شہر اقتدار میں کھلتے گلاب اور دوا سے محروم پاکستانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں کوئی ماہر نباتات تو نہیں جو یہ بتا سکوں کہ پورے ملک میں سب سے زیادہ خوبصورت گلاب کے پھول اسلام آباد میں ہی کیوں کھلتے ہیں۔ شاید آب و ہوا کا وجہ ہے۔ شہر اقتدار میں مارچ، اپریل کے مہینوں میں کھلے گلاب کمال خوب صورت ہوتے ہیں۔ ان پھولوں کے سحر میں گم جب اداس چہرے دیکھتا ہوں تو دل غمگین ہو جاتا ہے۔ میرے خیال میں پھول اور دوا دونوں ہی زندگی کے لیے ضروری ہیں پر شاید ”پھولوں“ میں رہنے والے یہ بات نہیں سمجھ سکتے۔

محلوں میں پلنے والے شہزادے ’شہزادیاں‘ برطانیہ سے ہیلتھ کیئر لینے والے، آکسفورڈ میں پڑھنے والے اور ”پندرہ فیصد“ اضافے کرنے والے کیا جانیں کہ غریب پہلے ہی وطن عزیز کے سرکاری ہسپتالوں کے دروازوں پر زندگی کی آس کھو بیٹھتا ہے۔ ”پندرہ فیصد“ اضافے کے فیصلے کرنے والے کیا جانیں کہ ایک بیمار نوجوان کا پورا خاندان ساری زندگی کی جمع پونجی لے کر جب پنجاب کے دور افتادہ گاؤں سے شہر اقتدار کے نجی ہسپتال میں آتا ہے۔ اور جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان کی برسوں کی کمائی کسی نجی ہسپتال میں ایک دن کے علاج کے لیے بھی ناکافی ہے تو وہ نوجوان نہیں مرتا اس کے ساتھ اس کا سارا خاندان مر جاتا ہے۔ اور وہاں موجود ایک پاکستانی بھی مر جاتا ہے یہ سوچ کر کہ برسوں سے اس غریب خاندان کے ووٹوں پر منتخب ہو کر قومی اسمبلی تک آنے والے ان لوگوں کو اپنے گاؤں سے شہر اقتدار تک (تقریباً چھ سو کلومیٹر) کوئی ایک ”علاج گاہ“ نہیں دے سکے۔

جہاں یہ سب حالات ہیں وہاں حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ کہنا کہ ادویات کی قیمتوں میں بے جا اضافے کے خلاف ”کریک ڈاؤن“ شروع ہو چکا ہے یا اتنا اضافہ ہم نے نہیں کیا فقط ایک سیاسی بیان ہے۔ دیکھئے ادویات کی قیمتوں پر جو چیزیں اثر انداز ہوتی ہیں ان میں سر فہرست ڈالر کا اتار چڑھاؤ ہے۔ جب ہمارے حکومتی معیشت دان ڈالر میں اضافے پر قابو نہیں پا سکے تو قیمتوں میں اضافے پر کریک ڈاؤن جیسی باتیں سیاسی مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔

ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا ایک دم جو بات سبب بنی وہ ہے حکومت کا پندرہ فیصد اضافے کا فیصلہ۔ جو میں سمجھتا ہوں کہ بالکل غیر ضروری تھا۔ اگر پس پردہ کوئی مجبوری تھی بھی تو بھی پندرہ فیصد اضافے کی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ڈاکٹر یاسمن راشد جیسی پروفیشنل بلکہ میڈیکل پروفییشن کی ایک معتبر شخصیت سے میں ایسے قدم کی توقع نہیں رکھتا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد ڈالر کی قیمت سے ستائے ہوئے ادویہ ساز اداروں نے بھی کچھ ڈنڈی ماری اور کچھ خود ساختہ قیمتیں بھی بڑھائیں پر اس عمل کا محرک حکومت کا اپنا فیصلہ ہی بنا۔ فیصلہ تو غلط تھا ہی لیکن اس سے بھی بڑی حکومتی نا اہلی یہ تھی کہ حکومت ڈرگز ایکٹ 1976 کی شق آٹھ کے تحت تمام ادویات کی قیمتوں کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری نہ کر سکی۔ جس کی وجہ سے ہر سٹیک ہولڈر نے اپنی مرضی سے قیمتیں بڑھائیں کیونکہ گزٹ نوٹیفیکیشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ جاننا مشکل ہو گیا کہ سرکاری سطح پر کیا قیمت مقرر کی گئی ہے۔ اور کچھ ادویات میں چار سو فیصد تک اضافہ بھی ”ہارڈ شپ“ کی بنیادوں پر کرنا حکومتی مجبوری تھی۔

ان تمام تر مجبوریوں کو سمجھتے ہوئے میں صرف اتنا کہنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ ایک پاکستانی شہری جس پر ٹیکسز تو عین برطانیہ کے طرز پر لگائے جا رہے ہیں، کیا وہ برطانیہ کے ہی طرز پر مفت ادویات یا مفت ہیلتھ کئیر کا حق نہیں رکھتا؟ برطانیہ کے سسٹم میں تو سو فیصد ہیلتھ کئیر فری ہے، ہمارے ہاں کتنے لوگ ہیں جنہیں حکومتی سطح پر یہ سہولت میسر ہے؟ کیا حکومت وقت کے سیانوں کو اندازہ ہے کہ ایک بلند فشار خون، ذیابیطس، دل یا گردے کے مریض کی ادویات کا یومیہ خرچہ کتنا ہے؟ کیا ریاست مدینہ کے دعوے دار ایک غریب بیمار پاکستانی کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •