پاکستان بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ مخالف قرارداد مسترد کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

وکلاء کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل اور ملک بھر میں مختلف وکلاء تنظیموں کے نمائندوں نے پنجاب بارکونسل کی ذیلی تنظیم کی طرف سے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ کسی ادارے کو عدلیہ کی آزادی پر شب خون مانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پنجاب بار کونسل کی ذیلی تنظیم کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف آئین کے آرٹیکل کے تحت کارروائی کرنے کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور وزارت دفاع نے فیض آباد دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیلیں دائر کی ہیں۔

ایک مذہبی جماعت کی طرف سے فیض آباد پر دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کا فیصلہ جسٹس قاضی فائز عسییٰ نے تحریر کیا تھا جس میں وزارت دفاع کے توسط سے مسلح افواج کے سربراہان سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت افسران کے خلاف کارروائی کریں جنہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی تھی۔

واضح رہے کہ پنجاب بار کونسل کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سنیچر کے روز لاہور میں ہوا تھا جس میں کہا گیا کہ ’جسٹس قاضی فائز عیسی نے بلا جواز فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ خفیہ ایجنسیوں پر سنجیدہ نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے اُنھیں بد دیانت قرار دیا ہے۔ اس طرح اُنھوں نے را، ہندوستان اور ہمارے دشمنوں کے موقف کو تقویت دی ہے۔‘ قرارداد میں انہی وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے جسٹس قاضی فائض عیسیٰ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

سندھ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد عاقل نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان بار کونسل اور ملک بھر کے وکلاء کی تنظیموں کے نمائندوں نے پنجاب بار کونسل کے ذیلی تنظیم کی اس قراردار کو مسترد کردیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ خود پنجاب بار کونسل نے بھی ذیلی تنظیم کی قراردار کو مسترد کیا ہے۔ محمد عاقل کا کہنا ہے کہ پاکستان بار کونسل اور وکلاء تنظیموں کے نمائندوں نے پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سے ملاقات کی ہے اور اُنھیں عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے کسی بھی ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ ان افراد کے بارے میں بھی چھان بین کی جانی چاہیے مبینہ طور پر جن کی ایماء پر پنجاب بار کونسل کی ایک ذیلی تنظیم نے سپریم کورٹ کے جج کے خلاف قرار داد پاس کی۔

پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین کامران مرتضی کے مطابق ابھی تک سندھ اور کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے پنجاب بار کونسل کی ذیلی تنظیم کی قرارداد کی مذمت کی گئی ہے جبکہ پشاور بار ایسوسی ایشن کی طرف سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس قرارداد کے ساتھ ساتھ ان طاقتوں کی بھی مذمت کی گئی ہے جو ملک میں عدلیہ جیسے ادارے کو متنازع بنانا چاہتے ہیں۔

فیض آباد دھرنے سے متعلق پی ٹی آئی، وزارت دفاع، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے علاوہ ایم کیو ایم اور شیخ رشید نے بھی نظرثانی کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9884 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp