دیہی عورتوں کے مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیہی عورتوں کے مسائل کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں شہری اور دیہی تفریق بے حد بڑھ چکی ہے۔ مثال کے طور پراگر آپ کراچی سے اندرون سندھ کی طرف جائیں تو یوں لگتا ہے کہ آپ ٹائم مشین میں بیٹھ کر ماضی کی طرف جا رہے ہیں۔ ویسے تو بڑے شہروں کا بھی برا حال ہے لیکن دیہاتوں میں تو انفرا اسٹرکچر نہ ہونے کے برابر ہے۔ جیسے غربت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ غربت نسائی چہرہ رکھتی ہے اسی طرح یہ بات بھی قابل فہم ہے کہ اگر دیہی علاقے پسماندہ رہیں گے تو یہ پسماندگی دیہی عورتوں پر زیادہ اثر انداز ہو گی۔ پدر سری نظام کی وجہ سے غربت اور پسماندگی کے باوجود مرد سماجی آزادی سے لطف اندوز ہوتا ہے اور عورت کو تشدد کا نشانہ بھی بناتا ہے۔ معاشرے میں متشدد رویوں کی بنیادی وجہ غربت یا اقتصادی عوامل ہیں۔

اقتصادی وسائل سے محرومی بہت سی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔ غربت کی وجہ سے لوگ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا نہیں کر پاتے اور یوں معاشرے میں فرسٹریشن پھیلتی ہے جس کا نتیجہ متشدد رویوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ عورتیں چونکہ معاشرے کا کمزور حصہ ہیں، اس لئے یہ فرسٹریشن ان پر نکالی جاتی ہے۔ یو این ویمن کی رپورٹ کے مطابق غربت کا ناطہ عورتوں پر تشدد اور ٹریفکنگ سے جڑا ہوا ہے۔ اقتصادی محرومی اور سماجی نا انصافی کا نتیجہ فرسٹریشن اور تشدد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

پاکستان کی دو تہائی آبادی کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے اور 75 % عورتیں اور لڑکیاں زرعی شعبے میں کام کرتی ہیں۔ روایتی طور پر زمین کی ملکیت اور کنٹرول مرد کے ہاتھ میں رہا ہے لیکن کچھ عرصہ سے دیہاتوں سے شہروں کی طرف ہجرت کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے۔ ویسے تو پورے پورے خاندان شہروں کی طرف ہجرت کر تے ہیں لیکن اکثر صورتوں میں صرف مرد پیسا کمانے کی خاطر شہر جاتے ہیں اور یوں دیہی خواتین پر کام کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات الگ ستم ڈھاتی ہیں۔ اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ حکومت دیہی خواتین کے لئے خصوصی اسکیمیں متعارف کرانے لگی ہے۔ سندھ حکومت دیہی عورتوں میں زمینیں تقسیم کر چکی ہے۔ اس سلسلے کو جاری رکھنا چاہیے۔

یو این ویمن کے مطابق پاکستان کی دیہی عورت گھریلو کام کاج، بچوں کی پرورش، بزرگوں کی دیکھ بھال کے علاوہ فی ہفتہ چونتیس گھنٹے زرعی کام بھی کرتی ہے۔ دیہی گھرانے میں افراد کی اوسط تعداد چھ تا سات ہوتی ہے اور اس کے ساتھ بچوں کی پیدائش کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے۔ سندھ یونین کونسل اورکمیونٹی اکنامک اسٹرینتھنگ پروگرام کے فیلڈ ورکرز کو ضلع ٹنڈو الہٰیار کے ماؤ پٹیل گاؤں میں جمنا نامی خاتون نے بتایاکہ وہ صبح سویرے اٹھ کر گھر کے کام کاج نمٹاتی ہے، مویشیوں کا باڑہ صاف کرنے کے ساتھ دوسرے کام کرتی ہے۔

دن میں دو مرتبہ مویشیوں کے لئے گھاس کاٹنے جاتی ہے اور دن میں دو یا تین مرتبہ مویشیوں کو پانی پلانا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ وہ پورا دن گھریلو اور زرعی کاموں میں مصروف رہتی ہے۔ بیجنگ اعلامیہ اور پائیدار ترقی کے اہداف اور حکومت پاکستان کے و ژن 2025ء کے مطابق دیہی عورتوں اور لڑکیوں کو خود مختار بنانا اور ان کے انسانی حقوق اور صنفی مساوات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ پاکستان کی عورتوں کو کام کے سب سے زیادہ مواقع زراعت کے شعبے میں ملتے ہیں۔

نیشنل کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن کے مطابق دیہی عورت کے کام کا تخمینہ عمومی انداز میں لگایا جاتا ہے جب کہ اس کا کثیر ا لجہتی کام جیسے پیداواری، تولیدی، دیکھ بھال، کمیونٹی اور سماجی کام کا احاطہ نہیں کیا جاتا۔ عورت کا اقتصادی فائدے کے لئے کیا جانے والا کام اور گھریلوذمہ داری سمجھ کر کیا جانے والے کام مثال کے طور پر مویشیوں کی دیکھ بھال یا خاندان کے کھیتوں میں جا کر کام کرنامیں فرق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اگر عورت کے ان سارے کاموں کو ورک فورس یا لیبر فورس میں شمولیت سمجھا جائے تو عورتوں کے کام کی شرح چونتیس فی صد سے بڑھ کر باون فی صد ہو جائے گی، باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور صحیح سوال پوچھے جائیں تو عورت کا کام ساٹھ فی صد تک پہنچ سکتا ہے۔ زراعت کے شعبے میں عورتیں زیادہ تر ڈیری اور لائیو اسٹاک کا کام کرتی ہیں۔ صرف انیس فی صد عورتیں معاوضہ پر کام کرتی ہیں اورساٹھ فی صد خواتین بغیر کسی معاوضہ کے گھریلو ذمہ داری سمجھ کر کرتی ہیں ’۔ SDPIکی تحقیق کے مطابق دیہی عورت کو درپیش چیلنجز کا تعلق غربت سے ہے۔ زمین اور دیگر اثاثوں تک غیر منصفانہ رسائی اور کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے عورت کی غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں صنفی مساوات کے اشارئیے انتہائی خراب ہیں اور عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین آج بھی موجود ہیں۔

پاکستان کی دیہی عورتوں کی جدوجہدکی کہانی اوکاڑہ مزارعین کی تحریک میں عورتوں کے کردار کا ذکر کیے بغیر نا مکمل رہے گی۔ کبھی آپ عقیلہ ناز سے کسی سیمینار یا میٹنگ میں یہ کہانی سنیں، آپ دیہی عورتوں کی بہادری کے قائل ہو جائیں گے۔ کیسے عورتوں کی ”تھاپا فورس“ نے پولیس والوں کا مقابلہ کیا۔ یہ کہانی اوکاڑہ کے ملٹری فارمزمیں کام کرنے والے مزارعین کی اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کی کہانی ہے۔ عقیلہ بتایا کرتی ہیں کہ ان کے بزرگ قیام پاکستان سے پہلے سے ان فارمزپر کام کیا کرتے تھے۔

پاکستان بننے کے بعد یہ فارمز فوجی ملکیت میں آ گئے۔ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب 2001 ء میں پرویز مشرف نے کارپوریٹ فارمنگ کا آغاز کرنا چاہا اور مزارعین نے بٹائی کے نئے اصول ماننے سے انکار کر دیا۔ مزارعین ان کھیتوں پر نسل در نسل کام کرتے چلے آئے تھے اور لینڈ ٹینینسی ایکٹ کے تحت انہیں مالکانہ حقوق مل سکتے تھے۔ مزارعین نے اپنے آپ کو انجمن کی شکل میں منظم کیا۔ وہ مزارعے بنے رہنا نہیں چاہتے تھے بلکہ اب وہ مالکانہ حقوق مانگ رہے تھے۔

ان کا نعرہ تھا ”مالکی یا موت“۔ انہیں نا تو فصلوں کی بٹائی کے نئے انتظامات منظور تھے اور نا ہی وہ اپنی زمینوں سے بے دخل ہونا چاہتے تھے۔ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں جب مرد ڈسٹرکٹ کمشنر اوکاڑہ کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے۔ پولیس نے ان کے گاؤں میں گھس کر لوگوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی تو عورتیں کپڑے دھونے والے ڈنڈے جو تھاپا کہلاتے ہیں، اٹھا کر ان کے مقابل آ گئیں اور انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ یوں عورتوں کی تھاپا فورس وجود میں آئی۔

ان خواتین کی جدوجہد جاری ہے لیکن دوسری جگہوں پر دیہی خواتین دیگر مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ دیہی عورت آج بھی طبی سہولتوں، تعلیم اور روزگار کے مواقع سے محروم ہے۔ موسمیاتی یا آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے انہیں نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ صائمہ جعفری کے بقول اکیسویں صدی میں بھی سندھی عورت کو غیرت، عزت یا ہوس کی خاطر زنا بالجبر، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان کی رائے میں اس وقت عورت کو جس سب سے بڑے مسئلے کا سامنا ہے، وہ بقا کا مسئلہ ہے۔

باقی سب باتیں بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے کی جاتی ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے عورتوں کی اشک شوئی تو کی ہے لیکن مسائل بہت زیادہ ہیں۔ سندھ حکومت نے اپنے پہلے دور میں دیہی عورتوں کو سرکاری زمینوں کے مالکانہ حقوق دیے تھے۔ اس سلسلے کو جاری رکھنا چاہیے تھا۔ زرعی اصلاحات یا لینڈ ریفارمز کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔

قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی سفارشات کے مطابق زمین، بیج، پانی اور جنگلات جیسے پیداواری وسائل تک عورتوں کی یکساں رسائی اور کنٹرول کی ضمانت دی جائے اور ان کے زرعی کام کو تسلیم کیا جائے۔ دیہی عورتوں کے لئے وقت اور محنت بچانے والی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے تا کہ ان پر گھریلو کاموں کا بوجھ کم ہو اور انہیں تعلیم اور مہارتیں حاصل کرنے کے ساتھ آرام اور تفریح کے مواقع بھی ملیں۔ موبائل فون کے متعارف ہونے سے بھی دیہی عورتوں کو مواقع ملے ہیں اور اب وہ معلومات اور ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔

عورتوں اور مرد کسانوں کو اگر مقامی زبانوں میں عام فہم انداز میں معلومات فراہم کی جائیں تو وہ نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں جان پائیں گے۔ ہندوستان میں ”سیوا“ نامی تنظیم سیٹلائٹ اور ٹیلی کمیونیکیشنز کے ذریعے دیہی علاقوں میں کمیونٹی لرننگ سینٹرز بنا کے زرعی مسائل حل کرنے میں کسانوں کی مدد کرتی ہے۔ ہم بھی پاکستان میں یہ طریقہ اپنا سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •