مابین: ضیا حسین ضیا کا ناول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خاک بہ سر، ایک عجیب شخص کا ماجرا جو بہت ”خاص“ ہونے کے باوجود خود کو ”عام“ کہنے پر مصر تھا۔ جسے کائنات کے ذرّے ذرّے نے اپنے ہر نقش میں یوں ضم کر لیا تھا کہ وہ خود ہی زمان ومکان ہو گیا، لا متناہی اور بے حساب ہو گیا۔ کرۂ ارض پہ تھا تو تصویرِ ازل رہا اور جب بالا نشین ہوا تو تصورِ ابد کا نقشِ اول ٹھہرا۔ عقل ووجدان کی ہم رکابی شیوۂ ذات ہوئی تو کلامِ قدرت سے لے کر ذوقِ تسکینِ قدرت کا رقیب بن بیٹھا۔ خود سے کیا ڈرتا کہ زمین کی مٹی اور خاک سے عشق کرتا کرتا آسماں ہو چکا تھا اور پھر اس کے جذب وکشف نے کیف سرور کے ہر جذبے کی سمفنی سے ساتھ عشق و مستی کی ایسی دھمال ڈالی کہ ارض وسما کے مفہوم ہی بدل ڈالے اور سماں کچھ یوں بدلا کہ اِک نقش ادنی، نقش گرازل کی سلطنتِ ہمہ گیر کے نقوشِ دل پذیر کی ماہیت وہیت پر خندہ زن ہو بیٹھا۔ جسے اِذنِ معرفت بھی ہوا تو یوں کہ گکہ گریہ شبِ تار ہوا اور سوچیں پر توِ ُخر۔

یہ کردار ہے ”نجم آفندی“ جسے ”ضیا حسین ضیا“ نے ”مابین“ میں تخلیق کیا ہے۔ استدلال، قوتِ ارادگی، شوخ ئی ارتقاء، فنِ نطق اور ذوقِ تخلیقیت کی سان پر آئینۂ سما سے کلام کرتا ہوا۔ جا بجا یہ کردار اپنے حُسنِ کلام سے بڑی باکمال ہستیوں اور حتیٰ کہ چاروں اہم فرشتوں کو موہ لیتا ہے۔ اس کے دلائل شاندار ہیں، اس کا بانکپن لاجواب ہے، اس کا انداز نرالا ہے، اسے آدمیت اورارض وتخلیق سے عشق ہے، یہاں تک کہ وہ آغوشِ فردوسی میں بھی کہیں معلق ہے اور خود کو ادھورا پاتا ہے۔ خدائے لم یزل نے اس پر اپنی نعمتوں کے خزانے کھول دیے ہیں مگر وہ بہشت کے باسیوں کے ہمراہ، وعدۂ ازل کے مکمل، لازوال منظر کی تصویر کشی میں غرق ہونے کے بجائے درِ سخن کھلنے کی قیمت جاننے پہ بضد ہوا۔

”مابین“ اپنے طرز کا انوکھا، نرالا، مشکل اور قدرے بے باک ناول ہے۔ نہایت نازک ومہین تانے بانے سے بُنا ہوا۔ ایسا نازک کہ کسی جملے کے کسی لفظ کی معنویت کے ہیر پھیر سے جزا اور سزا کے بنیادی قوانین میں ردوبدل ہو جائے۔ ترتیبِ احترام وسرحد عقائد کے چیستان ناتکمیلیت کی آرزو میں مبتلا ہو جائیں۔ زورِ بیان ایسا کہ زبانوں اور کتابوں کی کوکھ سے نکلے عالم فاضل بے نطق ہو جائیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ لکھنے والا اپنی تحریر میں موجود نہ ہو، اور اگر اس کہانی یا ناول میں مرکزی کردار زیادہ واضح اور مثبت زاویوں سے ترتیب پایا ہوا ہو تو پھر اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ صاحبِ قلم خود کردار کی ہر حرکت، ہر سوچ اور ہر موجج میں شریک ہے۔

”جنت“ جس کے وعدے پر ہی گویا اُمتِ مسلمہ کے کردار کی عمارت کھڑی ہے۔ سارے عمل اور سارے اختیار، جبر اور رواناروا کے سارے فلسفے اور ان کی انتہا جنت ہی قرار دی جا سکتی ہے۔ اس جنت میں داخل ہونے کے لیے ہر وہ بندہ بشر جو دائرۂ اسلام میں داخل ہے، کیا کچھ نہیں کرتا۔ خدا سے بھی مکر روا رکھتا ہے۔ چھپ چھپا کر خلوت وجلوت دونوں کی مستیاں سمیٹتا ہے اور پھر درِ توبہ کا رُخ کرتا ہے۔ مگر مقصد ومطلب ایک ہی ہوتا ہے یعنی حاصلِ جنت۔

مگر ”مابین“ کے نجم آفندی کے مزاج اور طبیعت کو جنت کا سکون، اطمینان، بیش بہا نعمتیں، انعام واکرام کی برساتیں، لطف وانبساط کی ساعتیں اور خوشیوں اور مسرتوں کی انتہائیں بھی، راغب نہ کر سکیں۔ ہر ذائقہ، ہر لطف، ہر کرم، ہر لحظہ کی برستی عنایت میں بھی، اس کے اندر تڑپتی مچلتی، آرزوئے حیات نو اسے ہر دم بے قرار رکھتی ہے۔ ارض اور ارض کے مسائل سے عشق اسے نہ پورا سونے دیتا نہ جاگنے کہ اسے نعمت امروز سے زیادہ کشاکش وعدۂ فرد اسے رشتہ استوار کرنا مرغوب تھا۔

اسے تکمیل آرزو گوارا ہی نہ تھی۔ اسے حیرت سے خاطرِ تعلق بنائے رکھنا تھا کہ اسے اپنی جبلت، شوق وجنوں، تعمیروتخلیق کے رنگ رنگ فسانے کھو جانے کا ڈر عالمِ انبساط میں بھی لگا ہو اتھا۔ اسے مسافری عزیز تھی اور داغِ تکمیلیت سے گریز تھا۔ بس ایسا ہی مرتکبِ کفرانِ نعمت۔ وہ عالی دماغ کہ جسے فردوسِ بریں کا حسن اورتصوّرِ کامل سے ماورا کیف بھی اسیر نہ کر سکا۔ بلکہ زمینی زیست کی گرم بازاری، شعر وسخن کی خسروی، لسانی لطافت، نطق وبیان کی شوخی اور اپنی سروقامتی کے کھو جانے کا خوف اسے آزردہ وبے سکون رکھے ہوئے تھا۔

اسے بہشت میں وجدان سے عاری حیثیت سے زیادہ زمینی اجتہاد کی بساط پر فتح وشکست کی بازی کھیلنا عزیز تھا۔ اسے دماغ ودل کی گلیوں میں بپاحشر کا خاتمہ منظور ہی نہ تھابلکہ جستجو اور انسانی حیات کے ذوق نشاط کی تربیت کی ادھوری تربیت گاہوں کی ویرانی مارے ڈال رہی تھی۔ جنت کی حشر سامانیاں اظہر من الشمس مگر تخیل کو معروف حقیقتوں یا صداقتوں کے مقابل لاتے لاتے وہ صاحبِ طرز وصاحبِ لولاک کہیں مابین ہی ترازو تھا۔

اور کچھ ماجرا یوں ہے، جو ہے بھی تو کیا کہیں کہ کیسا مختصر۔ کیا آسان، کیا عام۔ کہ ”نجم آفندی“ جب فنونِ لطیفہ کی چوکھٹ پرکھڑا خود سے ہم کلامی میں مصروف تھا تو عین اس لمحے جب فن کی مملکت اس کی میراث ہونے والی تھی، ایک حادثے نے اس کی جان لے لی۔ مگر یہ حادثہ ایسا عام یوں نہیں رہتا کہ یہ اس حشرسامانی کی بنیاد ہے جو بنی آدم کو فردوسِ بریں کے سفرِ مسلسل کے لیے سے رخصت کرتا ہے۔ اس سفر کے لیے جو لوحِ ازل میں محفوظ اور مقسوم ہے۔

نجم آفندی جو زمین پرکشاکشِ حیات کی سرمستیاں وشوخیاں دیکھتے ہوئے، اجتہادی علمبردار بن کر جی رہا تھا، اس ایکا ایکی یلغار کے لیے تیار نہیں تھا۔ چونکہ فردوسِ بریں کا خواب ابنِ آدم کا ازلی وابدی خواب ہے۔ سو وہ بھی انعام اکرام کی بارش میں ایک خوش بخت بشر کی طرح بھیگا ضرور، مگر اس زمینی صد رنگی کھیل کا اس طرح خاتمہ نجم آفندی کا منظورنہ تھا۔ اس کی فطرت کے تقاضے، ادھورے اور تشنہ تھے اسے اپنے پروں کے کٹنے کا غم، نیا آسمان ملنے سے کچھ اور سوا ہو گیا۔

عالمِ بالا کا حسن اوک اوک پی لینے کے باوجود اس کی پیاس بڑھتی رہی۔ غمزدگی اس کا شیوۂ زندگی بن گئی۔ جنت میں انسان کی فطری تہذیب کھو جانے کا غم، جبلت کی موت اوررُوحانی ارتقاء سے دستبرداری نے اس سے اس کا سکون چھن لیا تھا۔ وہ خود کو عقلی ووجدانی خلافت کی سلطنت سے معزول، درماندہ مسافر سمجھ بیٹھا۔ جنت کا قیام اس کے لیے رُوحانی سطح پر ثروت مندی کا سسبب تو تھا مگر ذوقی سطح پر بے بال وپر ہونے کا صدمہ اس کے اضطراب کو لمحہ لمحہ ہوا دے رہا تھا۔

فردوسِ بریں پر اقبال جیسی باکمال ہستی نے نجم آفندی کا یوں خراجِ تحسین پیش کیا:

”آپ اپنے بیان میں ہمیشہ امکانات الفاظ کی کوکھ کا منہ کھول کر رکھتے ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ معنی اس میں داخل ہو کر پل سکیں۔ “

نجم کو اعتراف تھا کہ ”خدا وند کبریا نے لوگوں کے صالح اعمال اور عقائد کے صلے میں نعمتوں کی لامحدود سلطنت عطاکر کے اپنے وعدۂ کریم کو حق کیا کہ بے شک وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ مگر اک آنچ تھی جو جھلسائے دیتی تھی۔ درونِ ذات اِک گھمسان تھا اوربرونِ ذات دوچند ہوتی حیرت کی ورق ورق اُلٹتے باب۔

معاملہ آن پڑا۔ انسان ارتقاء کی اس منزل پہ آکھڑا تھا جہاں اس کی فطرت، جو مشکل پسندی سے عبارت تھی، سہل پسندی کی موت مرنے سے خوفزدہ تھی۔ اسی لیے فطرت کے جذبوں کی شوریدہ سری اسے لہر لہر پکارہی تھی اورجذبوں کی آنچ اس کے ارادوں کو تپا کر مشقتوں، ریاضتوں، قلب و ذہن کی ذوق پرستی اوردریافت کی مسلسل آرزو کی نگہداشت کی آبیاری پر مجبور کر رہی تھی۔ فردوسی جلوؤں میں ذوق وفنون کی کمی اسے کھائے جا رہی تھی۔ شعروسخن کے دربند، فنِ زندگی بے روح وبے نوا، سعی وجدوجہد بے برگ و بے ثمر، اور بالآخر ایسی بے نطق و بے صدا زندگی نے اسے جرأتِ اظہار پر مجبورکر دیا۔

یہ بر سرِ پیکار ہستی (نجم آفندی) جب بیانِ حال پرآمادہ ہوئی تو۔ گناہ وثواب کے عہد نامے اپنے ستر کھولے اس کے سامنے خود انصافی کے طلبگار کھڑے ہوگئے۔ تب وہ ارض اکابرینِفردوس کے روشن میناروں سے درخواست کرتا ہے کہ خدا کے دربار میں اس کی دہائی پہنچائیں کہ جب تک اس کی تشنگی بار آور ہونے کے سامان میسرِ جنت نہیں، اسے حشر، پل صراط، عرصۂ محشر استراحت، قبر واپس چاہیے کہ ان پانچ ہزار سالوں میں بجز نعمتِ ہائے خودونوش اور تسکینِ نفی کے کچھ اور حاصل نہیں ہوا۔

نفی اور اثبات کے مابین کھڑے نجم آفندی کوآرزوئے جدوجہد اور عرشِ بریں پراحساسِ ناتکمیلیت کے اظہار اور اپنے ذوقِ تخلیق کی جو پہلی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ وہ ہے بشر کے بہشتی ارتقاء کے لیے رسوائی کے درگھولنا۔ وجدان سے عاری نسل کے ہاتھوں پہلا پتھر کھانے والے نجم آفندی کو اس کی فرزانگی علمِ بغاوت بلند کرنے پر مجبور کردیتی ہے اور وہ خدائے لم یزل کے وعدے کی تکمیل سے بھی آگے ایک وعدۂ دراز کی قسم کے لیے کمربستہ ہو جاتا ہے۔

اب سفرشروع ہوتا ہے انعام یافتہ سے لے کر امتحان یافتہ ہونے کا۔

نعمت مترقبہ کی بھیک سے، دنیاوی کاروبار ہستی کے ہنر مند کا ورق ہنر کوکشادکرنے کا، خوب و اکمل میں نقص تلاش کرنے کا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •