حکومت کا داخلی بحران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمومی طور پر کسی بھی حکومت کو دو محاذوں پر بحران کا سامنا ہوتا ہے۔ اول داخلی اور دوئم خارجی محاذ پر، یہ دونوں سطحوں پر موجود مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت ہی کسی بھی حکمرانی کا بڑا امتحان ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے جیسے ملکوں میں حکمرانی کا نظام کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ حکمرانی کا ایک ایسا نظام جو خوبیاں کم اور خامیاں زیادہ رکھتا ہو اس میں حکمرانی کی شفافیت اور فعالیت کو قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔

ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ خارجی بحران سے نمٹنے کے لیے حکمرانی کے نظام کی بنیادی شرط داخلی بحران سے نمٹنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ خود داخلی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت سے محروم ہو تو خارجی مسائل سے نمٹنا بھی ناممکن ہوتاہے۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم بحرانوں کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے داخلی بحران کو قبول کرنے کی بجائے سارا ملبہ خارجی عوامل پر ڈال کر خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ حکمت عملی وقتی ہوتی ہے جو کہ کارگر نہیں ہوتی۔

تحریک انصاف کو جاننے اور سمجھنے والے سیاسی پنڈت ہمیشہ سے یہ دلیل پیش کرتے رہے ہیں اور کرتے ہیں کہ اس جماعت کو اپنے داخلی سطح کے بحران سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اقتدار میں آنے سے قبل وزیر اعظم عمران خان سے جب بھی کبھی ملاقات ہوتی تو وہ ہمیشہ کھل کر اعتراف کرتے کہ ان کی جماعت کا داخلی بحران زیادہ سنگین ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ جملہ ہمیشہ یاد رہتا کہ اگر کبھی ہم ناکام ہوئے تو اس کی وجہ ہمارے سیاسی مخالفین کم اور پارٹی کا داخلی بحران زیادہ ہوگا۔

حالیہ دنوں میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کابینہ میں ایک بڑی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کی ہے۔ اس کے پیچھے ایک سیاسی پس منظر بھی ہے۔ یہ جو تحریک انصاف کو مختلف محاذ پر عوامی مسائل و مشکلات کے تناظر میں جس کڑی تنقید کا سامنا تھا یہ جو کچھ کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوئی ہیں اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ کہنا کہ یہ کام راتوں رات ہوا ہے درست نہیں اس پر مختلف حوالوں سے کام ہوا اور مختلف جائزوں کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔

یہ فیصلے ابھی رکیں گے نہیں اور مزید نئے فیصلے بھی سامنے آئیں گے۔ معاشی امور، گیس اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ، غلط بلنگ، داخلی انتشار کو شدت دینے جیسے امور ان تبدیلیوں کا سبب بنے ہیں۔ اسد عمرسے جو بڑی توقعات وزیر اعظم کو وابستہ تھیں اس کی کوئی بڑی جھلک ہمیں دیکھنے کو نہیں ملی اور نہ ہی اسد عمر یہ تصور اجاگر کرسکے کہ ان کی حکومت کی معاشی پالیسیاں درست سمت پر چل رہی ہے اور اس کے بہتر نتائج نکل سکیں گے۔

حکمرانی کے نظام میں اگر وزرا کی سطح پر جوابدہی کا نظام ہوگا تو اس سے حکمرانی کا نظام شفافیت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے سخت اور کڑوا فیصلہ کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک جنگجو کھلاڑی ہیں اور کوئی بھی سخت یا بڑا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ ان کی مخالفت میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ اول وہ جو ان کے سیاسی مخالفین ہیں اور دوئم وہ جو ان سے بہت زیادہ اچھے کی توقع رکھتے تھے اور حالیہ بحران میں ان کا خیال ہے کہ حکومت درست سمت میں نہیں چل رہی۔ مخالفین کا کام تو تنقید ربرائے تنقید ہی ہوتا ہے، لیکن جو لو گ ان کے خیر خواہ ہیں اور ان پر تنقید کررہے ہیں ان کی تنقید وتجاویز سے فائدہ اٹھانے کی حکومتی صلاحیت بھی کمزور ہے۔

عمومی طو رپر ہمارے یہاں کہ حکمرانی کے نظام میں کوئی بھی حکمران اپنی ناکامی کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی وہ بڑے فیصلے کرنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ بڑے فیصلے اس کے لیے نئی سیاسی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان نے یہ بڑا فیصلہ بھی کیا اور مزید عندیہ دیا کہ وفاق اور پنجاب سمیت خیبر پختونخواہ میں بھی بڑی سیاسی تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔ اس بحران سے وزیر اعظم عمران خان کو اپنی سطح پر بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ان سے اپنی ٹیم کی سلیکشن پر بھی کافی غلطیاں ہوئی ہیں اور وہ خود بھی اس بحران کے ذمہ دار ہیں جو اس وقت حکمرانی کے نظام میں موجود نظر آتا ہے۔

پنجاب جو شریف برادران کی سیاست کا اصل مرکز ہے وہاں اپنی طاقت کو قائم کرنا، مسلم لیگ ن کی طاقت کو کمزور کرنے کے حوالے سے وزیر اعلی پنجاب کے طور پر عثمان بزدار کی تقرری بھی خود تحریک انصاف کی حکومت کے لیے ایک مشکل صورتحال کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یقینی طور پر پنجاب کی سیاسی حکمت عملی میں مزید سوچ وبچار کی ضرورت ہے اور ایک مضبوط حکمت عملی سے ہی نواز شریف کی طاقت کو کم کیا جاسکتا ہے۔

اب بھی وزیر اعظم عمران خان نے جو کابینہ میں تبدیلیاں کی ہیں اس پر بھی تنقید ہورہی ہے۔ اعجازشاہ جو داخلہ، عاشق فردوس اعوان کو مشیر اطلاعات، اعظم سواتی کو پارلیمانی امور بنانے پر بھی حیرت ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ان سے کیا کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ واقعی کوئی حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو وہ پرانے روایتی طر ز کے چہروں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے حکمرانی کے نظام میں غیر معمولی اقدامات سمیت نئے لوگوں پر اور پارٹی کے اصل سیاسی ورکروں پر زیادہ انحصار کرنا چاہیے۔

ایک مسئلہ پارٹی کا داخلی جماعتی بحران ہے۔ حکمرانی کے نظام کو شفاف بنانے میں حکمران اور اقتدار میں شامل جماعت کا باہمی تعلق ہوتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں پارٹی میں موجود مختلف گروپ بندیاں پارٹی اور حکمرانی کے نظام میں مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور اس پر وزیر اعظم عمران خان کی خاموشی یا مصلحت پسندی درست حکمت عملی نہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کو حکومتی اور جماعتی سطح پر مختلف پالیسی اور حکمت عملی کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومتی اور وزیروں کی سطح پر کارکردگی کو جانچنے کے لیے جماعتی کردار کو بڑھانا ہوگا۔ کیونکہ پارلیمانی سیاست میں اقتدار میں شامل جماعت ہی حکومتی نگرانی کا موثر نظام ہوتا ہے اور اس کے مضبوط بنائے بغیر اچھی حکمرانی کا تصور ممکن نہیں ہوسکتا۔ جس بھی سیاسی نظام میں حکومت اقتدار پرست جماعت کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہوجائے وہاں سیاسی جماعت کی اہمیت کمزو رہوجاتی ہے۔

اب بھی بہت سے وزیر حکومت میں ایسے ہیں جو حکومت سمیت تحریک انصاف کے لیے بھی اچھی مثال پیدا نہیں کررہے۔ ان میں ایک نام وفاقی وزیر فیصل واڈا کا بھی ہے جو وزیر سے زیادہ ہمیں سیاسی جوکر زیادہ لگتے ہیں اور ہمیشہ اپنی حکومت کو مذاق کے طو رپر پیش کرتے ہیں۔ حکومتی سطح پر وزیروں، مشیروں کے لب ولہجہ کے حوالے سے ان کی جوابدہی ہونی چاہیے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ تبدیل کردی اور ان کے بقول آگے بھی جو کارکردگی دکھائے گا وہی کابینہ یا حکومت کا حصہ رہے گا۔ اس حالیہ عمران خان کے فیصلہ پر یقینی طور پر تنقید ہوسکتی ہے لیکن اس فیصلہ سے حکومت میں جوابدہی کا نظام بھی آگے بڑھے گا اور دوسرے وزیر بھی خود کو بدلیں گے بھی اور جوابدہ بھی ہوں گے ۔ لیکن اس قسم کی تبدیلیاں بار بار نہیں کی جاتی کیونکہ اس سے حکومت کا عمومی تصور کمزو رہوتا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ جیسے وزیر اعظم کا حکومت پر مضبوط کنٹرول نہیں۔

اس لیے وزیر اعظم عمران خان کو اپنی ٹیم کی سلیکشن پر زیادہ محنت اور فکر و سوچ کی ضرورت ہے۔ جب وزیر اعظم مختلف وزارتوں میں متبادل فورم پیدا کریں گے تو اس سے بحران حل نہیں بلکہ اور زیادہ بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں۔ اس وقت حکومت کے سامنے بڑا چیلنج معاشی میدان ہے۔ حفیظ شیخ کس حدتک حکومت یا عوام کو معاشی ریلیف دے سکتے ہیں وہ خود بڑا چیلنج ہے۔ لیکن اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک بڑا معاشی ہوم ورک اور ٹیم ورک کی ضرورت ہے اور یہ ہی عمران خان کی حکومت کا بڑا چیلنج بھی ہوگا کہ وہ کیسے فوری طور پر لوگوں کو معاشی ریلیف دے سکیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کا بڑا چیلنج ان کے سیاسی مخالفین نہیں بلکہ ان کا اپنا داخلی حکمرانی اور جماعتی نظام ہے جو مختلف گروپ بندیوں کا شکار ہے، یہ لوگ حکومت اور جماعت سے زیادہ اپنے مفادات کے گرد سیاست کررہے ہیں اور یہ ہی تحریک انصاف یا عمران خان کے لیے بڑا مسئلہ ہونا چاہیے۔ یہ مسائل محض کابینہ کی تبدیلی سے حل نہیں ہوں گے ۔ اس کے لیے وزیر اعظم عمران خان کو اپنی پارٹی بھی منظم کرنی چاہیے اور ان کو حکومت میں ایسے لوگوں کو لانا چاہیے جو واقعی تبدیلی کو اپنی سیاست کا محور سمجھتے ہیں۔ وگرنہ روایتی طرز کی سیاست سے نہ پہلے ملک کا بھلاہوا ہے اور نہ ہی آئندہ ہوسکے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •