مودی کی مقبولیت میں کمی اور وزیر خارجہ کے خدشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 31
  •  

بہت ہی ذاتی مصروفیات نے مجھے بھارت میں جاری انتخابی عمل پر مکمل توجہ دینے کا موقعہ نہیں دیا۔ میرے کئی ساتھی بھی لیکن اسے نظرانداز کئے ہوئے ہیں اور میں اسے مناسب نہیں سمجھتا۔ بہت دیانت داری سے اصرار کررہا ہوں کہ اس بارنریندرمودی ’’اچھے دنوں‘‘ اور ’’وکاس(ترقی)‘‘ وغیرہ کے نام پر اپنی ہندوانتہا پسندی کو چھپا نہیں رہا۔ 2014ء کے مقابلے میں اس برس اس کا رویہ وہی ہے جو اس نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت میں کئی برسوں تک اپنائے رکھا۔

مسلمانوں سے نفرت اس رویے کی کلید ہے۔بہت ڈھٹائی سے اصرار کئے چلے جارہا ہے کہ بے پناہ اکثریت کی حامل ہندوآبادی کو اقلیتوں اور خاص طورپر مسلمانوں کو رام کرنے کی ضرورت نہیں۔ انہیں اپنی’’اقلیتی‘‘ یعنی کم ترحیثیت سے گزارہ کرنا ہوگا۔

کانگریس کا نہرو خاندان ہمیشہ یوپی کے الہ آباد،رائے بریلی اور امیٹھی کو اپنا گڑھ تصور کرتا رہا ہے۔ یہ علاقے کئی حوالوں سے اس خاندان کا ہماری سیاست کے تناظر میں ’’لاڑکانہ‘‘ رہے ہیں۔سونیا گاندھی لوک سبھا میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے اضافی سیٹوں سے بھی انتخاب لڑنے کو بالآخر مجبور ہوگئی۔

اس بار راہول گاندھی بھی ’’احتیاطاََ‘‘ امیٹھی کے علاوہ کیرالہ کے ایک حلقے سے بھی امیدوار ہے۔ راہول نے جب اس حلقے کا انتخاب کیا تو مودی نے بہت حقارت سے اسے یاد دلایا کہ وہ ایک ایسی نشست کو اپنے لئے ’’محفوظ‘‘ تصور کررہا ہے جہاں ہندو اکثریت میں نہیں ہیں۔

مسلمان اور مسیحی ووٹرفیصلہ کن اکثریت کے حامل ہیں۔ بھارتی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیراعظم نے اتنی ڈھٹائی سے کانگریس کے لئے غیر ہندو ووٹوں کی وجہ سے محفوظ تصور ہوتی نشست کا اس انداز میں تمسخر اُڑایا ہے۔

گیارہ اپریل کے روز جن 91 نشستوں پر انتخاب ہوئے ہیں ان میں یو پی کے سہارن پور، مظفر آباد، باغپت اور بجنور کے حلقے بھی شامل تھے۔ ان حلقوں میں مسلمان ووٹوں کی تعداد اوسطاََ 15سے 25فی صد ہے۔ یہاں 2014کے مقابلے میں ووٹروں کا ٹرن آئوٹ کم رہا۔ کئی پولنگ سٹیشنوں پر مسلمان ووٹروں کے نام فہرستوں میں موجود ہی نہیں تھے۔

مجھے شبہ ہے کہ ’’گمشدہ‘‘ ووٹوں کی خبر پھیلی تو کئی مسلمان ووٹ دینے کے لئے گھروں سے باہر ہی نہیں آئے۔ کیرانہ جہاں سے ہمارے ایک معروف فلم ساز اور ہدایت کارشباب کیرانوی پاکستان آئے تھے اپنی مسلم آبادی کی وجہ سے ان دنوں بھی ’’حساس‘‘ تصور کیا جاتا ہے۔

2014 میں وہاں ٹرن آئوٹ 73 فی صد ریکارڈ ہوا تھا۔ اس برس یہ تعداد 67 فی صد تک گر گئی۔ یو پی کے علاوہ حیدر آباد جیسے تاریخی شہر میں بھی ووٹر ٹرن آئوٹ بہت کم رہا۔ اس شہر کے کئی حلقوں میں جہاں مسلمانوں کی آبادی 40 فی صد کے قریب ہے یہ ٹرن آئوٹ 50 فی صد کی حد کو بھی چھو نہیں پایا۔

کم تر ٹرن آئوٹ مسلمان آبادی میں اگر خوف کی نمائندگی نہیں کرتا تو کم از کم یہ پیغام ضرور دیتا ہے کہ وہ 2019کے انتخابات سے اپنے لئے خیر کی توقع نہیں رکھتے۔ انتخابی عمل سے لاتعلق ہوگئے ہیں۔ فقط انتخابی عمل کے پہلے مرحلے میں نظر آتے ٹرن آئوٹ کی بنیاد پر لیکن مجھے حتمی رائے دینے سے گریز کرنا ہو گا۔

لوک سبھا کی نشستوں کی کل تعداد 543ہے۔ 11 اپریل کے دن فقط 91 نشستوں پر پولنگ ہوئی ہے۔ یہ کل نشستوں کا فقط گیارہ فی صد ہے۔ بھارتی انتخاب کا سائنسی انداز میں Data کی بنیاد پر جائزہ لینے والے کئی معتبر نام اب یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یو پی کے حلقوں میں کم نظر آیا ٹرن آئوٹ درحقیقت یہ عندیہ دے رہا ہے کہ نریندر مودی کی جماعت اپنے ووٹروں کو جذبے کی اس شدت سے پولنگ سٹیشنوں پر لانے میں ناکام رہی ہے جس کا مظاہرہ 2014کے انتخابات میں ہوا تھا۔

اس دعوے کی بنیاد پر ایک ماہر نے ایک اخباری مضمون لکھ کر یہ دعویٰ بھی کردیا ہے کہ گیارہ اپریل کو یوپی کی جن آٹھ نشستوں پر انتخاب ہوئے ہیں BJPان میں سے فقط دو ہی جیت پائے گی۔

2014 میں اس نے یہ آٹھوں نشستیں جیت لی تھیں۔ 8میں سے 2 کا تناسب اگر برقرار رہا تو اس کا اثرآئندہ حکومت کی تشکیل میں اہم نظر آئے گا۔بطور پاکستانی ہمارے لئے اہم ترین بات یہ بھی ہے کہ مارچ میں مودی کی ذاتی مقبولیت کئی سروے کرنے والوں نے 60فی صد کے قریب دکھائی تھی۔ اس کی بنیاد پر مودی Wave کا دعویٰ بھی ہوا۔

انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو جانے کے بعد یہ مقبولیت کم از کم تین سروے کرنے والوں نے 43 فی صد تک گری ہوئی دکھائی ہے۔ مود ی کی ذاتی مقبولیت میں یہ گراوٹ تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ بتا رہی ہے کہ حالیہ پاک- بھارت کشیدگی کے دوران میڈیا کی جانب سے ابھارے جنون میں نمایاں کمی آئی ہے۔

لوگ اپنے روزمرہّ مسائل پر غور کرتے ہوئے ووٹ ڈالنے کی ضرورت محسوس کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ جنگی جنون میں اگر واقعتا کمی آئی ہے اور اس کا اثر انتخابی مہم میں نمایاں نظر آناشروع ہوگیا ہے تو ہمیں اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اس پریس کانفرنس کو یاد کرنا ہوگا جو اپریل کی پہلی اتوار انہوں نے اپنے آبائی شہر ملتان میں کی تھی۔

اس پریس کانفرنس کے ذریعے شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کومیسر ٹھوس اطلاعات عندیہ دے رہی ہیں کہ 16اور 20اپریل کے درمیان بھارت پاکستان کے خلاف کسی جارحانہ ایڈونچر کے منصوبے بنارہا ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ 18 اپریل کے دن ہونا ہے۔

اس روز زیادہ توجہ بھارت کے جنوبی صوبوں خاص کر تامل ناڈو پر مرکوز رہے گی۔ ان علاقوں میں BJP یا کانگریس کے ووٹ بینک مضبوط نہیں ہیں۔ اصل معرکہ علاقائی جماعتوں کے درمیان ہوتا ہے جو ان دو جماعتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ انتخابی اتحاد بنالیتی ہیں۔

2014کے انتخابات میں تامل ناڈو کی جے للیتا نے مگر اپنے تئیں انتخاب لڑا اور اکثریتی نشستیں جیت کر مودی سرکار کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس کی موت کے بعد اس کی جماعت اب BJP کے ساتھ انتخابی اتحاد بناکر میدان میں اُتری ہے۔ مقابلہ اس کا DMKسے ہے جس کی نسلی بنیاد بھی بہت طاقتور ہے۔ کانگریس کو اس نے اپنا اتحادی بنایا ہوا ہے۔

18اپریل کو بھی کم ٹرن آئوٹ یا دیگر عوامل کی وجہ سے BJPنام نہاد Modi Wave کا اثر دکھانے میں ناکام رہی تو آئندہ انتخابی مرحلے سے قبل ہمیں پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان کردہ خدشات کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 31
  •