شاہ لطیف بھٹائی کی موکھی اورمتارے رند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موکھی مے فروش اور رند متاروں کا قصہ سندھ کی لوک داستانوں کی جان ہے۔ سندھ کے بہت ہی اوائلی اور بڑے شعرا، شاہ کریم، شاہ عنایت اور شاہ لطیف بھٹائی نے اس داستان کو نہ صرف اپنی شاعری کا موضوع بنایا بلکہ اس قصے کو بڑے دلچسپ انداز مین بیان بھی کیا۔ یہاں تک کہ موکھی اور متارے سندھی شاعری اور ادب میں ساقی اور رند کی علامت کے استعارے بن کے ابھرے جو کہ آج ہمارے دور میں بھی ایک بڑی اور غیر معمولی علامت ہے۔

سندھ کے بڑے اور اوائلی شعرا کی طرف سے موکھی اور متاروں کو اتنی اہمیت ملنے کی وجہ پر عہد حاضر کے اہم محقق ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے اس پر تحقیق کی اور ان کی ایک کتاب مشہور سندھی قصہ جو کہ 1964 میں سندھی ادبی بورڈ جامشورو میں شائع ہوئی، میں موکھی اور متاروں کے دور، اس واقعے کی پس منظر اور پیش منظر پہ تحقیق کی۔ بعد میں عہدِ حاضر کے دیگر لکھاریوں نے بھی اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پہ تحقیق کی اور قصہ خواں لوک ادب کے سگھڑوں نے بھی اس قصے کو گایا۔

کچھ مہینے پہلے کراچی میں منعقد سندھی تھیٹر کی بحالی کے حوالے سے منعقد کیے گئے پروگرام میں موکھی اور متارا تھیٹر بھی پیش کیا گیا تھا۔

گو کہ اس قصے کے بارے میں تین مختلف روایات ملتی ہیں لیکن اس قصے کے مرکزی کرداروں اور داستاں پر سب یکسو ہیں کے یہ ایک غیر معمولی عورت کی کہانی ہے جس میں موکھی اور اس کی ماں دور دراز کے علاقے میں مے فروشی کا کاروبار کرتی ہیں۔

موکھی اور متارون کی داستاں ( اس کے سچے اور جھوٹے ہونے پہ بھی متعدد رائے ہیں لیکن یہ سینہ بہ سینہ چلتی آ رہی ہے ) میں موکھی کی ماں کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ مومل کی مشہور نوکرانی ناتر ہیں جس کی چالاکی کے قصے بڑے مشہور تھے۔ دوسری روایت میں موکھی سندھ کے شہر برہمن آباد کی رہائشی تھی اور اس کے والدین شراب کی بھٹی چلاتے تھے۔ تیسری روایت میں موکھی کو رتن سنگھ نامی ظالم ٹھاکر بادشاہ کی بیوی دکھایا گیا ہے۔

کہتے ہیں کہ موکھی کی ماں کو تین بیٹیاں تھیں جن میں سونگل، موکھی اور سفوراں شامل تھیں۔ سونگل اور سفوراں کی انہوں نے جلد ہی شادی کرا دی تھی۔ موکھی اس کی بہت ہی خوبصورت بیٹی تھی جو اس کے ساتھ رہتی تھی۔ موکھی کی ماں ایک مے فروش عورت تھی اور اس نے ایک مے خانہ قائم کر رکھا تھا۔ موکھی اس میخانے پہ آنے والے رندوں کے لے جام ترتیب دیتی اور ساقی کے فرائض ادا کرتی۔ لمبی مسافتوں کے تھکے ہارے مسافر، مے کے متوالے اس میخانے کی مے اور ساقی کے حسن، اس کے نسوانی نفاست اور دلکش انداز سے محظوظ ہوتے رہتے۔ اس طرح اس مے خانے اور موکھی کے حسن و جمال کے چرچے دور دراز تک پھیل گئے اور رند، مے کے متوالے اس مے خانے او ساقی کے دیدار لے لئے جوق در جوق کھنچے چلے آتے اور ان کا تانتا بندھ جاتا۔

کہتے ہیں کہیں سے آٹھ دوست ( یہ کون تھے اس پر بھی متعدد رائے ہیں ) مے کے متوالے کسی لمبی مسافت کے راہی تھے وہ کچھ آرام کرنے کے لئے اس جگہ پر پہنچے اور موکھی جیسی حَسین و جمیل ساقی کے ہاتھوں سے بنے جام کو لبوں سے نوشِ کیا۔ پھر کیا تھا، وہ تو زمانُ و مکان بھول گئے۔ وہ اس مرتبہ تو یہاں سے چلے گئے لیکن ہر چھ ماہ بعد یہاں آنا ان کا دستور بن گیا اور موکھی کے جام اور اس کے حسن کے دیوانے بن گئے۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اس پوری داستان کو اپنے رسالے کے دوسرے سُر یمن کلیاں کی داستاں چوتھے میں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

مے نوشوں کو مت ترسا اور، مے کو کردے عام

جام پہ جام پلا تو جائیں، جھومتے گام بگام

میخانے کا نام، موکھی، ہو مے نوشوں میں

اس طرح آٹھوں جوان جو کہ دو دو سماں، سومرا، چنا اور چوھان قبائل سے تعلق رکھتے تھے ہر چھ ماہ موکھی کے میخانے کے مہمان ضرور بنتے۔ ایک دفعہ وہ آٹھوں دوست کہیں سے ہوتے ہوئے موکھی کے میخانے پہنچے اور کہا موکھی کوئی اچھا سا جام تو پیش کرو۔ موکھی پریشان ہو گئی کیونکہ اس کے پاس کوئی بھی مے کا مٹکا نہیں تھا جہاں سے وہ ان رندوں کی پیاس بجھائے۔

شاہ لطیف موکھی سے محو گفتگو ہیں؛

رات پڑی جو میخانے پر، شبنم قطرہ قطرہ

ساقی قطرہ قطرہ چن کر راہرؤں پر برسا،

نگر نگر مے بات چلے اور دھوم مچے پھر ہر جا

صبح پئیں جو مدرا، وہ آئیں گے مے خانے میں

اچانک موکھی کو یاد آیا کے ایک پرانی مے کا مٹکا پڑا ہے جس کے اوپر مٹی کے تہہ جم گئی ہے۔ وہ ان رندوں کو پیش کرتی ہوں کیوںکہ جتنی پرانی مے اتنا اس کا سرور۔ جب موکھی نے مٹکے کا ڈھکن کھولا تو یہ دیکھ کے اس کے ہوش اڑ گئے کے اس مٹکے کے اندر ایک سانپ مرا ہوا ہے اور اس کا زہر پورے مٹکے میں پھیل گیا ہے۔ صرف اس کا ایک کانٹا اس میں تَیر رہا ہے۔ موکھی رک گئی اور پریشان حالی میں یہ سوچنے لگی کے یہ زھر آلود مے کیسے ان رندوں کو پیش کرے۔ وہ رک گئی اور مے پیش کرنے کا خیال ترک کر دیا لیکن پھر اس نے اپنا خیال یہ سوچ کر بدل دیاکہ  اگر متارے جوان مے کے بنا آج یہاں سے گئے تو پھر شاید واپس نہ آئیں۔

شاہ سائیں فرماتے ہیں؛

چُھپا نہ مے تو مے نوشوں سے، جام پہ جام پلا

راہرؤں کو مدرا دے کر، ظرف تو پرکھ ذرا،

مے کا ایک قطرہ، بڑا ہی ہے انمول

بس پھر موکھی نے اپنا ارادہ بدلا اور متاروں کو اس مٹکے سے جام بنا کر پیش کیے جو کہ متاروں کو پسند آئے اور وہ نوش کرتے رہے۔

ہچکی پر ہچکی ہے اور ہیں، لب پر زہر کے پیالے

جام پہ جام پلا دے ساقی، آئے ہیں متوالے

خم کے طالب سارے، گھونٹ دو گھونٹ سے کیا بنتا ہے

اس طرح جام کے مزے اڑا کر متوالے اپنی منزل کو روانہ ہو گئے۔

موکھی سخت پریشان رہنے لگی کیونکہ متارے عرصے دراز سے نہیں لوٹے تھے۔ ایک دن اچانک موکھی نے دیکھا کے گھڑ سوار آ رہے ہیں۔ قریب آئے تو دیکھا یہ تو متارے ہیں۔ موکھی کو اطمیناں ہوا کہ متارے زہرآلود مے پینے کے باوجود زندہ ہیں۔ متاروں نے آتے ہی موکھی کو کہا مے پیش کرو۔ وہ اس سوہنے من موہنے ساقی کے ہاتھ سے جام پپ جام نوش کرتے ہی گئے۔ اس کی باتوں سے سات سمندر پار کرتے ہی رہے لیکن آج تشنگی نے ان کے ویران من کو ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔

آئیں گے میخانے میں تو وہ، کریں گے خالی خم

بھر بھر دینا تم، اور بڑھے گی پیاس

متاروں کو موکھی نے کئی قسم کے جام پیش کیے لیکن ان کی تشنگی اس عام مے سے کب دور ہونے والی تھی۔ متارون نے موکھی کو کہا کہ وہ شراب لاؤ جو تم نے پچھلے برس پیش کی تھی۔ موکھی پریشان ہو گئی اور کہا کے وہ نہیں ہے۔ جب وہ ضد پہ تل گئے تو موکھی نے دل میں سوچا ان کو بتاہی دوں۔ اس نے کہا وہ والی شراب میں تو سانپ کا زہر تھا، یہ سنتے ہی آٹھوں جوان سکتے میں آ گئے اور اچانک سے ان کے دل پھٹ گئے اور وہ ادھر ہی دم توڑ گئے۔

مے کب ان کو مار سکی تھی مار گیا اک بول

بول نے رگ ریشے میں ان کے، زہر دیا تھا گھول،

متوالے انمول، مر گئے سن کر بات

موکھی سندھی شاعری کا ایک ایسا انمول، یگانہ اور مختلف کردار ہے جو کہ ایک میخانہ چلاتی ہے اور ساقی بن کے رندوں کو جام پیش کرتی ہے۔ لطیف سائیں کے سارے کردار چاہے وہ اس کی سات سورما ہوں یا مرد یا قبائلی، جوگی، سامی، لاہوتی، صوفی سب کردار غیر معمولی ہیں۔ اسی طرح موکھی بھی شاہ لطیف کا ایک غیر معمولی کردار ہے۔

نیر بہاتے، جلائیں بھٹی، رینا جائے بیت،

اے دل، تو نے کیوں نہیں سیکھی، جو ہے کلال کی ریت

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •