کچھ حیات انسان کے بھی تو دام بڑھاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئے پاکستان کے دعویداروں کی بالاآخر حکومت آ چکی ہے، اور ان کا دیا ہوئا سو دن کا ٹارگٹ بھی کب کا ختم ہوچکا ہے، پر تاحال ایسی کوئی تبدیلی، ایسا کوئی نیا پاکستان نظر سے نہیں گزرا، جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا حصا ہو۔ جوں ہی حکومت آئی ہے، تو بجائے اس کے حکومت مہنگائی کی کمر توڑتی، اسے زخمی کرتی، خود مہنگائی کا جن بے قابو ہو کر، مفلس و نادار طبقی کی کمر توڑنے پہ تلا ہوئا ہے۔ ہر آئے دن کسی نہ کسی چیز کے نرخ بڑھا دیے جاتے ہیں، جس سے عوام بیچارے بدحال ہیں۔

ہر ماہ پیٹرول بم گرادیا جاتا ہے، بجلی کے فی یونٹ کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں، زندگی بچانے والی انتہائی اہم ادویات کی قیمتیں اچانک سے بڑھا دی گئی، جس کا وزیراعظم عمران خان نے نوٹیس لیا، اور قیمتیں نہ بڑھانے کی ہدایات جاری کی۔ بات یہاں پر نہیں ختم ہوتی، بلکہ اب گیس کی قیمتوں میں 80 فیصد تک اضافہ کیا جارہا ہے، جو کہ عوام پہ گیس بم گرانے کے مترادف ہے۔ گیس پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے ازخود کھانے پینے کی اشیاء کی دام بڑھ جاتے ہیں۔

جیسے ہی ان سب اشیاء کے دام بڑھ رہے ہیں، ویسے ہی انسانی حیات کے دام پاکستان میں دن بہ دن گرتے جا رہے ہیں، جیسا کہ ترازو کے ایک سائِیڈ میں انسانی حیات اور دوسرے پہ اشیائے خوراک رکھی ہوں۔ اسی ہفتے احسن نامی انیس ماہ کا معصوم بچا کراچی یونیورسٹی روڈ پہ پولیس کی کراس فائرنگ سے مارا گیا، جیسا کہ اس کی حیات زندگی کی کوئی قیمت و اہمیت نہ ہو۔ پچھلے سال آگست میں دس سالہ بچی امل عمر پولیس اور ڈکیتوں کے مقابلے میں ماری گئی۔ پر ہونا کیا تھا، کچھ تعزیتی بیانات، کچھ کورٹ کچہریاں اور قصہ ختم۔

رواں سال جنوری کے دوسرے ہفتے میں ایک نوجوان لڑکا انتظار احمد مارا گیا۔ انیس جنوری کو ساہیوال میں جھوٹے پولیس مقابلے میں دو خواتین سمیت چار افرادمارے گئے۔ خوشقسمتی سے دو بچے تو بچ گئے، پر ان کی حیات ایک ڈراونا خواب بن کے رہی گئی ہے۔ اسی پولیس مقابلے میں ہی بائیس فروری کو 20 سالہ نوجوان لڑکی، ڈاؤ یونیورسٹی میں میڈیکل کہ طلبہ نمرہ بیگ کراچی میں ماری گئی، اور کھلتا ہوئا پھول مرجھا گیا۔ ارشاد رانجھانی کو بھی جب رحیم شاہ کی طرف سے گولیاں لگ رہی تھی، تب بھی پولیس عملدار تماشائی بن کے یہ خونی مناظر دیکھ رہے تھے۔ اور وزیرستان کے رہائشی ستائیس سالہ نقیب اللہ محسود کا ڈیڈ سال پہلے ایک پولیس مقابلے میں انکاؤنٹر تو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ، پولیس جس کے ذمے شہریوں کا تحفظ کرنا ہے، اس کو قتل کرنے کا لائنسس کس نے دیا ہے؟ پولیس والوں کو ہتھیار چلانے کی، نشانہ لگانے کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے یا، یونہی سفارشوں پہ بھرتیاں کی جاتی ہیں، جو کہ ڈکیتوں، چوروں سے مقابلہ کرتے وقت راہ چلتوں کو مار دیتے ہیں۔ آخر کیوں پاکستانی عوام کی جان اتنی سستی ہے؟ باقی آئی ایم ایف کے وفد کی آمد ہو، کوئی سعودی ولی عہد آنے والا ہو یا کوئی آمریکی آنے والا ہو تو راہوں میں پھول بچھا دیے جاتے ہیں۔

ریاست مدینہ بنانے کا خواب دیکھنے والے، ذرا اپنی خواب گاہوں سے باہر تو نکلیں، اور دیکھ لیں کہ انسانی زندگانی کے دام کس قدر گرتے جا رہے ہیں، اور ڈالر سمیت دوسری چیزوں کے اقدام تو آسماں تک کو چھو رہے ہیں۔ میں حکومت وقت، اور تمام عوامی نمائندوں اور صوبائی حکومتوں سے التجا کرتی ہوں، کہ اس طرح انسانی جان کو سستا نہ بنائیں۔

پولیس کے محکمے میں بھی اصلاحات کیے جائیں، جیسے ان میں یہ تاثر ختم ہو کہ، اس کے پاس ہر کسی کو مارنے کا لائسنس ہے۔ بندوق صرف لوگوں کو مارنے کے لیے نہیں، یہ اس لیے بھی دی جاتی ہے کہ، آپ لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کریں، ان کو پیش آئے خطرات سے بچانے کے لیے بندوق اور دیگر اسلحہ کا استمعال کریں۔ کسی قدرتی حادثے میں بھی انسانی جان جانا، بڑے ہی نقصان اور دکھ کی بات ہے۔ آپ انسانی جان کی قدر کریں، اور اپنے تمام ماتحت اداروں کو کرنا سکھائیں۔

انہیں ہاتھ میں بندوق دیں، تو بھی اس عہد کے ساتھ کے کسی معصوم بچے، یا نہتے شہری پر نہ چلائیں۔ جو انسانی جان کے دشمن ہیں، جو فرقیواریت کی آگ میں جل کر شدت پسندی پھیلا رہے ہیں، ان کا دائرہ تنگ کریں۔ اور حکومتی عیش و آرام سے نکل کر کبھی یہ بھی سوچیں، ہر کسی کو اپنے لوگ پیارے ہوتے ہی، لحذا ان کی جان کو اتنا سستا نہ سمجھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •