اسد عمر نے عمران خان کو شرمندہ کیا
چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں تبدیلی کرکے حکومتی ایوانوں اور ملکی سیاست میں ایک ہلچل برپا کر دی ہے۔ سب سے زیادہ سوالات اور تشویش وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر کے ہٹانے پر اٹھائے جارہے ہیں، اس لئے کہ وہ ٹیم کے اوپنر تھے۔ کپتان کو ان پر مکمل اعتماد تھا۔ اپوزیشن کے پانچ سالہ دور میں اسد عمر کپتان کے شیڈو وزیرخزانہ تھے۔ اقتدار میں آنے سے قبل اگر کسی کی وزارت پکی تھی تووہ اسد عمر کی وزارت ہی تھی۔
کپتان کو بھی ان پرنازتھا۔ اس لئے کہ اپوزیشن کے دور میں اسد عمر نے ہی کپتان کو یہ پٹی پڑھائی تھی کہ ملک کے معاشی حالات خراب ضرور ہیں لیکن آپ کی سحر انگیز شخصیت ہی ایسی ہے کہ بہتری کے لئے بین الاقوامی اداروں کے پاس جا نا نہیں پڑے گا۔ آپ حکم دیں گے اور عوام ٹیکس سے خزانہ بھر دیں گے۔ اس سے بھی زیادہ مبالغہ آرائی جو اسدعمر اپوزیشن کے دور میں عمران خان کوخوش خبری کی صورت میں سنا چکے تھے کہ دیارغیرمیں موجود پاکستانی آپ پر جان نچھاور کرتے ہیں توڈالر، پونڈ، یورو، ریال اور درہم کیا چیز ہے؟
بس اقتدار سنبھالنے کی دیرہے۔ آپ اپیل کریں گے اور قومی خزانہ لباب بھر جائے گا۔ پھر آپ کی مرضی ہو گی جس کے منہ پر جو مارنا ہو مار دیجئے۔ کپتان کو چونکہ عوام کے ساتھ کبھی براہ راست واسطہ نہیں پڑا تھا۔ ملک اور بیرونی ملک ان کا میل جول چونکہ ہمیشہ خواص ہی سے رہا ہے۔ اس لئے جوش میں آکر بیان داغ دیا کہ اقتدار میں آکر خودکشی کر لونگا لیکن آئی ایم ایف سے قرض نہیں لونگا۔ جب اقتدار میں آگئے تو شیڈو وزیرخزانہ جو اب حقیقی وزیرخزانہ تھے۔
انھوں نے درخواست کی کہ بادشاہ سلامت اب وقت ہے سمندر پار پاکستانیوں سے اپیل کی، انھوں نے بھی نہ آؤ دیکھا اور نہ تا ؤ۔ جاری کردی ڈیم بنانے کے لئے چندہ مہم کی ویڈیو۔ لیکن جس بے دردی سے سمندر پار پاکستانیوں نے اس ویڈیو کو وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے منہ پر دے مارا وہ نہ صرف ایک شرمناک باب ہے بلکہ ایسا پہلی مرتبہ ہی ہوا کہ سمندرپار پاکستانیوں نے بے دردی سے وزیراعظم کی اپیل کو مسترد کر دیا۔
اس اپیل کی شرمناک ناکامی کے بعد وزیرخزانہ اسدعمر نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا کہ اب خود کشی کر ہی لیں۔ مطلب آئی ایم ایف کے پاس خود جائیے۔ ان سے خود ہی خودکشی کی درخواست کیجئے، اس لئے کہ میرا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ اپنے کپتان کے لئے کسی سے مو ت کی درخواست کر لوں۔ اسدعمر کے مشورے پر وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف خودکشی کر لی بلکہ خودکشی کرنے کے لئے موڑ مڑنے کے فضائل بھی بیان کرنا شروع کر دیے۔
وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر نے کشکول دے کر وزیراعظم عمران خان کو دوست ممالک میں بھکاری کی طرح گھمایا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، چین، ملائیشیا اور ترکی سے جھولی پھیلا کر امداد مانگی گئی، پھربھی اسد عمر کا خالی خزانہ بھر نہیں سکا۔ وزیر اعظم عمران خان کو دوست ممالک کے سربراہوں کا ڈرائیور بننا پڑا، لیکن اسد عمر کی خالی جھولی بھر نہیں سکے۔ اقتدار میں آئے ابتدا کے 8 مہینے وزیراعظم عمران خان اسدعمر کے خزانہ کو بھرنے کے لئے جہاں تک ہو سکتا تھا انھوں نے ذلت برداشت کی، لیکن ان کو اب یقین ہو گیا تھا کہ پانچ سال تک کشکول کے ساتھ وزیر اعظم رہنا ہو گا، اس لئے اب ان کے پاس دو ہی راستے تھے کہ اسد عمر کو ہٹانے کا زہر غٹاغٹ پی لیں یا پانچ سال تک کشکول کو بھی اپنے لباس کا حصہ بنا لیں۔
بھیک کو قومی مشغلے کا نام دیں۔ اسدعمر کے جانے کے بعد یہ جو کہا جارہا ہے کہ مافیاز یا سازشیوں نے ان کا تختہ الٹ دیا ہے بالکل لغوبات ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ گز شتہ آٹھ مہینوں میں اسدعمر تمام دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے قرض اکٹھا کرنے کے بعد بھی معاشی استحکام کے لئے سمت متعین کرنے میں ناکام نہیں رہے؟ حالانکہ جتنا بھی قرض دوست ممالک یا بین الاقوامی اداروں سے اب تک ملا ہے اس میں اسدعمر کا کوئی کردار نہیں۔
کیا ان پر لازم نہیں تھا کہ ان آٹھ مہینوں میں معاشی استحکام کے لئے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی ترجیحات کا تعین کرتے؟ اسدعمر کا تمام تر انحصار وزیراعظم عمران خان پر تھا۔ ممکن نہیں تھا کہ وزیراعظم، وزیرخزانہ کے ہوتے ہوئے بھی معاشی معاملات چلاتے۔ اس لئے اسد عمر کو ہٹانے کا سبب خود ان کی نا اہلی تھی نہ کہ کوئی مافیاز یا سازش۔ پیٹرولیم کے وفاقی وزیرغلام سرورخان کو بھی وزارت سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انھوں نے مزاحمت بھی کی، لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ موسم سرما میں تین مہینے گیس صارفین کے ساتھ جو واردات کی گئی کیا وہ صارفین کی جیبوں پرڈاکہ نہیں تھا؟
وزارت میں خسارہ ختم کرنے اور اسے نفع بخش بنانے کا کیا یہی طریقہ ہے کہ آپ صارفین کو رہزنوں کی طرح لوٹنا شروع کردیں؟ اس سرعام ”سرور خانی ڈاکہ“ کے بعد بھی وہ صارفین جنھوں نے رواں برس ڈیمانڈ نو ٹس جمع کیے ہیں ان کو گیس کنکشن دینے پر پابندی عائد ہے۔ اربوں روپے لوٹنے کے بعد بھی اگر کوئی وفاقی وزیر وزارت کو نفع بخش نہیں بنا سکتا تو کیا یہ جائزنہیں کہ ان کو منصب سے ہٹا دیا جائے؟ وفاقی وزیر صحت عامرکیانی نے ایک مشتبہ شخص کو ادارے کا سربراہ بنایا۔
حکومت نے ان کو اجازت دی کہ وہ دوائیوں کی قیمتوں میں دس سے پندرہ فیصد تک اضافہ کریں، لیکن نا اہلی کی انتہا کہ ادویہ ساز کمپنیوں نے سوفیصد سے بھی زیادہ اضافہ کرلیا اور وفاقی وزیر عامرکیانی کچھ بھی نہ کرسکے۔ ایک ایسا شخص کہ جس کو حکومت نرخ بڑھانے کی قانونی اجازت دیں اور وہ اس پرعمل درآمد کرنے میں ناکام ہوتوکیا اس کو وزارت سے بے دخل کرنا برائی ہے؟ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری ناکامی نہیں بلکہ محلاتی سازشوں کا شکار ہوئے۔
نعیم الحق اور سابق چیئرمین پی ٹی وی کو خوش کرنے کے لئے فواد چوہدری کو وزارت سے ہٹایا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں جو ردوبدل کیا ہے ان میں تین وزارتیں بہت اہم تھیں۔ وزارت خزانہ، وزارت پیٹرلیم اور صحت۔ ان تینوں اہم وزارتوں کے وزیروں کوناقص کارکردگی کی بنیاد پر ہٹایا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ میں ردوبدل پر وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے لیکن اس میں کوئی ہرج نہیں کہ اگر کوئی وفاقی وزیر یا وزیراعلیٰ کارکردگی نہیں دکھا سکتا تو ان کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ وزیراعظم عمران خان کو اس بات کو مد نظر رکھنا ہوگا کہ ان کے سیاسی مخالفین شاطربھی ہیں اور تجربہ کار بھی، اس لئے ضروری ہے کہ عہدے دیتے وقت میرٹ کا خیال رکھا جائے تاکہ آئے روز تبدیلی نہ کرنی پڑے، اس لئے کہ روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کو عوام، ریاستی ادارے اور بین الاقوامی برادری بھی پسند نہیں کرتی۔


