معصوم بچے، غریب والدین اور طبی شعبے میں کرپشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راولپنڈی صدر میں شاہین کیمسٹ پہ کھڑی اپنی الرجی کی دوائیاں لے رہی تھی اور اپنی کولیگز کے ساتھ مصروف گفتگو بھی تھی، ا س حادثے کے بارے میں جو کراچی دارالصحت اسپتال میں نشوا علی کے ساتھ پیش آیا اور آج وہ ہمیں چھوڑ گئی۔ میری سہیلی نے اگلا ہی سوال کر ڈالا کہ جب میرا علاج فری ہے تو میں یہ دوائیاں خرید کیوں رہی ہوں۔ میں نے کہا کہ پیسے سے کہیں ز یادہ مجھے اپنی توانائی اور عزت نفس پیاری ہے۔ اس لیے مزید تفصیلی جواب نہیں دے پاؤں گی کہ میاں کو بھی اپنی نوکری اور عزت نفس بہت پیاری ہے۔

ہم وہاں سے روانہ ہوئے کہ ایک کولیگ کو اسپتال چھوڑنا تھا۔ راستے میں جو کہانی اس نے سنائی، مجھے غم و غصے کے باعث جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ میں نے پچھلے آرٹیکل میں بھی یہی کہا تھا کہ شعبہء میڈیسن کا احتساب آخر کب ہو گا۔ جس میں ایک سوئپر سے لے کر ہیڈ آف ڈ یپارٹمنٹ تک سب کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جنا ب میں 6 ماہ سے صرف اس ڈر سے کیلشیم کا ٹیسٹ نہیں کروا رہی کہ پاکستان میں جان بوجھ کر کیلشیم کم کر کے دکھایا جاتا ہے تا کہ اس کی ادویات کو فروغ دیا جا سکے۔ میں نے یہ معلومات متعلقہ بندوں سے حاصل کی ہیں۔ کوئی بھی بات غیر مصدقہ نہیں۔

کچھ دن پہلے میری سہیلی ایک سیمی گورنمنٹ اسپتال میں ایمرجنسی میں گئی۔ اسی کی زبانی لکھتی ہوں۔ “میری بھانجی کا بلڈ پریشر بہت بڑھ گیا تھا اس لیے گائنی آئی سی یو میں داخل کر لیا گیا۔ دو دن میں آپریشن کر لیا گیا۔ کافی معلومات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہاں کی نرسری دیگر اسپتالوں کی نسبت بہتر ہے اور یہاں وینٹیلیٹر کی سہولت بھی موجود ہے تو یہیں پہ ٹھہر گئے۔ ہمیں بتایا گیا کہ آٹھویں ماہ کا تیسرا ہفتہ چونکہ ختم ہونے کو تھا تو فی الحال بچے کو ابھی یہیں رکھا جائے گا۔ ہمارے معاشرے میں لڑکے کی اہمیت بھی کسی لفظ کی محتاج نہیں۔ ان نو دنوں میں ہم نے بہت کچھ د یکھا۔ نچلے اسٹاف سے دیکھنا شروع کریں تو وہاں سب سے زیادہ زور صفائی پہ دیا جاتا ہے۔ روز صبح چیکنگ کی جاتی ہے مگر پھر بھی باتھ روم کی صورتحال ریلوے پلیٹ فارم سے بھی بدتر تھی”۔

بچپن سے سکھایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ عزت نرسنگ اسٹاف کی کرنی چاہیے۔ مگر بچپن سے آج تک مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ان اسٹاف کو ٹریننگ میں کیا سکھایا جاتا ہے۔ کیا زبان میں زہر کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں کہ زہر اگلتی رہتی ہیں یا کوئی اور معاملہ ہے۔ بھئی آپ اپنی مرضی سے اس پیشے میں آئی ہیں نا، تو پھر اتنا غصہ اور اتنی چڑ چڑاہٹ کس بات کی ہے۔ بہت کم مگر ہاں کچھ ایسی بھی ملیں جنہیں میں نے ماں کا درجہ دے ڈالا۔

خیر اس نے بتایا کہ بچہ نرسری میں ہے، مطلب انکیوبیٹر میں ہے تو اسے انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ جراثیم سے پاک ماحول۔ اب اندر بغیر ماسک کے جوتے لیے ہر مکتبہء فکر کے اشخاص کو چھینکتے ہوئے، کھانستے ہوئے آنے کی اجازت ہے۔ ہر دو گھنٹے میں attendant کی ڈیوٹی کہ وہ دودھ بنا کے ڈائپر کے ساتھ جھولے پہ رکھ جائے۔ ایک دفعہ میں نے اسٹاف سے شکایت کی کہ یہ دودھ صبح کا پڑا ہے آپ نے پلایا نہیں تو کہتی ہیں کہ ذرا بتانے کی بھی توفیق کر لیا کریں۔

میں نے مزید بتایا کہ کافی بچوں نے الٹیاں کی ہوئی ہیں یہ دیکھ لیں، بہت گندگی ہے اور کہیں سانس ہی میں نہ چلی جائے تو کہتی ہیں کہ آپ کر لیں صاف۔ ہمیں ہمارا کام سکھانے کی ضرورت نہیں۔ ساتھ ہی باہر سے شور آتا ہے میں باہر جا کے دیکھتی ہوں تو ایک اسٹاف ایک آدمی کو بری طرح ذلیل کر رہی ہے۔ ہوا یہ کہ وہ دوائی کی پرچی لے گیا اور کسی اور فارمیسی سے دوائی لے آیا۔ اسٹاف نے کہا کہ جب ہم نے بتایا تھا کہ جس فارمیسی کا نام لیا ہے وہیں سے لایا کرو تو کیوں نہ سنی گئی۔

خیر ہم مڈل کلاس لوگ ہیں۔ اب تک ہمارا کافی پیسہ لگ چکا ہے کہ ایک عام آدمی جب ایک ڈیلیوری کے لیے پیسے جوڑتا ہے تو 50 سے 75 ہزار روپے الگ کر کے رکھ دیتا ہے۔ مگر اس ماہ تو لوگوں کی تنخواہیں 15 تاریخ کو ختم ہو گئیں، یہ رقم تو پھر اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔

روز دو دفعہ ہمیں پرچی دی جاتی جس پہ دو کالم ہوتے۔ ایک میں انجکشن کوئی 15 ہزار مالیت کے اور دوسرے میں کاٹن سواب اور دیگر اشیاء جیسے سرنج۔ میری بھابھی نے رونا شروع کر دیا کہ اتنی زیادہ کاٹن کی پٹیاں کیوں؟ کہیں بچہ فوت تو نہیں ہو گیا۔ معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ یہ بچے کا منہ صاف کرنے کے لیے منگوائی گئی تھیں۔ دو دن تو ہم خاموشی سے سارا سامان لا کر دیتے ر ہے مگر ایک دن کے پچیس سے تیس ہزار روپے میں کسی کی بھی سکت جواب دے سکتی ہے۔

ایک شام میں نیچے بیٹھی تھی کہ ایک اسٹاف میرے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ ڈیوٹی پہ نہیں جا رہیں تو کہتی ہے کہ کل چھٹی کی تھی۔ میڈم کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کر کے کہتی ہے کہ پانچ منٹ پہلے جاؤں گی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے اس کے سامنے پرچی رکھ دی کہ آپ کچھ کر سکتی ہیں اس کا۔ اس نے کہا کہ ایسا کریں کہ بائیں ہاتھ کی طرف والا سامان نہ لانا اور انجکشن لے آنا۔ وہ پوچھیں تو کہنا رکھ دیا ہے سامان۔

( پہلے دن تو میں نے ایسا کیا اور دوسرے دن دائیں ہاتھ والا سامان بھی نہ لائی) ۔ تھوڑی دیر میں اس کی ڈیوٹی شروع ہوئی اور اس نے اپنی سہیلی سے کہا کہ ان کا ذرا آسرا کر لے میری رشتے دار ہیں۔ اور اس نے پرچی پھاڑ کے پھینک دی او ر کہا کہ بس تھوڑا خیال ہمارا بھی کر لینا۔ مجھے اس وقت تو سمجھ میں نہ آئی۔ انہوں نے ایک چھوٹا شاپر پٹیوں کا بھی دیا کہ یہ دے دینا اور کہنا سب رکھ دیا۔ میں نے اس کے پیچھے جھانک کے دیکھا تو اس کے پاس سارا سامان نا صرف موجود تھا بلکہ بھرا ہو ا تھا۔

اسی طرح سے جب بھی دوائیاں منگواتے، کہتے کاؤنٹر پہ رکھ دو، کبھی چیک نہ کیا کہ کس مریض کی ہیں۔ اٹھاتے اور ڈھیر میں ڈال دیتے۔ میں نے اس دن انجکشن نا رکھے تو کسی نے پوچھا تک نہیں۔ میں دوائیا ں اپنے ماموں کی فارمیسی سے خریدنا چاہتی تھی کہ مجھے کچھ سامان فری پڑتا اور کچھ سستا مگر مجھے اس کی اجازت نہیں تھی۔ میں نے تین دن میں تقریباً 75 ہزار روپے بچا لیے اور اس کے برعکس وہ مجھ سے ہزار پانچ سو لیتی رہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اوپر سے نیچے تک سب کے مخصوص شیئر تھے ہر چیز میں۔

جب بچے کا حال پوچھتے بتایا جاتا ٹھیک ہے۔ کل اچانک بتایا کہ بچہ خطرے میں ہے اور وینٹیلیٹر پہ ہے۔ اس کے بچنے کے چانسز بس 5 فیصد رہ گئے ہیں۔ وجہ دریافت کی تو بتایا کہ ماں کے پیٹ سے ہی اننفیکشن لے کر آیا تھا۔ تو ہم اس کی ذمہ داری تو نہیں لے سکتے۔ بچے کے ڈاکٹر کا نام کافی اونچا تھا مگر نو دنوں میں ایک بار بھی ان کا دیدار نصیب نہ ہو سکا۔ پتہ نہیں کس دروازے سے کس وقت آتے جو نہ دکھ سکے۔ ’آئی ایم سوری‘ تو خود بول دیتے۔ کچھ قسمت ایسی خراب کہ گاڑی اندر لانے کا کرایہ بھی ایک ہفتے میں دگنا کر دیا گیا۔ میں نے شکایت کے لیے کافی در کھٹکھٹائے مگر سب نے نظریں جھکا لیں۔

میرے بس میں صرف قلم اٹھانا تھا سو اٹھا لیا۔ نظریں بھی تو مہذب قومیں ہی جھکاتی ہیں اور ہم میں تو اپنے مہذب ہونے کا کافی گھمنڈ ہے۔ ایک ذرا سی بھی کوئی تنقید کرے تو ہم اس کا منہ نوچنے پہ اتر آتے ہیں۔ کل نشوا علی چلی گئی اور یہ لکھتے ہوئے خبر ملی کہ آج وہ بچہ بھی ہم مہذب لوگوں کی دنیا کو چھوڑ گیا۔ اور وجہ اس کے پھیپھڑے فیل ہونا بتائی گئی۔ کسی کو کیا فرق پڑے گا۔ ہم نے تو تبدیلی کے نام کا ہار پہن لیا ہے۔ اب کوئی کچھ کہہ کر تو دکھائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •