عوام کو جھوٹ سننے اور ماننے کا نشہ لگ گیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے خواب کی تعبیر اگر الٹی ہو سکتی ہے تو موجودہ حکمرانوں کی کہی بات اور کیا گیا ہر دعویٰ اگر خام ثابت ہو جائے تو اس میں عجب کیا۔

تاریخ کچھ یہی بتا رہی کہ برصغیر انڈو پاک کے مسلمان ایک طویل عرصے جو بھی سودا کرتے چلے آرہے ہیں اس میں خسارہ ہی پا رہے ہیں۔ نفع و نقصان نصیبوں کا حصہ ہوتا ہے لیکن یہاں کے باسی مسلمان خسارے کے ساتھ ساتھ دھوکا بھی کھاتے رہے ہیں لیکن خوش فہم اتنے ہیں کہ ہر مرتبہ پھر کسی تازہ فریب میں آجاتے ہیں۔

پاکستان بننے سے قبل اور پاکستان بننے کے بعد سے اب تک وہ کون سی تحریک ہے جس میں اسلام کا نام کسی نہ کسی شکل و صورت میں استعمال کرکے سیاسی قائدین نے اپنے مقاصد حاصل نہ کیے ہوں۔ مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ یہاں کے مسلمان نہ صرف فریب کھاتے رہے ہیں بلکہ اب تو لگتا ہے کہ وہ اتنے فریب خوردہ ہوچکے ہیں کہ جب تک فریب نہ کھائیں اس وقت تک انھیں آرام ہی نہیں آتا۔ فریب کھانے کے کچھ عرصے بعد بے شک انھیں اس بات کا احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ پھر کسی مکر میں آگئے ہیں لیکن جب دوبارہ پھر کوئی نیا جال بُن کر پھینکا جاتا ہے تو وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ بھی دھوکے کی ٹٹی ہی ہے، پھر بھی وہ اتنے خوش گمان ہو چکے ہیں کہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی بصد خوشی اپنا آپ جال بچھانے والوں کے حوالے کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔

سنہ 1857 کی جنگ آزادی میں بھی ”سور کی چربی“ نے کام دکھا دیا۔ پھروہی جال ”تحفظِ خلافت“ کا بہروپ دھار کر مسلمانانِ ہند میں ایک ہلچل مچا گیا۔ مسلمانوں کی کسی جماعت کے نام میں لفظ ”مسلم“ آجانا ایک ایسی کشش بن گیا کہ انڈوپاک کے سارے مسلمان مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہوگئے اور یوں اس وقت کے سیاستدانوں کو ایک خطہ زمین حاصل کرنے کا موقع میسر آگیا۔ پھر اس خطہ زمین میں بھی آج تک جو بھی آیا اور جو جو تحریکیں بھی چلیں اس میں اسلام کسی نہ کسی صورت روح رواں کا کردار ادا کرتا نظر آیا لیکن پھر بھی اسلام پاکستان میں آج تک کسی بھی شعبہ زندگی میں عملاً نافذ نہ ہو سکا۔

ایوب خان بسم اللہ کے بغیر تقریر ہی نہیں کیا کرتے تھے۔ بھٹو کو بھی سوشلزم میں ”اسلامی“ کا تڑکا لگانا پڑا، اسلامی جمہوری اتحاد ہو ہو یا نو ستارے، قومی اتحاد ہو یا مجلس عمل، سب میں اسی کی پیوند کاری کی گئی۔ ضیا الحق تو پوری پوری سورتیں پڑھتے نہ تھکتے تھے۔ اور اب ”ریاستِ مدینہ“ کے ڈھول پیٹے جارہے ہیں۔ گویا یہ بات تو طے ہے کہ یہاں کسی کافر کی دال اسلام کا تڑکا لگائے بغیر گل کر ہی نہیں دیتی لیکن سب کے سب اتنے بد طینت ہیں کہ ان کا ہر عمل اور اٹھایا جانے والا ہر قدم اسلام اور اس کی تعلیمات سے بغاوت میں ہی اٹھتا نظرآتا ہے۔

جھوٹ تو جیسے انگ انگ میں رس بس گیا ہو اور عوام کا عالم بھی یہ ہو گیا ہے کہ جب تک جھوٹ نہ سنیں انھیں بات کے ”سچ“ ہونے کا یقین ہی نہیں آکر دیتا۔

موجودہ حکومت کا بھی کچھ ایسا ہی عالم ہے۔ وہ کون سا ”سچ“ ہے جو اب جھوٹ ثابت نہیں ہورہا۔ ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر، بجلی پانی تیل اور گیس سستی، قرض نہ لینا، ملازمتوں کی اتنی فراوانی کہ باہر کی دنیا دوڑی چلی آئے، ریاست مدینہ بن جائے گی، لوٹے گئے دو سو ملین ڈالرز ہر صورت واپس لائے جائیں گے، کرپشن کا قتل عام ہو جائے گا، چور ڈاکو کوئی بچ نہیں پائے گا، این آر او کسی صورت نہیں ہوگا، دو نہیں، ایک پاکستان ہوگا، انصاف دہلیز پر ملے گا، تعیم سستی ہو جائے گی اور باہر جانے والا ہر پاکستانی ملک کے اندر دوڑا چلا آئے گا۔ کہی گئی کوئی ایک بات بھی ایسی ثابت نہیں ہو رہی جس کو ”سچ“ کا نام دیا جا سکے لیکن اس کے باوجود خوش فہم عوام اب بھی کسی انہونی کے منتظر ہیں۔

جس مہنگائی کا رونا الیکشن سے پہلے رویا گیا اور مہنگائی کے مطلب کو حکمرانوں کی کرپشن سے نتھی کیا گیا اب اس کا عالم یہ ہے کہ وہ آسمان سے باتیں کرتی نظر آ رہی ہے اور جن چیخوں کے متعلق یہ بات کہی گئی تھی کہ وہ کرپٹ عناصر کی ہوگی، وہ سب تو دعوتیں اڑاتے نظر آرہے ہیں البتہ عوام کی چیخیں ہی نہیں آہیں اور سسکیاں آسمان کو چھوتی ضرور دکھائی دے رہی ہیں۔

ایسے کربناک ماحول میں جب عوام یہ سنیں گے کہ چیئر مین اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں مزید 80 فیصد کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے تو ان کا اس خبر پر کیا حال بن جائے گا؟ انھوں نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ یاد رہے کہ گیس کی قیمتیں ان 9 مہینوں کے دوران پہلے ہی 100 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں جس پر مزید 80 فیصد اضافہ کیا عوام کی مایوسیوں میں اضافے کا سبب نہیں بنے گا۔

ایک جانب قیمتوں میں اضافہ در اضافہ اور دوسری جانب وزیر خزانہ کا یہ مذاق کہ آئی ایم ایف سے جو بیل آؤٹ پیکج (قرضہ) ملا ہے اس سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا، زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ کسی شاعر نے شاید اسی موقع کے لئے کہا تھا کہ

لے کی چٹکی میں نمک آنکھ میں بھر کر آنسو

اس پہ مچلے ہیں کہ ہم زخم جگر دیکھیں گے

ویسے وزیر خزانہ کا یہ مذاق کوئی نیا تو نہیں کیونکہ ہر مرتبہ مہنگائی بڑھائی جانے، ہر نئے بجٹ میں نئے نئے ٹیکس لگائے جانے اور غریب آدمی کا جینا حرام کردینے کے بعد ہر حکومت یہی کہتی آئی ہے کہ آنے والا بجٹ اور لگائے جانے والے نئے اور اضافی ٹیکسوں سے غریب بالکل بھی متاثر نہیں ہوگا۔ لوگ اس بات کو لاکھ جھوٹ سمجھیں لیکن میرے نزدیک اس سے بڑا سچ شاید ہی کوئی اور ہو۔ کسی بھی ظلم سے متاثر تو وہی ہوتا ہے جس نے ظلم یا سختی دیکھی ہی نہ ہو۔ جس ملک کے عوام تقیرباً پون صدی سے ایک اذیت جھیلتے چلے آئے ہوں ان پر مزید کسی اور ظلم یا سختی کا کیا اثر ہونا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •