ماتم کرو اے اہلِ پاکستان! ماتم کرو!!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افسوس! کوئی طہٰ حسین اس ملک کی قسمت میں نہیں! بنفشہ اور گلاب کے پودے جڑوں سے اکھاڑ دیے گئے۔ دھتورے کے بوٹے لہلہا رہے ہیں۔کہاں وہ ساون کے آم کے درختوں سے ٹپکا لگتا تھا۔ ہر طرف حنظل‘ نیم اور اندرائن کے پیڑ ہیں اور جھاڑ جھنکار! 1950ء کا عشرہ تھا جب ڈاکٹر طہٰ حسین کو مصر میں وزیر تعلیم بنایا گیا۔

ایک نیم حکیم نے اپنی جہالت سے طہٰ حسین کو تین برس کی عمر میں بینائی سے محروم کر دیا تھا۔ وزیر تعلیم بننے کے بعد اس نے تعلیم کو مصر میں مفت کرنے کا ارادہ کیا اور کامیاب ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ جس طرح عام آدمی کا آکسیجن اور پانی پر حق ہے‘ اسی طرح مفت تعلیم پر بھی ہے۔

وہ دن مصر کی تاریخ میں یادگار ہے جس دن پارلیمنٹ میں وزیر تعلیم نابینا ڈاکٹر طہٰ حسین نے خطاب کیا تھا اور کہا تھا کہ میرے پاس دو دستاویزات ہیں۔ میری دائیں جیب میں ہر مصری کے لئے مفت تعلیم کا بل ہے۔ میری بائیں جیب میں استعفیٰ ہے!

یہ پارلیمنٹ دونوں میں سے جس دستاویز کو چاہے منظور کر لے اور پارلیمنٹ نے مفت تعلیم کا بل منظور کیا۔ کیا پاکستان کے وزیر تعلیم کو معلوم ہے کہ تعلیم کے ساتھ کیاکھلواڑ ہو رہا ہے؟ اس کا سدباب کرنا ہے یا نہیں؟ کرنا ہے تو کس طرح کرنا ہے؟ یہ اسی اپریل کا واقعہ ہے۔

ایبٹ آباد میں دسویں جماعت کا ہونے والا پرچہ وقت سے پہلے آئوٹ ہو گیا۔ حیدر آباد میں پرچہ امتحان شروع ہونے سے پہلے آئوٹ ہو گیا۔ میر پور خاص میں نویں جماعت کا کیمسٹری کا پرچہ وٹس ایپ گروپ کے ذریعے امتحان سے پہلے ہر طرف پھیل گیا۔ جب طلبہ کمرۂ امتحان میں بیٹھے تو موبائل فونوں پر حل شدہ پرچہ وہاں پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔ کوہاٹ میں حالیہ امتحانات میں پرچے لیک آئوٹ ہوئے۔ ایکشن کیا لیا گیا؟ کنٹرولروں کا تبادلہ کر دیا گیا!

میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک کرنے کے مقدمے میں تین ملزموں کی ضمانت کی درخواستیں مجسٹریٹ صاحب نے منظورکر لیں! مگر ٹھہریے! یہ معاملہ میٹرک اور میڈیکل انٹری ٹیسٹ پر رکا نہیں! کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایف سی پی ایس کا امتحان کیا ہے؟ یہ وہ امتحان ہے جو ڈاکٹر حضرات ایم بی بی ایس کرنے کے بعد کئی سال کا تجربہ حاصل کرنے کے بعد۔ کسی ایک فیلڈ میں تخصص (سپیشلائزیشن) کرنے کے لئے پاس کرتے ہیں۔

ایف سی پی ایس سے بنتا ہےFellow Ship of The College of Pysicians and Surgeons. ایک زمانہ تھا کہ یہ امتحان پاس کرنے کے لئے ڈاکٹر برطانیہ جاتے تھے۔ اب بھی جاتے ہیں۔ مگر اب سہولت یہ ہے کہ تخصص کا یہ امتحان پاکستان میں بھی پاس کیا جا سکتا ہے۔ یہ امتحان ملک کو آنکھوں کے‘ گردوں کے، دل کے‘ کان، ناک اور گلے کے‘ اور دیگر امراض کے فزیشن اور سرجن مہیا کرتا ہے۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ اس کے پرچے بھی آئوٹ ہونے لگے ہیں۔

ایف سی پی ایس یعنی تخصص کے طلبہ نے شکایت کی ہے کہ 26فروری2019ء کو منعقد ہونے والے امتحان کے سوالات کچھ’’مخصوص‘‘ طلبہ کے پاس پہلے ہی پہنچا دیے گئے تھے۔ شکایت کرنے والوں نے انتظامیہ کو ثبوت بھی فراہم کئے ہیں۔ ادارے کے سربراہ نے فریاد کرنے والوں کے منہ میں وہی لولی پوپ ٹھونسا ہے جو ہر ایسے موقع پر پاکستان میں شکایت کرنے والے کے منہ میں ٹھونسا جاتا ہے۔

یہ کہ ہم نے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ کہ شکایت متعلقہ محکمے کو ارسال کر دی گئی ہے۔ یہ کہ رپورٹ ایک ہفتے کے اندر اندر پیش کر دی جائے گی یہ کہ یہ رپورٹ میڈیا کو بھی دکھائی جائے گی۔ یہ کہ ہمارے رزلٹ تو بہت اچھے ہیں!

ایسے موقعوں پر‘ ایسے لولی پوپ دیکھ کر‘ اور ایسی طفل تسلیاں سن کر انگریز کہا کرتے ہیں مائی فٹ! اب دیکھیے شکایت کرنے والوں کا کیا حشر ہوتا ہے! کسی اور ’’جرم‘‘ میں انہیں دھر لیا جائے گا اور اصل جرم(یعنی شکایت کرنے) کی سزا ایسی دی جائے گی کہ آئندگان کو عبرت ہو! اور وہ پکار اٹھیں ؎ کوئی زاری سنی نہیں جاتی کوئی جرم معاف نہیں ہوتا اس دھرتی پر اس چھت کے تلے کوئی تیرے خلاف نہیں ہوتا ہم کیسا ملک ہیں! ہم کس قبیل کی قوم ہیں!

ہم سے ایئر لائن نہیں چل رہی! ہم سے سٹیل مل نہیں چل رہی! ہم سے تھانے اور کچہریاں نہیں چلتیں! ایف آئی آر بغیر سفارش کے اور انتقال زمین بغیر رشوت کے ناممکن ہے! ہم سے جیل نہیں سنبھالے جاتے۔ سابق وزیر اعظم جیل جا کر شکایت کرتا ہے کہ یہ تو انسانوں کے رہنے کے قابل ہی نہیں!

ہم سے سرکاری ٹیلی ویژن نہیں چلتا۔ اس کا سربراہ اپنے باس‘ وزیر اطلاعات سے‘ ایک پیج پر نہیں رہتا۔ ہم سے بارڈر نہیں سنبھالا جاتا۔ درانداز گھسے چلے آتے ہیں۔ ہم سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے ادارے نہیں چلتے۔ غیر ملکیوں میں یہ دستاویزات ریوڑیوں کی طرح بانٹی جاتی ہیں۔!

ہم سے نام نہاد مِنرل واٹر کی فیکٹریاں نہیں چلتیں۔ آئے دن معلوم ہوتا ہے کہ جعلی پانی بوتلوں میں بند کر کے فروخت کیا جاتا ہے۔ ہماری حکومتوں کے کنٹرول میں تاجر نہیں آتے۔ ٹیکس دیتے ہیں نہ وقت پر کاروبار شروع کرتے ہیں۔ ہم دوائوں کی قیمتیں نہیں کنٹرول کر سکتے۔ ہم سے عدالتیں نہیں سنبھلتیں۔ وکیل ججوں کو تھپڑ مارتے ہیں اور جج بھاگ جاتے ہیں۔ مگر بازی بازی باریش بابا ہم بازی!! اب معاملہ تعلیم تک آ پہنچا ہے۔

تعلیم جو کسی قوم کے جسم میں ریڑھ کی ہڈی ہے؟ جو شہ رگ کے برابر ہے! جو آدمی کو جانور سے انسان بناتی ہے! جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ باپ انسان کو آسمان سے زمین پر لاتا ہے اور استاد انسان کو دوبارہ آسمان کا عروج بخشتا ہے! ہماری کتابوں میں لکھا چلا آیا ہے کہ بادشاہ نے اپنے وزیر نظام الدین طوسی کے حوالے خزانے کئے تھے کہ افواج اور اسلحہ تیار کرو تاکہ دشمن خائف رہے۔

طوسی نے ان خزانوں کو تعلیم پر خرچ کر دیا تھا کہ جہاں پناہ! تیر تفنگ تو سامنے کھڑے دشمن تک پہنچے گا مگر علم حاصل کرنے والوں کی رسائی ستاروں تک ہو گی! اس تعلیم سے آج اس ملک میں یہ سلوک ہو رہا ہے کہ ایبٹ آباد سے لے کر حیدر آباد تک‘ کوہاٹ سے لے کر میر پور خاص تک اور میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ سے لے کر میڈیکل کے اعلیٰ ترین امتحان ایف سی پی ایس تک پرچے آئوٹ ہو رہے ہیں!

تف ہے ہم پر ‘ ہمارے نظامِ تعلیم پر اور ہمارے اداروں کے حسن انتظام پر! جو قوم میٹرک کا امتحان تک نہ لے سکے جہاں پرچے بازار میں امتحان سے پہلے بک رہے ہوں اور وٹس ایپ پر اورموبائل فونوں پر گردش کر رہے ہوں اس ملک کی اقوام عالم میں کیا پوزیشن ہو گی! وہاں تعلیم کا کیا معیار ہو گا؟ وہاں مریضوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہو رہا ہو گا؟

آخر اس ایف سی پی ایس کی ڈگری حاصل کرنیوالوں کو دنیا کیسے تسلیم کرے اور کیوں کر تسلیم کرے! ماتم کرو! اے اہل پاکستان ماتم کرو! سینہ کوبی کرو! بال کھول لو! پٹکوں سے کمر باندھ لو۔ چھاتیوں پر دوہتھڑ مارو! چہرے پیٹ لو! تم معیشت کیا چلائو گے؟ تم سے تو میٹرک کے امتحانات نہیں لئے جا رہے ! تم ایک ایسی قوم ہو جس کے بازار میں دودھ، شہد، آٹا، گھی اور ادویات تو جعلی تھیں ہی‘ اب تمہارے تعلیمی اداروں میں تعلیم بھی جعلی بِک رہی ہے!!

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>