خدا حافظ نشویٰ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل نو ماہ کی نشویٰ اس دنیا میں اپنا آخری سانس لے کر واپس وہیں چلی گئی جہاں سے آئی تھی۔ سوچتی ہوں وہ وہاں کے باسیوں کو اس دنیا کے بارے میں کیا بتا رہی ہو گی۔ قصے ہی کتنے ہوں گے اس کے پاس؟ گھر، اسپتال، نرس، انجیکشن اور پھر موت۔ ان پانچ مراحل میں ہی اس کی زندگی نبٹ گئی۔ کہنے کو تو یہ بھی اپنے میں ایک داستان ہے لیکن اس بے چاری کو کیا پتہ کہ اس پر کیا ظلم ہوا۔ ابھی نو ماہ کی ہی تو تھی۔ ماں، باپ، بہن، بھائی اور کھلونے۔۔۔ اس سے زیادہ تو اس نے کچھ دیکھا بھی نہیں تھا۔

سوچتی ہوں کہ اچھا ہوا اس نے اس سے زیادہ کچھ نہیں دیکھا اور وہ اسی عمر میں اس دنیا سے چلی گئی۔ زندہ رہتی تو اس معاشرے کا اس سے زیادہ بھیانک روپ دیکھتی۔ چند سال بعد درندوں کی نظریں اس کے جسم کے آر پار ہونا شروع ہو جاتیں۔ کسی کو موقع ملتا تو اس کی روح تک پامال کر دیتا اور پھر شائد اس کی بھی نعش زینب کی طرح کسی کوڑے کے ڈھیر پر پڑی ملتی۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او ساحل کے مطابق 2018 میں ہر روز تقریباً دس بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ نشویٰ خوش قسمت تھی کہ اس کا شمار ان بچوں میں نہیں ہوا۔

نشویٰ اس پچیس سالہ عصمت سے بھی خوش قسمت نکلی جسے اسپتال میں مبینہ زیادتی کے بعد انجکشن لگا کر قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کی ابھی تحقیقات چل رہی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جو کیس سوشل میڈیا تک پہنچتا ہے صرف اسی پر ایکشن لیا جاتا ہے۔ عصمت کا کیس جب تک سوشل میڈیا پر رہے گا، حکومتی مشینری کام کرتی رہے گی۔ جیسے ہی معاملہ ٹھنڈا ہوگا کچھ دے دلا کر قصہ ختم کر دیا جائے گا۔

نشویٰ کی خوش قسمتی کا اندازہ اس کے جنازے میں شامل سیاستدانوں کی تعداد سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ تقریباً ہر سیاسی پارٹی کے سیاستدان نے اس کے جنازے میں شرکت کی جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارے سیاست دان حکومت میں آنے سے پہلے دو چیزوں کی بھرپور تیاری کرتے ہیں، اول مذمتی بیان، دوم نمازہِ جنازہ کا طریقہ۔ جیسے ہی کسی حادثے کی خبر ملی، پہلے مذمتی بیان کی پرچی نکال کر پڑھ دی۔ پھر حادثے میں جان سے جانے والوں کی نمازِ جنازہ میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ اب تو ان کی پبلک ریلیشنز ٹیم خود ہی ان کی طرف سے ایسے بیانات جاری کر دیتی ہے۔

نشویٰ اور عصمت اگر کسی ترقی یافتہ ملک کی رہائشی ہوتیں تو شاید ان کے ساتھ یہ سب نہ ہوتا۔ اگر وہ ایسے کسی حادثے کا شکار بھی ہوتیں تو اب تک اسپتالوں کا انتظام یکسر تبدیل کیا جا چکا ہوتا تاکہ مستقبل میں کوئی انسان ایسی کسی غفلت کا شکار نہ ہو۔ ہمارے ہاں اول تو ایسے واقعات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر کسی واقعے پر نوٹس لیے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو پہلے تو مذمتی بیانات جاری کیے جاتے ہیں، پھر ایک دو عہدہ دار معطل کیے جاتے ہیں، متعلقہ ادارے کو چند دن کے لیے تالہ لگایا جاتا ہے، کیس چلتا ہے، خبریں بنتی ہیں، تجزیے ہوتے ہیں، پھر ایک نئی خبر آ جاتی ہے اور ساری توجہ وہاں مبذول ہو جاتی ہے۔

پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے اور اب بھی یہی ہوگا۔ ہم بس ان کے جنازے پڑھ سکتے ہیں۔ اب ہم کسی اور نشویٰ اور عصمت کے مرنے کا انتظار کریں گے تاکہ دوبارہ سے یہی نوحے پڑھ اور لکھ سکیں۔ اس سے آگے نہ ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ہم سے ہوگا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •