سوڈان، صدارتی نظام کی ناکامی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمہوریہ سوڈان افریقہ کا تیسرا بڑاملک ہے جو 1956 میں برطانیہ سے آزاد ہوا۔ قدیم زمانے میں اس کو ”بلادالسودان“ کالوں کی زمین کہا جاتا تھا۔ شروع میں اس کو منفی پہلو میں پکارا جاتا تھا کہ یہ کالے غلامو ں کی زمین ہے، لیکن پچھلی صدی کے شروع میں جب اس قوم کے جوان جدید علم سے روشناس ہوے تو ان میں قومیت کا احساس پیدا ہوا۔ سوڈان میں پرانے زمانہ سے عورتوں کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ حکومت کی وراثت عورت سے چلتی تھی۔

بادشاہ کی بہن کا بیٹا ہی اگلا بادشاہ بن سکتا تھا۔ عورتیں جائیداد کی مالک ہوتی تھیں۔ پندرویں اور سولہویں صدی میں اسلام صوفیا کی مدد سے پھیلا۔ لیکن علاقہ میں غیراسلامی رسم و رواج مثلاًشراب نوشی اٹھارویں صدی تک موجود رہیں۔ اب بھی سوڈان کے معاشرتی رسم ورواج میں مسیحیت کا کافی اثرموجود ہے۔ زیادہ تر لوگ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں سوڈان کی آزادی کے بعد سے جنوبی حصہ کی مسلسل نظر اندازی کی وجہ سے اس علاقے میں بغاوت، ہنگامے او ر خانہ جنگی ہمیشہ جاری رہی۔

شمالی علاقوں میں مسلمان اورجنوب میں مسیحی آبادی کی اکثریت ہے۔ 1983 میں ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ہوا جس سے مذہبی اختلافات کو ہوا ملی۔ زبان، مذہب اور سیاسی طاقت کے عدم توازن کی وجہ سے یہ لڑائی بڑہتی گئی۔ دارفور تنازع کا 2003 میں آغاز ہوا جس میں عربی النسل کاشتکار قبائل اور افریقی النسل گلہ بان قبائل کے درمیان زمینوں اور چراہ گاہوں کی وجہ سے لڑائی چھڑ گئی۔ حکومت کے امتیازی سلوک کی وجہ سے تقریباًتین لاکھ لوگوں کا قتل ہوا اور تیس لاکھ کے لگ بھگ لوگوں کو ہجرت کا سامنہ کرنا پڑا۔

پچھلے تیس سال سے سوڈان پر صدر عمر البشیر کی حکومت تھی۔ سابق صدر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ  لڑ چکے تھے۔ عمر حسن البشیر 1989 میں شمال اور جنوب کی خانہ جنگی کے دوران جنوبی باغیوں کے ساتھ مذاکرات شروع ہونے کے بعدجمہوری طور پرمنتخب وزیر اعظم کی حکومت کو معزول کرنے والے فوجی گروہ میں شامل تھے۔ اس فوجی بغاوت کے نتیجے میں حکومت پر قبضہ کر کے ملک کے صدربن گئے۔ 96 کے الیکشن میں پھر صدر منتخب ہوے اور اس کے بعد سے کئی مرتبہ ایسے الیکشن جیتے جن کا اپوزیشن کی پارٹیوں نے بائیکاٹ کیاتھا۔

معروف مذہبی سکالر اور سیاستدان حسن الترابی ان کے اتحادی رہے ہیں۔ اور ان کی جماعت نیشنل اسلامک فرنٹ حکومت میں حصہ دار رہی ہے۔ اس جماعت کو ہی تخت کے پیچھے موجوداصل طاقت کہا جاتا تھا۔ اور یہ دنیا میں موجود واحد سنی اسلامی تحریک تھی جو ایک مملکت پر حکمران ہوئی۔ اسی جماعت کے ایک گروہ نے مصری صدر حسنی مبارک پر قاتلانہ حملہ کرنے والے لوگوں کی مدد کی۔ جس کے بعداقوام متحدہ نے سوڈان پر پابندیاں لگا دیں۔ 2011 میں ایک ریفرنڈم کے نتیجہ میں جنوبی سوڈان علیحدہ ہو گیا جس سے سوڈان تین چوتھائی تیل کی دولت سے محرو م ہوگیا۔ سوڈان میں عمر البشیر کی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی معاشی حالات خراب ہونا شروع ہو گئے تھے لیکن جنوبی حصہ کی علیحدگی کے بعد انتہائی خراب ہوگئے۔

وہ پہلے حکومتی سربراہ ہیں جن پر دار فور میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی وجہ سے عالمی کریمینل عدالت (ICC) میں دو مقدمات درج ہیں۔ لیکن ان کی حکومت کو اصل نقصان ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور رہن سہن کے اخراجات میں اضافہ سے پہنچا۔

پچھلے سال سوڈان کے دارالخلافہ خرطوم میں قیمتوں اور خصوصی طور پر روٹی کی قیمت میں اضافہ کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔

ان مظاہروں میں جلد ہی عورتیں، جوان اور پھر حزب مخالف کی جماعتیں بھی شامل ہوگئیں۔ سوڈانی حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کے بعد سادگی اور کفائیت شعاری اپنائی تھی۔ اس معاہدہ کے تحت مقامی کرنسی کی قیمت کوگرایا گیا۔ بجلی اور گندم سے سبسڈی ختم کردی گئی۔ اکتوبر 2018 میں کرنسی ڈیویلیو ہونے کے بعد مقامی ڈالر کی غیر ملکی کرنسیوں سے تبادلے کے ریٹ میں اتار چڑھاؤ بہت زیادہ ہو گیا۔ روز مرہ کی اشیاٗ مثلا پٹرول، روٹی انتہائی مہنگی ہوگئیں۔

ATM مشینوں کے سامنے لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ ملک کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے گئے۔ صدر البشیر اگلے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا کہہ چکے تھے اس کے باوجود وہ 2020 کے الیکشن میں دوبارہ امیدوار بن گئے۔ ان تمام وجوہات پر سوڈانی سوشل میڈیا میں اس کے خلاف مہم چل پڑی۔ دسمبر 2018 میں اٹبارہ شہر میں روٹی کی قیمت بڑھنے پر ہنگامے پھوٹ پڑے جو پھیل کر خرطوم تک پہنچ گئے۔ سوشل میڈیا بندکر دیا گیا۔ دارالخلافہ میں کرفیو لگا کر تمام سکول کالج بندکر دیے گئے۔ سنسر اتنا بڑھا کہ اخبار خالی صفحات کے ساتھ چھپنا شروع ہو گئے۔

عوام کا جم غفیر فوجی ہیڈ کوارٹر کے سامنے جمع ہو گیا۔ کرفیو، جھڑپیں، موسم کی سختیاں، تشدداور ہلاکتیں کچھ بھی ان کو وہاں سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ صدر البشیرکو پانچ دن کے دھرنے کے بعد 12 1 پریل کو حکومت سے ہٹادیا گیا۔ صدر عمر البشیرکے ساتھی جنرل ابن عوف اور جنرل صالح عبداللہ گوش کی آپس کی چپقلش اور حکومت پر ان کے بعد قبضہ کی خواہشات کے آگے بھی یہی لوگ سینہ سپر ہوگئے۔ جنرل ابن عوف کو بھی ایک دن بعد ہی استعفیٰ دینا پڑ گیا۔ عوام ابھی بھی ڈٹے ہوے ہیں کہ جب تک سویلین لوگوں کے ہاتھ زمام کار نہیں دی جاتی، ادھر ہی رہیں گے۔

صدارتی نظام، اسلامی حکومت، مذہبی پارٹیوں کا ساتھ، فوج کی پشت پناہی، اسلامی جہادی قوتیں، ہمسایہ ممالک سعودیہ، مصر، عرب امارات کاساتھ، آئی ایم ایف کا پیکج کچھ بھی افریقہ کے بہترین زرعی ملک کی معیشت کو بہتر نہ کرسکا۔ مذہبی سیاسی پارٹیوں کی وجہ سے اقلیتوں میں عدم تحفظ بڑھا اور فرقہ وارانہ فسادات بڑھتے گئے۔ مذہب کے نام اور مدد سے قائم تیس سالہ مضبوط آمریت ملک کو دو ٹکڑے کر گئی۔ جنوبی سوڈان جس میں ملک کا تین چوتھائی تیل پیدا ہوتا تھا، صدر اور مرکز کی نظر اندازی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے علیحدہ ہوگیا۔

اسامہ بن لادن کو مہمان رکھا گیا۔ ملک کا نام دہشت گردی کی مثلث میں یمن اور صومالیہ کے ساتھ لکھا جانے لگا۔ دارفور میں اپنے چہیتے مذہبی دہشت گردوں کی مدد سے اپنے ہی ملک کے عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر مارا گیا۔ بچوں کے ہاتھ میں خطرناک ہتھیار پکڑا دیے گئے۔ اقوام متحدہ کی امداد کے راستے بند کرکے قحط پیدا کیا گیا۔ جو گولیوں سے بچ گئے ان کو بھوک پیاس سے مارا گیا۔ لاکھوں لوگ مارے گئے۔ میلنز بے گھر ہوے۔ وہ ملک جو علاقہ میں سب سے اعلیٰ درجہ کی زرعی اجناس برامد کرتا رہا ہے اس کے عوام ایک وقت کی روٹی کو ترس گئے۔ اور سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو گئے۔ ہر تجربہ ہوا۔ لیکن نہ ملک بچ سکا اور نہ ہی مرکزی صدارتی نظام۔

اب صدیوں پرانے کالے غلام، عوام آزاد ہیں۔ اب جوان عورتیں بغاوت پر اتر آئی ہیں۔ عوام دھرنہ دیے بیٹھے ہیں اور اس وقت تک اٹھنے کو تیار نہیں جب تک ایک با اختیار عوامی وزیر اعظم مستقبل کے انتخابات کے پروگرام کے ساتھ مسند نشیں نہیں ہو جاتا۔

عوام اور آمریت آمنے سامنے۔ کہانی ابھی جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •