پولیس گردی، دہشت گردی، تبدیلیاں اور کچھ مجبوریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خیر سے جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے کوئی نہ کوئی شغل میلہ لگا کر رکھا ہے۔ آج کل نیا شغل وزارتوں کی تبدیلیاں ہیں۔

ان تبدیلیوں میں ایماندار اعظم سواتی کی بھی کیبنٹ میں واپسی ہوئی ہے جبکہ فردوس عاشق اعوان اب اطلاعات فراہم کرینگی۔ سب دیکھے دیکھے کھوٹے سکے نجانے اچانک سے کپتان کی آنکھ کے تارے کیسے بن گئے یہ بڑا غور طلب اور حیران کن معاملہ ہے۔ جبکہ دوسر ی جانب صبح شام پریس کانفرنسوں میں پیپر لہرا لہرا کر عوام کو بتانے والے وزیر عوام کو کچھ نہیں بتاپارہے کہ اس مہنگائی میں غریب کا چولہا کیسے جلے گا؟ اور جو اس غریب نے کوئی جگاڑ کرکے چولہا اپنا جلابھی لیا تو اس کا بل کہاں سے دیگا۔

بڑے بڑے وعدے اور شاندار ارادوں کے ساتھ وارد کپتان کی ٹیم نے عوام کو دودھ شہد کی نہریں تو نہ دیں ہاں منہ سے روٹی چھیننے کے انتظام ضرور کردیے۔ جس ٹیم کی تعریف میں کپتان الیکشن سے پہلے تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے اس ٹیم کے کمالات اور کرشمات دیکھ دیکھ کر اب عوام نہیں تھکتے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اتنے چاؤ سے لائی گئی حکومت ملک میں استحکام کے لیے عملی اقدامات پر توجہ دیتی لیکن اقتدار کے 8 ماہ میں سیاسی کشمکش، مہنگائی اور بے چینی میں ہی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر یہ کامیاب کوشش جاری رکھی کہ ملک کا سیاسی ماحول کسی دن بھی مستحکم نہ ہونے پائے سوائے اپوزیشن کو زچ کرنے اور سمندر سے تیل نکلنے کی کوشخبریوں کے علاوہ عوام کے ہاتھ تو کچھ نہیں آیا۔ ہاں اب سنا ہے ٹیم کے ایک اور فاسٹ بالر اپنی راجدھانی میں صرف اسی سال ہزاروں کی تعداد میں نوکریاں بانٹنے کا عزم عالیشان رکھتے ہیں بلکہ ان کے مطابق تو اب چائے والے پان والے بھی ٹیکس دیں گے۔ ویسے بھی امید پر دنیا بھی تو قائم ہے اب نجانے پرندے گھونسلہ کب بدلیں۔ نجانے ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لالھ گھر کس کے ہاتھ لگیں، خدا خیر رکھے ڈیم فنڈ کی گرد بھی بیٹھ سی گئی ہے۔

جہاں وژن کا یہ عالم ہو کہ پنجاب جیسے صوبے کو عثمان بزدار جیسے وزیر اعلی دیا گیا ہے جو ہر فیصلے سے پہلے ترین یا وزیر اعظم کی جانب دیکھتے ہیں جبکہ آثار بتارہے ہیں کہ کپتان کے وسیم اکرم بھی تبدیلی کی لہر کا شکار ہوسکتے ہیں۔ فی الحال تو اس حکومت کو کنٹینر سے اترنے کے لیے آٹھ مہینے بھی کم پڑ گئے ہیں۔ کبھی پنجاب میں ڈی آئی جی کی تبدیلیاں، تو کبھی وزرا کی بیان بازیاں اور لڑائیاں تو کبھی اپوزیشن پر لعن طعن اور الزام تراشیاں یا پھر اپنی تمام تر ناکامیوں کا ذمہ دار میڈیا کو ٹھہرانا ابھی تک اس حکومت کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ کبھی چئیر مین نیب سے سوال کہ سارے کرپٹ سیاستدانوں کو کب پھانسی چڑھانی ہے جیسا خان صاحب اپنی تقاریر میں یہ دہراتے رہے کہ وہ کسی کو چھوڑینگے نہیں اور واقعی وقت یہ ثابت کررہا ہے کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑ رہے۔

اب بھلا بتا ؤ کوئی سوچ سکتا تھا کہ خان صاحب ایک جھٹکے میں اپنے سب سے اہم کھلاڑی کو جھٹکے سے آؤٹ کردیں گے۔ اسد عمر کا گھر جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف کی معاشی پالیساں ناکام ہوگئی ہیں دوسری جانب اللہ بھلا کرے فواد چوہدری کا جن کی وجہ سے صبح شام میلہ سا لگا رہتا تھا خان صاحب نے انہیں بھی سائنس اور ٹیکنالوجی جیسی وزارت سے سرفراز کیا۔ اب اس وقت منتخب وزیراعظم کی 47 رکنی کابینہ میں 16 غیر منتخب نمائندے شامل ہوچکے ہیں اور ان سب میں کوئی ہزارہ برادری کا دکھ نہیں سمجھتا جہاں قبرستان میں اب جنازوں کے لیے جگہ بھی باقی نہیں رہی بلوچستان میں پکتے لاوے کو کو ئی نہیں دیکھ رہا جس کی لپیٹ میں پورا پاکستان ہے۔

ساہیوال میں کراچی میں معصوموں اور مظلوموں پر برستی گولیوں کے ذمہ داروں سے کوئی سوال نہیں پوچھ رہا جہاں ہسپتالوں معصوم بچے غلط انجکشن لگنے سے موت کی دہلیز پر چلے جائیں اور بے حسی کی چادر تانے ارباب اختیار سوتے رہیں جہاں اقتدار بچانے کے لیے فیصلے کہیں اور سے کروانا پڑیں وہاں تبدیلیاں صرف چہروں کی ہوتی ہیں نظام میں نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •