اوروزیروں کا شہرتھایہ۔ بھکاریوں سے اٹاہوا ننگے پیر بھیک مانگتے ہوئے چھوٹے چھوٹے بچے، دبلی پتلی فاقہ زدہ لڑکیوں، عورتوں کا ہجوم جو سرکاری اسپتال میں بے عزت ہونے کے لئے آتے ہیں۔ اتنی غربت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ یہ اسی ملک کے وزیراعظم کا شہر تھا جس کی فوج امریکا سے کروڑوں ڈالر کے جنگلی طیارے خریدتی ہے، جو فرانس سے عربوں روپوں کی جنگی آبدوزیں بنواتی ہے جس کے کتنے ہی سربراہ دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں۔

اس ملک کے اس شہرمیں غربت وافلاس کا ننگا رقص دیکھ کر شیوان کے آنسو نکل آئے تھے۔ ایتھوپیا سے بدتر تھے لاڑکانہ کے غریب۔ اس نے مجھ سے پوچھا تھا، کیوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں اس شہر کے وزیراعظم نے ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کیا تھا؟ کیوں اس ہیبت ناک پروگرام کا آغاز کیا تھا جس کی جنگ ابھی تک جاری ہے؟ اسے یہ بدحالی، یہ غریب، یہ مظلوم نظر نہیں آتے تھے۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

نذیر نے پچاس سے زائد جوان لڑکیوں کو آپریشن کے لئے جمع کیا ہوا تھا۔ ان سب کو حمل کے دوران علاج نہ ہونے کی وجہ سے پیشاب کی تھیلیوں میں سوراخ ہوگئے تھے۔ ان سب کو گھروں سے نکال دیا گیا تھا۔ سب کی سب غریب تھیں۔ ذلتوں کی ماری ہوئی بے وقعت عورتیں، فاحشہ عورتوں سے بدتر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیشاب رستی ہوئی جادوگرنیاں۔ مجھے نذیر بہت اچھا لگا تھا جس نے پیسے جمع کیے تھے، لوگ جمع کیے تھے اور ان قسمت کی ماری ہوئی عورتوں کے آپریشن کا انتظام کیا تھا۔

صرف چار عورتوں کے علاوہ جن کے فسٹیولا اتنے بڑے تھے کہ ان کا آپریشن ممکن ہی نہیں تھا باقی سب کے صبح سے شام تک روزانہ سات آٹھ آپریشن کرکے جتنے بھی سوراخ بن جانے کے قابل تھے ان کو ہم لوگوں نے بنادیا تھا۔ زلیخا آخری مریضہ تھی، مشکل سے پندرہ سال عمر ہوگی اس کی۔ لاڑکانہ شہر سے چالیس پچاس میل دور ایک اور شہر ہے شہداد کوٹ۔ شہداد کوٹ کے چاروں جانب چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں حاکم شاہ، بہرام، نوڈیرو، رتوڈیرو اور پناہ شیخ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں کے آس پاس سے آئی تھی وہ اپنی ماں کے ساتھ۔

دبلی پتلی کمزور چہرہ جو کبھی بہت خوبصورت رہا ہوگا، ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوگی تھی اس کی آنکھیں اس کے چہرے پر سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔ کسی بچی کی اتنی ویران آنکھیں میں نے آج تک نہیں دیکھی تھیں۔ درد کی ایک ٹیس تھی جو میرے سینے میں اٹھی تھی اور میری روح کو زخمی کرتے ہوئے دور تک مجھے گھسیٹتی ہوئی لے گئی تھی۔ وہ بارہ سال کی تھی تو اس کی شادی پینتیس سال کے اس زمیندار سے کر دی گئی تپی جس کے پہلے ہی چھ بچے تھے۔

کچھ پیسوں کے عوض کچھ قرضے معاف کرانے کے لئے اس کے باپ نے اسے اس زمیندار کے حوالے کردیا تھا۔ بارہ سال کی یہ گڑیا جس کے خود گڑیا سے کھیلنے کے دن تھے یکا یک اپنے سے تین گنا عمر کے وحشی کی بیوی بن گئی تھی۔ تیرہ سال کی عمر میں وہ تین دن تک گاؤں کی حویلی کے ایک کمرے میں حمل کے درد سے تڑپتی رہی تھی، سسکتی رہی تھی، بلکتی رہی تھی۔ تین دن تک گاؤں کی دائیاں اس کے ساتھ وہ سب کچھ کرتی رہیں جو جانوروں کے ساتھ بھی نہیں ہوتا ہے۔

تین دن کے بعد ایک مرا ہوا متعفن بچہ پیدا ہوگیا تھا۔ پانچ دن کے بعد سے اس تیرہ سال کی بچی کا اپنے پیشاب پراختیار ختم ہوگیا تھا۔ اس کا پیشاب مسلسل بہنا شروع ہوگیا۔ اسے فسٹیولا ہوگیا اور پھر زمیندار نے اسے گھر سے نکال دیا۔ اب وہ اس کے قابل نہیں رہی تھی گاؤں والوں کے خیال میں اس پر کسی جن کا سایہ تھا وہ ناپاک تھی، اچھوت، نہ چھونے کے قابل۔

تیرہ سال سے پندرہ سال کی عمر تک اس کا پیشاب مسلسل بہتا رہا تھا۔ زندگی اس کے لئے نہ ختم ہونے والا ایک ڈراؤنا خواب بن کر رہ گئی تھی۔ صرف اس کی ماں اس کے ساتھ تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے جنم کے گناہ کا بوجھ لئے ساتھ ساتھ ہر جگہ ذلتوں کا شکار ہونے کے لئے۔

دو گھنٹے کے معمولی آپریشن کے بعد وہ صحیح ہوگئی تھی۔ دوسرے دن وہ اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس کے کپڑے اور بستر بالکل خشک تھے، اس کی فاقہ زدہ خوبصورت چہرے کی ویران آنکھوں سے خوشی کے موتی چھلکنے کے لئے بے قرار سے تھے۔ شیوان نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے میں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا کامیاب آپریشن کیا ہے۔

تین دن کے بعد ہم لوگ کراچی واپس آگئے تھے۔ سارے ہی مریض ٹھیک تھے مگر مجھے سب سے زیادہ خوشی زلیخا کی تھی۔ چھ دن اور اس کو اسپتال میں رہنا تھا، پھر اس کے بعد وہ اپنی زندگی کی خود مالک ہوگی۔ ایک نارمل لڑکی کی طرح جس کا جسم مکمل ہوتا ہے۔ کانٹی نینٹل ہوٹل سے ہی میں نے چھ دن بعد لاڑکانہ فون کرکے زلیخا کا حال پوچھا تھا۔ وہ ٹھیک تھی، زخم بھر چکے تھے۔ وہ گھوم پھر رہی تھی، پیشاب رسنا بند ہوگیا تھا۔ اس کی خوشی کا اندازہ ہرکوئی نہیں کرسکتا ہے۔

شام شیوان کے ساتھ مارکو پولو میں بیٹھے ہوئے تازہ پھلوں کے رس کی چسکی لیتے ہوئے ہم دونوں خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے کہ خنجر کے زخم کی طرح وہ خبرآئی تھی اورہم دونوں کو چھلنی کرتے ہوئے چلی گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان نے چاغی میں اپنے ایٹم بم کا دھماکا کردیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پوکھران کے جواب میں۔ کراچی کے کسی اخبار کا سپلیمنٹ ریسٹورنٹ کے میز پر پڑاہوا تھا۔ شیوان کا فق چہرہ سامنے تھا، میں نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔

زلیخا جیسی ہزاروں لڑکیاں گرد وطوفاں کے اس بادل کے پیچھے چاغی کے پہاڑوں پر سسکتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ یہ بم تو اپنی قیمت وصول کرے گا، بہت ساری زلیخاؤں کو پامال کرے گا، بارہ سال کی بچیاں لٹتی رہیں گی۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے وہ بم کا دھماکا نہیں تھا، بارہ سالہ بچیوں کی عروسی رات کی دل خراش چیخیں تھیں۔ وہ چاغی کا پہاڑ نہیں تھابلکہ پاکستان کی دھرتی پر بننے والا ایک بہت بڑا فسٹیولا تھا۔ بے بسی اور شدید دُکھ کا ایک احساس مجھ پر اُمڈتا آرہا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3