نوشی باجی کے آنسو کون پونچھے گا؟


”اچھا تو ہیں وہ صاحب بہادر۔ “ ایک سہیلی نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا۔

”اچھا بتاؤ تم اپنی نوشی باجی سے کتنا پیار کرتے ہو؟ “ دوسری نے پوچھا۔

”بہت پیار کرتا ہوں، بہت زیادہ۔ “ میں نے جلدی سے کہا۔

”تو کیا کر سکتے ہو ان کے لئے؟ بھاگ سکتے ہو؟ “ پہلی سہیلی نے شرارت سے کہا۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آیا میں پریشانی سے انہیں دیکھنے لگا۔ ”اے چپ۔ “ نوشی باجی نے فوراً اپنی سہیلی سے کہا۔ وہ ہنسنے لگی۔ میں نے عافیت اسی میں سمجھی کہ وہاں سے بھاگ آؤں۔

شام کو مہندی کا فنکشن ہوا۔ گانے گائے گئے۔ مہندی لگی۔ میوزک بجا۔ لڑکوں اور لڑکیوں نے ڈانس کیا۔ بڑا مزا آیا۔ جب شور شرابا ختم ہوا تو سب سونے کے لئے لیٹ گئے۔ اس دن بھی مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کل بارات آئے گی اور پھر نوشی باجی کہیں دور چلی جائیں گی۔ ہم جب گرمیوں میں یہاں آئیں گے تو وہ یہاں نہیں ہوں گی۔ میرا دل بھر آیا۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے سوچا ابھی نوشی باجی کے پاس جاتا ہوں۔

اٹھ کر صحن میں آیا کہ ان کے کمرے میں جاؤں اچانک مجھے چولہے والی جگہ پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ صحن میں اندھیرا تھا۔ چولہے میں بہت سے انگارے پڑے تھے انہی کی مدھم روشنی میں میں نے کسی کو بیٹھے دیکھا۔ میرا دل دھڑکنے لگا۔ وہ نوشی باجی ہی تھیں۔ وہ لکڑی کی چوکی پر چولہے کے پاس بیٹھی تھیں۔ کچھ انگارے نکال کر انہوں نے پاؤں کے قریب کر رکھے تھے۔ ان کے سر پر ایک بھاری سی چادر تھی۔ مجھے دیکھ کر بول اٹھیں۔

”تمہیں بھی نیند نہیں آ رہی۔ چلو ادھر بیٹھ جاؤ۔ “ میں بھی ایک چوکی پر بیٹھ گیا۔

”آپ کل چلی جائیں گی ناں۔ “ میں نے کہا۔

”ہاں جانا ہی ہوگا۔ “ انہوں نے دھیرے سے کہا۔

”آپ مجھے بہت یاد آئیں گی۔ “ میں نے یہ بات کہی تو میرے گلے میں ایک گولا سا پھنس گیا۔ ”ہمیشہ کے لئے تھوڑی جا رہی ہوں۔ کبھی کبھی آیا کروں گی۔ “ انہوں نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ میں چپ ہو گیا۔ مجھے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ نوشی باجی نے چادر سر پر اس طرح لی تھی کہ ان کا آدھا چہرہ چھپا ہوا تھا پھر چھن کی آواز آئی۔ انگارے پر پانی کی ایک بوند گری۔ کیا بارش شروع ہو گئی ہے۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ آسمان پر ستارے چمک رہے تھے۔ تو پھر یہ کیا تھا۔ تب اچانک سمجھ گیا۔

”آپ رو رہی ہیں؟ “

”نہیں میں رو تو نہیں رہی۔ “ چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد کمزور سی آواز آئی۔ چھن چھن کر کے انگاروں پر کئی آنسو گرے پھر نوشی باجی نے چادر سے ہاتھ باہر نکالا۔ ان کے ہاتھ میں کوئی تصویر تھی۔ شاید انہی کی تصویر ہو گی جن سے نوشی باجی کی شادی ہو رہی ہے۔ میں نے سوچا۔ انگاروں کی مدھم روشنی میں انہوں نے ایک نظر دیکھا پھر چولہے میں پڑے بہت سے انگاروں پر تصویر کو رکھ دیا۔ میری نگاہ پڑی تو میں چونک پڑا تصویر کے کناروں نے آگ پکڑ لی تھی اور اس روشنی میں تصویر میں موجود شخص کو دیکھا جا سکتا تھا مگر یہ تو کوئی اور نوجوان تھا۔ بڑی بڑی آنکھوں والا ایک خوبرو نوجوان۔ یہ وہ بھاری بھرم شخص ہرگز نہیں تھا۔

میں نے فوراً نوشی باجی کی طرف دیکھا۔ تصویر آگ میں جل رہی تھی اور اس کی روشنی میں نوشی باجی کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ ان کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور گالیں آنسوؤں سے تر تھیں۔ آنسو پانی کے قطروں کی طرح لڑھک رہے تھے لیکن انہیں جیسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔ ان کے منہ سے کوئی آہ بھی نہیں نکل رہی تھی۔ بس ان کا جسم لرز رہا تھا۔ میں کانپ کر رہ گیا۔

”نوشی باجی کس کی تصویر تھی؟ “ میرے منہ سے ہلکی سی آواز نکلی۔

”چھوڑو کیا کرو گے جان کر۔ اب تو سب کچھ ختم ہو گیا۔ تصویر بھی جل کر راکھ ہو گئی۔ “ انہوں نے دھیرے سے کہا۔

”آپ روئیں تو ناں۔ “ میں نے اپنے ہاتھوں سے ان کے آنسو پونچھنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے روک دیا۔ ”رہنے دو وصی! ان آنسوؤں کو بہنے دو۔ اب تو مجھے عمر بھر رونا ہے۔ تم آج تو یہ آنسو پونچھ دو گے کل کیا ہو گا۔ “

”آُپ یہ شادی نہیں کرنا چاہتی ناں۔ آپ نے اپنی امی سے بات کیوں نہیں کی۔ وہ ان تصویر والے بھائی جان سے آپ کی شادی کروا دیتیں۔ “

میری بات سن کر وہ روتے ہوئے بھی مسکرا اٹھیں۔ ”میں اپنی قسمت سے نہیں لڑ سکتی۔ تم اپنے دماغ پر زیادہ بوجھ نہ ڈالو اور جاؤ جا کر سو جاؤ۔ “

”اور آپ؟ “

”میری فکر مت کرو۔ میں بھی آ رہی ہوں اور سنو اس بات کا ذکر کسی سے نہ کرنا یہ میرا اور تمہارا راز ہے سمجھے۔ “ انہوں نے اس بار رازداری سے کہا۔

”میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ “ میں نے فوراً وعدہ کیا۔ انہوں نے فوراً مجھے کھینچ کر گلے سے لگا لیا اور پھر میرے ماتھے پر پیار کیا۔ ”اب جاؤ“

میں اپنی چارپائی پر آ گیا۔ اس رات میں دیر تک نہ سو سکا۔ سب سمجھ میں آ رہا تھا جتنا سمجھتا تھا اتنا ہی دل دکھتا تھا۔ نوشی باجی کی ایک ایک بات میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ خاص طور پر یہ جملہ کہ اب تو مجھے عمر بھر رونا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کون ان کے آنسو پونچھے گا۔ کاش وہ ہمیشہ خوش رہتیں۔ سوچتے سوچتے میرا دل سلگنے لگا اورمیری آنکھیں بھر آئیں پھر دو آنسو میری آنکھوں سے ٹپکے اور تکیے میں جذب ہو گئے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3