منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال عون عباس سے ایک مکالمے کی روئیداد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال عون عباس بپی جنوبی پنجاب کے ایک معزز و با اثر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے عون عباس صاحب سیاست، بزنس، ایگریکلچر اور سماجی خدمات کے شعبے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ آپ گورنمنٹ کالج لاہور کے گریجوایٹ اور گولڈ میڈلسٹ ہیں جبکہ یونیورسٹی آف نوٹنگھم انگلینڈ سے فرسٹ کلاس گریجوایشن بھی کر رکھی ہے۔ حصول تعلیم کے بعد کارپوریٹ سیکٹر میں کافی عرصہ تک خدمات انجام دیں۔

بعد ازاں سماجی خدمت اورسیاست کے میدان میں داخل ہوگئے۔ 2013 سے آپ پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ زبان و بیاں پر بھرپور عبور ہے۔ درد دل رکھنے والے انسان، میرٹ و قابلیت کے قدردان اور تبدیلی کے روح رواں ہیں۔ آپ کی سیاسی بصیرت، دیانتداری اور انسانی خدمات کے وسیع تجربے، جذبے اور شوق کے پیش نظر پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے اکتوبر 2018 میں انھیں پاکستان بیت المال کا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیاجہاں قلم سنبھالنے کے بعدمحدود وسائل کے باوجود اپنی بساط سے بڑھ کر لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں اور پاکستان بیت المال میں ادارہ جاتی اصلاحات اور اس کے دائرہ کار میں اضافے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں۔

چند دن پہلے محترم عون عباس بپّی صاحب سے ایک تفصیلی مکالمہ ہوا جو ایک حساس شخص کے سچے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے، جس سے ان کے ویژن، تدبر اور سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔ بلا شبہ وہ پاکستان بیت المال جیسے ادارے کی سربراہی کے لئے ایک عمدہ، انتہائی مناسب اور بہترین انتخاب ہیں۔ اس مکالمے کی ر وئیداد ان کی اپنی زبانی نذر قارئین ہے۔

”منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال کی حیثیت سے یہ میرا فرض ہے کہ پاکستان کے ایک بڑے مسئلے غربت کے بارے میں لوگوں کے اندر شعور بیدار کیا جائے کیونکہ ہم جیسے ترقی پذیر ممالک میں غربت ایک انتہائی سنگین اور اہم مسئلہ ہے۔

تاہم اس مسئلے کا غور طلب پہلو یہ ہے کہ اس کے حل کے لئے آخر کیا اقدامات کئیے جا سکتے ہیں۔ 1977 میں میری پیدائش ملتان میں ہوئی جہاں میرے آباء و اجداد نسل درنسل رہ رہے ہیں۔ اپنے بہن بھائیوں میں میرا تیسرا نمبر ہے۔ زندگی کی ابتدائی بہاروں میں بہت سے نشیب و فراز کا سامنا کیا اور مشاہدے کی بنیاد پر دیگر بچوں کی طرح کئی سوالات ذہن میں آتے تھے جن کا کوئی جواب میرے پاس نہ ہوتا تھا۔ میں جب اپنے بڑوں سے پوچھتا تھا تو مجھے تسلی بخش جواب نہ ملتا یا ایسا جواب ملتا جس سے میری مکمل تشفی نہ ہوتی تھی۔

خدا کی مہربانی سے میرا جنم ایک خوشحال خاندان میں ہواجس کی وجہ سے ایک آسودہ زندگی بسر کی لیکن جب میں بچہ تھا تو غربت کے مفہوم کا ادراک نہ کر سکا۔ مجھے یہ کبھی سمجھ نہ آئی کہ مجھے کیونکر سب آسائشیں میسر ہیں، میں ایک اچھے گھر میں رہتا ہوں اور اچھے کھانے کھاتا ہوں، والدین میری ہر فرمائش پوری کرتے ہیں اور مجموعی طور پر میری زندگی اطمینان بخش کیوں ہے۔ لیکن جب میں اپنی اس چھوٹی سی جنت سے باہر نکلتاتھا تو صورتحال بالکل ہی مختلف ہوتی تھی۔

گلیوں میں بھیک مانگتے لوگ، روڈ کنارے سوتے ہوئے اور ایک وقت کی روٹی کمانے کے لئے مزدوری اور مشقت کرتے ہوئے میری عمر کے بچوں کی حالت زارمجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیتی تھی۔ قطعی طور پر ایسے مناظر دیکھ کر مجھے دلی رنج ہوتا تھا۔ جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا اور شعور کی سطح کو پہنچ گیاتو مجھے دنیا کے اقتصادی نظام کی سمجھ آنے لگی کہ دنیاوی معاملات کس طرح تشکیل پاتے ہیں۔ تبھی غربت اور امارت کی تقسیم کے پیچھے تلخ حقائق میرے سامنے آشکار ہونا شروع ہوئے۔

میں نے یہ سوچنا اور تہیہ کرنا شروع کیا کہ جب کبھی قدرت زندگی میں مجھے موقع فراہم کرے گی تو میں معاشرے کے محروم اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے کام کروں گا۔ دنیا کو تبدیل کرنے اور اسے ایک بہتر جگہ بنانے کے لئے میرے اندر جنون کی حد تک ایک جذبہ بیدار ہوتا چلا گیا۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ فلاح انسانیت اور غریب و پسماندہ طبقات کی بھلائی کا جذبہ میرے اندر بچپن اور لڑکپن سے ہی مؤجزن تھا۔ گوجب میں کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر پہنچاتو پڑھائی کے ساتھ ساتھ کچھ اچھا کرنے کا پریشر، اضطرابی کیفیات اور جوانی میں پیش آنے والے لا ابالی پن نے میرے ان جذبات کو قدرے دبا دیا لیکن میری سوچیں مستقل طور پر میرے لاشعور کا حصہ بن چکی تھیں۔

پھر میری زندگی میں ایک نئے مرحلے کا آغاز اس وقت ہوا جب مجھے انگلینڈ میں قانون کی تعلیم کے لئے جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ میرے لئے ایک شاندا ر موقع تھا۔ میں نے وہاں جا کر پڑھائی شروع کی، کچھ دوست بنائے اورایک نئی دنیا اورزندگی کے نئے حقائق سے روشناس ہوتا گیا۔ زندگی کے اس مرحلے میں مجھے مغربی دنیا کو سمجھنے کا موقع ملا۔ جن چیزوں کے بارے میں مجھے ادھر ادھر یا ٹی وی سے پتہ چلتا تھا اب مجھے ان چیزوں کا بذات خود تجربہ ہو رہا تھا۔

میں نے وہاں دنیا کے بہترین ہیلتھ اور ایجوکیشن سسٹمز، انفراسٹرکچراور زندگی میں اپنے کیریئر کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے لوگوں کی معاونت کے میکانزم کا بھرپور مشاہدہ کیاجس سے میرے دل میں یہ خواہش بیدار ہوتی تھی کہ کاش کبھی میرے وطن میں بھی یہ سب ممکن ہو سکے! میں مغربی نظام حکومت کا موازنہ اپنے ہاں کے نظام حکومت سے کرتا تھاجہاں کرپشن، غربت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کی ناگفتہ بہ صورتحال نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ اس موازنے پر تفکرات و یاس کے بادل مجھے گھیر لیتے تھے اور میں اپنے آپ سے سوال کرتا کہ میرے ملک میں بنیادی مسئلہ کیا ہے؟

اور بہت سے دیگر لوگوں کی طرح میں بھی اس نتیجے پر پہنچا، کہ میرے ملک کا کچھ نہیں ہو سکتاکیونکہ جیسا کہ سب کہتے ہیں یہاں کا نظام تبدیل کرنا بہت مشکل ہے، ۔ ’یہاں کا سسٹم ہی خراب ہے‘ ۔ بدقسمتی سے خیالات کی یہ لہریں بے نتیجہ رہتیں۔ انگلینڈ سے واپسی کے بعدمیں دس سال تک اپنے کاروبار میں مصروف رہاجو پٹرول اسٹیشنز اور زراعت وغیرہ سے متعلق تھا۔ درمیان میں کچھ عرصہ ایک بینک کا منیجر بھی تعینات رہا۔ اس دوران ہمارے اور مغربی دنیا کے مابین وسیع تفاوت اور موازنہ میرے ذہن پر ہمیشہ حاوی رہتا تھا۔

اور ذاتی حیثیت سے جو میرے فرائض میں شامل تھا ور جو میں کر سکتا تھا جیسے، بھوکوں کو کھانا کھلانا، حاجت مندوں کی مدد، ذکٰوۃ و عطیات وغیرہ کی ادائیگی وہ میں ہمیشہ اپنی حیثیت کے مطابق بساط سے بڑھ کر کرتا رہاجس سے مجھے تسلی ہوتی تھی کہ کم ازکم میں قدرت کی طرف سے دی گئی توفیق و وسائل کے مطابق اپنے حصے کا کام تو کررہا ہوں اور باقی لوگوں سے بھی ایسی ہی توقع رکھتا تھا۔ لیکن کیا ہمارے معاشرے میں سب لوگ سماج کی بھلائی و ترقی کے لئے اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہیں؟

یہ حقیقت ہے کہ اگر سب لوگ سماج کی بہتری کے لئے اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کریں اور نیکی و بھلائی کو فروغ دیں تو معاشرے میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہو سکتی ہیں۔ تنہا ایک آدمی معاشرے میں مؤثر تبدیلی تب ہی لاسکتا ہے جب ہم خیال لوگوں کی جماعت اس کے ساتھ ہو گی۔ میں نے سوچا اور مجھے جواب ملا کہ میرا انفرادی فعل معاشرے میں کوئی بہت بری تبدیلی نہیں لا سکتا تھا۔ یوں میرے اندر غریب و محروم طبقات کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ اور احساس مزید گہرا ہوتا گیا کہ مجھے ان کے لئے کوئی بڑا کام کرنا ہے۔

اپنے ضمیر کی آواز کو میں مزید نہیں دبا سکتا تھا۔ ملک کے سیاسی حالات اور جس طرح ملک کو چلایا جا رہاتھا اسے دیکھ کر میں کئی سالوں سے مایوسی کا شکار تھا۔ کیا کمزور اور غریب لوگوں کی بحالی کے اقدامات کرنا حکومت کا فرض نہیں اور کیا حکومتی اداروں میں بیٹھے متعلقہ لوگ اس فرض سے عہدہ برآ ہو رہے تھے؟ ملک کے سیاسی اور معاشی حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے تھے۔ اور سچ کہوں تو سیاست میں کرپشن اور مافیا کی گہری پرچھائیوں نے مجھے شدید کرب میں مبتلا کر رکھا تھا۔

مجھے عمران خان کی سیاسی تحریک کے بارے میں اتنا ہی علم تھا جتنا ہر پاکستانی کو تھا جو اس مافیا کو مسلسل للکار رہے تھے اور ہمیشہ خبروں کی زینت بنتے رہتے تھے۔ میں انھیں پسند کرنے لگا اور ساتھ میں اپنے آپ سے سوال کرتا کہ کیا وہ پاکستان کے لئے ایک بہترین متبادل سیاسی قیادت ثابت ہوں گے اور کیا وہی ہمارے مسیحا ثابت ہوں گے؟ میں نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں گہری دلچسپی لینا شروع کر دی تھی کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کی بہتری کے لئے تبدیلی لائی جائے۔

اپنی ذاتی حیثیت میں سماجی بہتری کے لئے میں محض چند ایک اقدامات ہی اٹھا سکتا تھالیکن میرے اس انفرادی فعل سے کتنا فرق پڑ سکتا تھا؟ میرے خیال ہے بہت زیادہ نہیں بلکہ شاید کچھ بھی نہیں۔ میں نے تحریک انصاف میں گہری دلچپی لینا شروع کر دی اور اس سیاسی جماعت کواسٹڈی کرنا شروع کیا۔ میں نے پی ٹی آئی کی سیاست، منشور، پارٹی سٹرکچر، قیادت، پارٹی کے پیروکاروں، آئیڈیالوجی اور ویژن کو جانچنا شروع کر دیا۔ میں ان کی میٹنگ اور جلسوں میں شریک ہونے لگا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •