تبدیلی کا بھوت اتر گیا، بحران کا سونامی بپھر گیا
جل بھی چکے پروانے، ہو بھی چکی رسوائی
اب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی
خود فریبی تھی، جس کے سر رومان کا نام منڈھا، وہ کیفیت تحلیل ہو رہی ہے۔ تبدیلی کا بھوت جن ذہنوں پر بھی طاری تھا، بعضوں سے اتر چکا۔ بعضوں کا اتر رہا، اور جو زیادہ ہی بیمار ہیں، لازم ہے جلد ان سے بھی اتر جائے گا۔ تبدیلی کے غبارے میں ہوا بھرنے کے لیے کیا کیا پاپڑ نہ بیلے گئے۔ جھرلو پھیر کر جہاں بھر کے لوٹے اور کھوٹے سکے اکٹھے ہوئے۔ زبانیں خشک کر دی گئیں، لبوں پر قفل ڈالے گئے۔ لوگوں کو ڈرایا دھمکایا گیا، نہ ماننے والوں پر مقدمات قائم ہوئے۔
ایک خاص وقت میں بعض عدالتی فیصلے اور نیب کے اقدامات ایسے ہوئے جنہیں واشنگٹن پوسٹ، نیو یارک ٹائمز، بی بی سی اور اکانومسٹ جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیتے رہے۔ کچھ صحافتی میر کارواں بھی عوام کو ابلتے گٹر، ادھڑی سڑکیں دکھا کر بتاتے رہے، یہ ہے تیس سال سے باریاں لینے والوں کو ووٹ دینے کا نتیجہ۔ اسی پر اکتفا نہیں انتخابی عمل کچھوے کی چال چلا، ایک ایک ووٹ کو بھگتانے میں مخصوص جگہوں پر گھنٹوں کا وقت صرف ہوا۔
صرف مخصوص جماعتوں کو یہ شکایت تھی کہ ان کے انتخابی نشان پر ووٹ ڈالنے والے افراد کو یہ کہہ کر روکا جاتا رہا، متعلقہ پولنگ اسٹیشن میں ان کے ووٹ کا اندراج نہیں لہذا انہیں یہاں ووٹ ڈالنے کی سہولت نہیں دی جا سکتی۔ آر ٹی ایس بیٹھ گیا، پولنگ ایجنٹس کو دھکے پڑے۔ فارم 45 کی ادائی جو انتخابی عمل کا لازم مرحلہ، مکمل نہ ہوا۔
تبدیلی کے نام پر کیا کیا خواب دکھائے، ایک کروڑ نوکریاں بانٹیں گے، پچاس لاکھ گھر تعمیر ہوں گے۔ کوئی بے گھر نہیں رہے گا۔ غریب کو دوا مفت فراہم کریں گے۔ تعلیم کا معیار یکساں ہو گا اور امیر و غریب ہر بچے کو برابر مواقع دستیاب ہوں گے۔ ریاست ہو گی ماں جیسی، انصاف سب کو دہلیز پر میسر ہوگا۔ جس کا کوئی پرسان حال نہیں، ریاست اس کا مقدمہ خود لڑے گی۔ پہلے والوں نے قوم کو بھکاری بنا دیا ہم کشکول اٹھائیں گے اور نہ قومی وقار گروی رکھیں گے۔
یہی ملک ہوگا یہی معیشیت، قرض کے بغیر چلے گا بلکہ ترقی کی شاہراہ پر دوڑے گا۔ کرپشن ایک ناسور جو معیشیت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی اصل وجہ، اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ حکومت رہے نہ رہے، لوٹی دو سو ارب ڈالر دولت ضرور واگزار ہو گی۔ پولیس سیاسی مداخلت سے پاک کر دی جائے گی۔ بیوروکریسی کو فری ہینڈ ہوگا، قائد اعظم کے فرمان کے مطابق وہ حکومت کے بجائے ریاست کی وفادار ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ وعدہ تھا یہ سب کام حکومت کے ابتدائی سو دنوں میں بڑی حد تک مکمل ہو جائیں گے۔ کم از کم سو دن حکومت کو اطمینان سے کام کرنے دیا جائے۔ تاریخ شاہد ہے یہ ملک عزیز کی شاید واحد حکومت تھی جس کو اتنی فرینڈلی اپوزیشن ملی، تمام ادارے اس کی پشت پر تھے۔ اور تو اور میڈیا تو بھی تابع فرمان تھا، الا چند ایک کے کہیں سے مخالفانہ آواز سنائی نہیں دی۔
کوئی ایک کام جو پھر بھی مکمل ہوا ہو؟ محض آٹھ ماہ میں ہی تمام فریب ختم، اور تبدیلی کے نام پر دیے گئے دھوکے کی اصلیت سامنے آتی جا رہی۔ اب عمران خان کہتے ہیں، نوجوان نوکری کے بجائے کاروبار کرنے کی کوشش کریں۔ کیا ہی اچھا ہوتا، ساتھ یہ بھی رہنمائی فرما دیتے کون سا کاروبار ہے جس میں منافع نہیں تو کم از کم سرمائے کے تحفظ کی امید ہے؟ معمولی ٹھیلے والے سے لے کر بڑے صنعتکار اور پراپرٹی ڈیلران تک سب پریشان ہیں۔ افراط زر نے عوام کی قوت خرید بالکل ختم کر دی ہے۔ یہاں تک کہ ادویات، سبزیوں، پرچون اور فروٹ جیسے بنیادی انسانی ضرورت کے کاروبار بھی مندی کا شکار ہیں۔ اب کوئی کیا کام کرے۔
مجموعی ناکامی وزرا کی سبکدوشی سے چھپانے کی کوشش ہے۔ جواز یہ ہے کہ ان کی کارکردگی خراب تھی۔ ایک لحاظ سے وزرا کی برطرفی کا اقدام وزیر اعظم کا اپنی ناکامی کا اعتراف ہے۔ بوکھلاہٹ بتا رہی ان کے قدموں سے زمین نکل چکی ہے۔ اب محض برطرف ہوئے وزراء تک بات محدود نہیں رہے گی۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے وزیراعلی سے ایم پی ایز کی ملاقات ہوئی۔ کہا گیا یہ ان کے لیے اعتماد کا ووٹ ہے۔ سیاست اور اقتدار میں قطعیت سے بات کہنا مشکل ہوتا ہے، ممکنات اور حادثات کبھی بھی رونما ہوسکتے ہیں۔
لیکن پھر بھی یہ یقینی بات ہے کہ عثمان بزدار کا جانا ٹھہر چکا۔ یوں بھی اصل امتحان معیشیت کے میداں میں درپیش ہے، اور اس کی حالت اس وقت تک سدھر نہیں سکتی جب تک سب سے بڑے صوبے میں کاروبار حکومت بحال نہیں ہوتا۔ جہاں آٹھ بندے وزیراعلی کا کام کر رہے ہوں، اس کھینچا تانی کے ماحول میں کیا کام ہو سکتا ہے؟ بھانت بھانت کے لوگ جمع ہونے کی وجہ ذاتی مفاد کے سوا کچھ نہ تھا۔ ورنہ گورنر پنجاب چوہدری سرور کو نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے آلو چھولے بیچنے والے بیان اور سرور فاؤنڈیشن کے متعلق وضاحتیں نہ دینی پڑتیں۔ نظر بظاہر یہ آتا ہے کہ بازی ختم ہوتی دیکھ کر ہر کوئی داؤ لگانے کی کوشش میں ہے۔
اس سے زیادہ شرمناک بات کیا ہو گی، حکومت کو کار مملکت چلانے کے لیے منتخب لوگ میسر نہیں۔ آدھی سے زیادہ کابینہ غیر منتخب افراد پر مشتمل ہے۔ ان میں سے بھی بیشتر وہ، جو کبھی مشرف اور کبھی زرداری دور میں برسراقتدار رہ چکے۔ عمران خان پیپلز پارٹی دور کی معاشی پالیسیز پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ سب سے زیادہ واویلا ان کی جانب سے پیپلز پارٹی دور میں لیے بیرونی قرض پر رہا ہے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ نہایت چاؤ اور مان سے مقرر کیے وزیر خزانہ اسد عمر کو فارغ کرنے کے بعد اپنی جماعت سے کوئی دوسرا شخص اس منصب پر تعینات کرنے کے لیے کیوں نہیں ملا۔
کچھ لوگ کہتے ہیں اس تقرری میں عمران خان کی منشا کا بالکل دخل نہیں۔ آنے والے چند دنوں میں آئی ایم ایف سے قرض کی شرائط اور معاہدہ بھی فائنل ہونے والا ہے اور یقیناً اس کی شرائط ملک کے لیے کڑی ہوں گی۔ خزانے کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے حفیظ شیخ کی طویل وابستگی عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے اب حفیظ شیخ ملکی مفاد اور آئی ایم ایف کے دباؤ کے مابین کس طرح توازن رکھتے ہیں۔ اس بارے ایک ٹیکنوکریٹ سے زیادہ توقعات نہیں رکھی جا رہیں۔
بجٹ منظوری کا امتحان بھی سر پر کھڑا ہے۔ اس قلیل مدت میں کوئی بھی شخص معجزہ نہیں دکھا سکتا۔ بجٹ لا محالہ سخت ہو گا اور عوام گرمی اور مہنگائی سے بلبلانا شروع ہو جائیں گے۔ ایسا اگر ہوا پھر حالات برداشت سے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں اور اس نام نہاد نظام کا مزید چلنا نا ممکن ہو جائے گا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے گرد جتنے کیسز قائم ہو چکے، اور جس انداز میں یہ لوگ غدار و ملک دشمن مشہور کیے جا چکے، نئے الیکشن جلد ہونا، ہو بھی گئے تو ان کا حکومت کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ ایسے میں خلا کیسے پر ہوگا، یہ سوچنے کی طرف طبیعت آمادہ نہیں ہو رہی۔


