کرکٹ کی کِٹ کِٹ اور سیاست!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وکٹ گرادی، وکٹ اڑادی، ایمپائر کی انگلی کھڑی ہوگئی اللہ جانے پاکستان کی سیاست ہے یا کرکٹ میچ، ہم تو ویسے ہی کرکٹ میچ پسند نہیں کرتے تھے اب تو سیاست سے بھی بد دل ہوگئے جب دیکھو کرکٹ کی اصطلاحیں استعمال ہورہی ہیں ارے بندہء خدا آپ ملک کے وزیر اعظم ہو، میچ کے کپتان نہیں کچھ تو بردباری دکھاؤ، پچھلے دس سال کا رونا رونے کے بجائے پچھلے آٹھ ماہ کا حساب کرو کیا کھویا کیا پایا۔

آپ کے بیان میں ذرا جو سنجیدگی کی رمق ہو، سارے وفاداروں کو تبدیل کرتے کرتے کہیں خود بھی کسی کے حق میں دستبردار نہ ہو جانا۔ ایک حد تک تو یہ مثالیں جچتی تھیں لیکن اب یہ مثالیں بالکل ہضم نہیں ہو رہیں، کیونکہ حکومت بھی آپ کی، ریاست بھی آپ کی بیانیہ بھی آپ کا تو بھیا وزیراعظم سوچ سمجھ کر چلو۔ تم نے اپنی جھولی میں وہی کھوٹے سکے بھر لیے جو پہلے ہی نہ چل سکے، اب لوگ مذاق نہ اڑائیں تو کیا کریں۔

جو کہتے ہو وہ کرتے نہیں اور جو کرتے ہو وہ تو کبھی کہا ہی نہیں تھا، پہلے یو ٹرن اتنے لیے کہ یو ٹرن بھی شرما کر سرکل میں تبدیل ہوگیا اور ایسا تبدیل ہوا کہ اسی سرکل میں گھوم گھوم کر چکرا رہے ہو نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا ہے۔ ستائس سال پہلے کا جیتا ہوا ورلڈ کپ ہم پر اتنا بھاری پڑگیا کہ ہر وقت کرکٹ کی زبان میں گفتگو، دھمکی ہوتو وکٹ گرادوں گا، باؤنسر ماردیا، گگلی کرادی بس کر بھائی۔ اس سال بھی کرکٹ ورلڈکپ رمضان میں شروع ہوگا کاش سرفراز پاکستان کے لیے یہ کپ جیت لے، تاکہ تمھارا زعم ختم ہو لیکن بھائی سرفراز تم وزیراعظم بننے کا سوچنا بھی نہیں ایک ہی کافی ہے۔

اب حالیہ دنوں کابینہ میں تبدیلی کی تو اس کی واضح وجوہات بتانے کے بجائے وہی اندازِ بیاں کہ میں نے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلیاں کیں ہیں اور آیندہ بھی کروں گا۔ یہ تھی وہ تبدیلی جس کے نعرے لگتے تھے، جو وزیر ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اسے تبدیل کردوں گا، کے پی کے اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ اپنی ٹیم پر نظر رکھیں کوئی کھلاڑی صحیح پرفارمنس نہ دے تو بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کردیں یہ کیا بیانیہ ہے۔

ورلڈکپ کی جیت کے خمار سے باہر آئیں اور سیاسی اندازِ بیاں اختیار کریں۔ نہ پاکستان کوئی میدان ہے نہ پارلیمنٹ وکٹ جہاں میچ ہورہا ہو اس لیے قبلہ وزیراعظم اپنے آپ کو کپتان کہنا چھوڑ کر ملک کا سربراہ ثابت کریں، میں میں کے بجائے ہم کہنا سیکھیں، کیونکہ 92 کے ورلڈ کپ کی جیت ٹیم کا نتیجہ تھی۔ سنجیدگی سے روحانی حصار توڑ کر جسمانی طور پر اپنے آپ کو ثابت کریں اور حقیقی مسائل حل کریں، کتنے ہی مظلوموں کی نظریں آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں، کوئٹہ کے شہید، ہزار گنجی کے مقتوک، ہزارے کے مظلوم، سرگودھا کے بچے تحریک انصاف کے سربراہ سے انصاف کے طلبگار ہیں، اس پر دھیان دیں، ملک میں ہر طرف بے یقینی پھیلی ہوئی ہے اسے ختم کریں نہ کہ اس کو آوٹ کردیا اس کو بولڈ کردیا۔

ایک وقت تھا پاکستان اپنے قومی کھیل ہاکی میں اولمپک، ورلڈ اور ایشین چیمپئن تھا، اب اس قومی کھیل میں کوئی اعزاز ہمارے پاس نہیں مطلب کھیل کو کھیل رہنے دیں سیاست میں شامل نہ کریں ورنہ آپ کی زبان میں اگر کلین بولڈ ہوگئے تو کوئی نہ بچا سکے گا اور کرکٹ کی بساط لپیٹ دی جائے گی، رہے نام اللہ کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •