ان کے خون کا رنگ بھی سرخ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

18 اپریل کی صبح صوبہ بلوچستان کے مکران کوسٹل ہائی وے پر اورمارہ سے گوادر جانے والی تین سے چار بسوں کو بزی ٹاپ کے مقام پر ایف سی کی وردیوں میں ملبوس تقریباً دو درجن مسلح افراد نے سڑک پر ناکہ لگا کر روکا، ان میں سے کچھ افراد بسوں میں داخل ہو گئے۔ مسافروں کے شناختی کارڈز چیک کیے گئے، اور ان میں سے 16 افراد کو الگ کر کے باہر اتار لیا گیا۔ اس کے بعد سڑک کے ایک طرف لے جا کر ان کے ہاتھ پشت پر باندھ دیے گئے، اور ان کے سروں پر گولیاں مار کر ان کو ہلاک کرنا شروع کر دیا گیا۔ 14 افراد موقعہ پر ہی جان بحق ہو گئے، جبکہ دو افراد بھاگ کر زخمی حالت میں قریبی سیکیورٹی چیک پوسٹ تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ مرنے والے 14 افراد میں سے گیارہ افراد پاکستان نیوی، ائرفورس اور کوسٹ گارڈز کے اہلکار تھے۔

اس واقعے کے بعد سے بے حسی کی وہ داستان شروع ہوتی ہے، جس پر جتنا افسوس کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔ ایسے لگتا ہے مرنے والوں کا ہمارے ملک اور معاشرے سے کوئی تعلق ہی نہی تھا، بلکہ وہ تو انسان ہی نہ تھے۔ سب سے زیادہ دکھ تو وزیراعظم پاکستان کا رویہ اور ردعمل دیکھ کر لگا۔ ہمارے وزیراعظم کو کرائسٹ چرچ میں ہونے والے حملے کے متاثرین تو یاد رہے۔ آپ نے ٹویٹ بھی کیے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو فون بھی کیا۔ نیوزی لینڈ کے عوام سے اظہار یکجہتی بھی کیا، بلکہ آپ پلوامہ حملے میں ہلاک ہونے والے بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں کے خاندانوں کا دکھ بھی محسوس کرتے رہے، لیکن پاکستان میں اس کے بعد ہونے والے دہشت گرد حملوں کے لواحقین کے لئے تھوڑا وقت بھی نہیں نکال سکے۔

نہ ہی پرچم سر نگوں ہوا، نہ ہی کسی قومی سوگ کا اعلان ہوا، نہ ہی کوئی دعائیہ تقریب منعقد ہوئی۔ ہزارہ برادری کے متاثرین آپ کی راہ تکتے رہے، اور عین اورمارہ حملے کے دن آپ اپنی کابینہ کی اکھاڑ پچھاڑ میں مصروف ہو گئے۔ کیا ہو جاتا اگر آپ ایک دن کے لئے اپنی یہ مصروفیات موخر کر دیتے۔ ان کی بے حسی اپنی جگہ ملکی میڈیا نے بھی اپنی ساری توجہ اس دن ملکی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں پر ہی مرکوز رکھی۔ کسی بھی نیوز چینل نے اپنے لوگو کا رنگ تبدیل نہیں کیا، اور نہ ہی اپنے پرائم ٹائم پر کرنٹ افیئرز کے پروگراموں میں افسوسناک سانحے کو جگہ دی۔ باقی رہ گئی سول سوسائیٹی اور موم بتیاں جلانے والے تو وہ بھی خیر سے سوئے ہی رہے۔ کسی سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ نے بھی اپنی ڈی پی کا رنگ تبدیل نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے ان مظلوموں کے نہ بیوی بچے تھے، نہ ہی ماں باپ، نہ ہی کوئی خاندان۔

یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔

ذرا تصور کیجیے کیا اس طرح کا سانحہ ہمارے پڑوسی ملکوں میں رونما ہوتا تو کیا ان کا بھی یہی ردعمل ہوتا؟

کیا پورا ملک، ان کا میڈیا، ان کی سول سوسائیٹی ہمارے جوان، ہمارے شہید کہہ کہہ کر ان کے پیچھے نہ کھڑی ہوتی؟

وہاں تو پلوامہ اور اوڑی کا واقعہ ہوا تو وہ ہمارے ملک پر حملہ آور ہو گئے تھے۔ پوری قوم اپنی فورسز کی پشت پر کھڑی ہو گئی تھی۔ یہاں تو دن رات اپنی افواج اور قومی سلامتی کے اداروں کو نشانے پر رکھا جاتا ہے۔ ان کے خلاف باتیں کرنا یہاں فیشن بن چکا ہے۔

خیر اب تحقیقات کے بعد جب یہ بات ثابت ہو گئی ہے، کہ یہ تمام افراد ایران میں موجود اپنے خفیہ ٹھکانوں سے پاکستان میں داخل ہوئے، غارت گری کی اور واپس چلے گئے، تو اچھا ہوا کہ حکومتی سطح پر ایرانی حکومت سے احتجاج بھی کیا گیا، اور ان کو ڈوزئیر بھی تھما دیا گیا، لیکن کیا یہی اقدام کافی ہے؟

کیونکہ یاد رہے چند دن پہلے ہی اغواہ شدہ ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں کو بازیاب کروا کے ایرانی حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔ جبکہ ہمارے سرحدی علاقوں پر ہمارے یہ پڑوسی اس سے کم تر نوعیت کے دہشت گردی کے واقعات کے ردعمل میں بغیر سوچے سمجھے نہ صرف یہ کہ شدید گولہ باری کرتے ہیں، بلکہ پاکستانی علاقوں میں داخل ہو کر ہمارے یہاں سے لوگوں کو بھی اٹھا لے جاتے ہیں۔ کبھی ایرانی ڈرون آپ کی سرحدوں میں گھس آتے ہیں، تو کبھی را کے تربیت یافتہ تخریب کار، کلبھوشن ان کی صرف ایک مثال ہے، تو کبھی کراچی میں دہشت گردی میں ملوث عزیر بلوچ ایرانی پاسپورٹ پر سفر کرتا ہے۔

کبھی ہندوستان ایل و سی پر ہمارے جوانوں کو شہید کر رہا ہے، تو کبھی افغانی ہمارے جوانوں کو گولیوں کی باڑھ پر رکھ لیتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے پاکستان کے تین پڑوسی افغانستان، ایران اور ہندوستان پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے آپس میں گٹھ جوڑ کر چکے ہیں۔ اور ان کٹھن حالات میں پاکستان کے اندر اور سرحدوں پر روز پاکستان کے لئے جانیں قربان کرنے والے جوانوں اور شہیدوں کو وہ عزت اور مان نہی دیا جا رہا جس کے وہ مستحق ہیں۔

بلوچستان میں مارے جانے والے پنجابی اور سندھی مزدوروں کے بیہمانہ قتل کے واقعات ہوں یابلوچستان اور ہمارے قبائلی علاقوں میں ہونے سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے، ہمارے میڈیا میں ان پر اتنا افسوس کا اظہار نہیں کیا جاتا، جتنا واویلا بلوچستان اور پختونخواہ میں سیکیورٹی فورسز کی طرف سے ہونے والی کارروائیوں پر کیا جاتا ہے۔ خدارا ہوش کے ناخن لیجیے۔ یہ ملک ہے تو ہم ہیں۔ ہماری سیکیورٹی فورسز کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں۔ وہ وطن کی حفاظت کے لئے جانیں دیتے ہیں ان کے خون کا رنگ بھی اتنا ہی سرخ ہے، جتنا کہ دوسروں کے خون کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •