تحفظ نہیں دے سکتے تو غم ہی بانٹ لو
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی دہشت گردی کا شکار ہونے والے اپنے شہریوں کو گلے لگاتے تصویریں انگریزی کے اس محاورے کو سو فیصد درست ثابت کرتی ہیں کہ اظہار کے لئے ایک تصویر ہزار الفاظ سے بہتر ہوتی ہے۔ ان تصویروں میں کالی شال اوڑھے اس باوقار خاتون کے چہرے پرمتانت اور آنکھوں سے چھلکتی سچائی کو دیکھنے والی ہر آنکھ نے محسوس کیا۔ اپنی راہنما کو شہریوں کی ہمدردی اور محبت کے سمندر میں غوطہ زن دیکھ کر نیوزی لینڈ کے شہریوں نے بھی جب بڑھ چڑھ کر دوگنی اور چوگنی محبت کا اظہار کیا تو ایسا لگا کہ نیوزی لینڈ ایک ملک نہیں بلکہ محبت اور خلوص کا ایک نخلستان ہے جہاں نفرت کی خزاں کا گزرکبھی ہوا ہی نہیں ہے۔
وہاں ہونے والی دہشت گردی کے کرب پر ریاست اور شہریوں کی محبت اور خلوص بھراطرز عمل غالب آیا جس کی وجہ سے دہشت گردوں اور دہشت گردی دونوں کو شکست ہوئی۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اپنے ملک میں دہشت گردی کا مقابلہ بلند و بانگ دعوؤں اور کھوکھلے نعروں سے کرنے کے بجائے اور خلوص اور محبت سے کرکے تہذیب کے نام پر تقسیم کے علمبرداروں کو نئے انداز میں ایسا کرارا جوب دیا کہ تاریخ اس کو سنہری الفاظ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یاد رکھے گی۔
نیوزی لینڈ کوئی برادر اسلامی ملک نہیں جس کا سربراہ تخت نشین ہونے سے قبل کلمہ پڑھ کر اپنے ایمان کی تجدید کرتے ہوئے اعتقاد میں راسخ ہونے کا اعادہ کرتا ہو یا روز قیامت ہونے والے الٰہیاتی احتساب کا روز و شب ذکر کرتا ہو۔ نیوزی لینڈ کے شہریوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے جیسے ایک شہری کو اقتدار سونپ دیا ہے جو ان کی طرح ہی بشری خطاؤں اور تقصیروں سے مبرا نہیں اور نہ ہی اس سے مافوق الفطرت آسمانی صفات کی توقعات رکھی جاتی ہیں۔
ہمیں یہاں قرون وسطیٰ کی جن ریاستوں کے نظام عدل و انصاف اور انتظام و انصرام میں شفافیت کی کہانیاں اساطیر کے درجے پر سنائی جاتی ہیں وہ ہم تاریخ کے اوراق میں ہی ڈھونڈ تے رہتے ہیں مگر عملاً نہ دیدم نہ شنیدم۔ ہمارے سربراہان مملکت و حکومت کے حلف کی طرح کسی بڑے واقعے پر ان کے اظہار ہمدردی کے الفاظ بھی تاثیر سے عاری کھوکھلے بیان ہوتے ہیں جن پر نہ کہنے والے کو یقین ہوتا ہے اور نہ سننے والے کو۔
لاشیں اور زخمیوں کو اٹھانے کا سلسلہ مملکت خداد اد میں تین دہائیوں سے جاری ہے۔ مدرسے، بازار، عبادت گاہیں، تعلیمی ادارے، گھر، دفاتر، چلتی بس سمیت کوئی جگی ایسی نہیں جہاں حملہ نہ ہوا ہو اور لوگ نہ مرے ہوں۔ جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو لوگوں نے اس کو وقتی رد عمل سمجھا مگر بات رکی نہیں اور ایک پوری نسل خوف و دہشت کی فضاؤں میں جوان ہوئی۔ کشت و خون کی روز پنپنے والی داستان معمول کا ایسا حصہ بن گئی کہ دوچار لوگوں کی موت کوئی بڑی بات نہ رہی۔ اب درجن دو درجن لوگوں کے مرنے کی خبر کو بھی ٹیلی ویژن چینل پر ٹیکر سے زیادہ جگہ نہیں ملتی اور حکومت کی طرف سے فوراً بیان آتا ہے کہ بروقت کارروائی سے دہشت گردی کے بڑے واقعے کو ہونے سے روک دیا گیا ہے۔
پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا تو ریاستی اداروں اور لوگوں میں یکسوئی دیکھنے میں آئی۔ دہشت گردی کے خلاف قانون سازی سمیت، فوجی عدالتیں قائم کرکے پکڑے جانے والے دہشت گرد اور ان کی کمین گاہیں ختم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ پورے قبائلی علاقوں میں مختلف ناموں سے اپریشن کا آغاز کیا جو ابھی تک جاری ہے۔ آرمی پبلک سکول میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کے لئے مگر آج بھی دربدر ہیں ان کے دکھ کا مداوا ریاست کے کسی ادارے کی بس کی بات نہیں۔
مشال خان کے والد اقبال لالا کی جوتیاں گھس گئیں ہری پور آتے جاتے تب کہیں جاکر عدالت سے فیصلہ آیا وہ بھی ملک کی میڈیا، سول سوسائٹی اور امن دوست حلقوں کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے ورنہ اس بوڑھے باپ کو بھی بیٹے کی طرح اب تک کسی تاریک راہ میں ماردیا ہوتا۔ مگر سلام ہے اقبال لالا کو جو اپنے جوان بیٹے کو کھودینے کے باوجود امن کا داعی ہے جس کی زبان پر ایک ہی پیغام ہے کہ دہشت گردی کی حمایت اور دہشت گردوں کی سرپرستی بند کی جائے۔ مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔
ملالہ یوسفزئی کی جرات اور ہمت کو دنیا نے سراہا اگر کہیں اس کو پزیرائی نہیں مل پائی تو وہ اس کے اپنے وطن پاکستان میں جہاں تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو مروا لینے کے بعد بھی لوگ پشیمان ہونے کے بجائے اپنے قاتلوں کے حامی نظر آتے ہیں۔ ملک کے وزیر اعظم جو کنٹینر پر کھڑے ہوکر مغربی جمہوریت اور اور وہاں علم کی برکات و فضیلتوں کے قصیدے پڑھا کرتے تھے مگر ملالہ کا نام نہیں لے سکے۔ ملالہ کے اپنے ملک میں حکومت اس کے دشمنوں کے خوف سے اس کا نام نہیں لے سکتی ہے تو ان کا مقابلہ کیا کرے گی۔
کوئٹہ میں رہنے والے ہزارہ شیعہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہیں۔ اب تک اڑھائی ہزار لوگ قتل ہوچکے ہیں ان کے لئے قبرستان کی جگہ کم پڑ گئی جہاں فطری اموات کا شکار ہونے والے کم اور بے گناہ مار دیے جانے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ تحفظ کے لئے لاشیں سامنے رکھ کر احتجاج کرتے رہے یقین دہانیاں ہوئیں مگر تحفظ نہ م ملا۔ کوئٹہ شہر اور ملک چھوڑ کر چلے گئے مگر ان کا تحفظ نہ ہوسکا۔ جو ماردئے گئے سو مر گئے، جو ملک چھوڑ کر چلے گئے وہ جاچکے مگر جو اب بھی اسی مقتل میں رہنے پر مجبور ہیں ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا جو خود ایسے حالات سے نہ گزرا ہو۔ گھر، گاڑی، دکان، دفتر، گاڑی، رکشہ اور بس ہر جگہ موت تعاقب میں محسوس ہو تو ایسے حالات میں انسان ایک متوازن زندگی کا تصور بھی کیسے کر سکتا ہے۔
یہ تو اب سبھی کو معلوم ہے کہ حکمران کہلانے والوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ مارنے والے سب سے طاقتور ہیں۔ دنیا کی آٹھویں نمبر پر طاقتور ترین فوج اور ایٹمی صلاحیت سمیت سب طاقت کی علامتیں نامعلوم قاتلوں کے سامنے مجبور دکھائی دیتی ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ مرنے والوں کے لئے جھوٹ موٹ کا دلاسا بھی خوف و دہشت کا شکار ہے۔ اب مرنے والوں کے حق میں بیان بھی نہیں آتا کہ ہمدردی کرنے والا خود کہیں اندھی موت کا نشانہ نہ بن جائے۔
مدنی ریاست کے دعویداروں اور دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے علمبرداروں سے کچھ اور نہیں صرف اس خلوص کا تقاضا ہے جس کا اظہار نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اپنے شہریوں سے کیا۔ وہ ہاتھ تو نہیں دے سکے جو موت کو روک سکیں مگر وہ بازو تو دے سکتے ہیں جو غم سے نڈھال کانپتے لرزتے جسموں کو تھام سکیں، ان بازوؤں کی گرمی میں لوگ موت کی ٹھنڈک بھول سکیں۔ بچھڑے ہوؤں کو واپس تو نہیں لاسکتے اور نہ ہی بوڑھے والدین کے سامنے ان کے جوان بچوں کی لاشیں پھینکنے والی دہشت کی آندھی کو روک سکتے مگر اپنے سینے میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی طرح بچھڑے بھائیوں کی بہنوں، بوڑھے والدین اور یتیم بچوں کے انسو تو جذب کرسکتے ہو۔ کیا اس میں بھی کوئی قباحت ہے؟


