نر کا بچہ وزیراعظم اور بینظیر کا صاحبہ بیٹا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”عورت“

جو پہلے پاکستانی سماج میں گالی کے طور پر استعمال ہوتی تھی اب ریاستِ پاکستان کی سرکاری طور پر منظور شدہ گالی ہے۔
کسی مرد کو گالی دینی ہو، نیچا دکھانا ہو تو اسے عورت کہہ دو۔ عورت جیسا کہہ دو۔
اسے کچھ بھی ایسا کہہ دو جس کی تشبیہہ عورت ہو۔
مردانگی کیا ہے، اس کا بھی سرکاری طور پر پچھلے دنوں اعلان کیا گیا۔

جب قومی اسمبلی میں اسد عمر جیسے نازک اندام مرد نے بڑی نزاکت و نفاست کے ساتھ فضا میں اپنی مخروطی انگلیاں بلند کرکے کسی میمبر کی جیت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ”نر کا بچہ ہے یہ۔ نر کا بچہ“ (کیونکہ اس نر کے بچے نے مادہ کے بچے کو الیکشن میں ہرا دیا تھا)۔
جواب میں نر کے بچے کے لیے خوب حکومتی ڈیسک بجے۔

یہ ہے وہ ذہنیت جس کے ردعمل میں عورت مارچ میں اٹھے ہوئے سلوگنز بنتے ہیں اور جو فیمینزم کا رُخ احتجاج کی شدت کی طرف موڑتی ہے، جس پر نر کے بچے بلبلا اٹھتے ہیں۔
اس ذہنیت کا مظاہرہ سماج تو کرتا ہی رہا ہے مگر جب یہ ذہنیت حکومتی آواز بن جائے تو ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے، عورت کی حیثیت سے نہیں، ایک انسان کی حیثیت سے۔

ملک کا نازک نفیس، چمکتی اور گلابی اسکن والا وزیراعظم بھی جب کمر کو بل دے کر کسی بھی مقابل مرد کو عورت سے تشبیہہ دیتے ہوئے اپنی مردانگی کا مظاہرہ کرے اور مجموعے سے اس پر تالیاں بھی بجوائے اور اس لفظ کا چٹخارہ بھی لے تو افسوس ہی نہیں مایوسی بھی گھیر لیتی ہے۔

وزیراعظم کا کیا خیال ہے کہ مردانگی کس بلا کا نام ہے؟
اسد عمر کا کیا خیال ہے کہ نر کیا ہوتا ہے؟
نر اور مادہ کے الفاظ جانور کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
مرغے سے لے کر کتے گھوڑے اور گدھے وغیرہ وغیرہ تک۔

ایک خاص عضو کی وجہ سے نر جانور جانوروں کی نسل کی افزائش کی بنیادی ضرورت ہوتا ہے۔
اشرف المخلوقات میں نر نہیں آدم ہوتا ہے۔ آدم جسے فرشتوں نے سجدہ کیا ہے۔
اس کی مونث الگ سے تخلیق نہیں کی گئی۔
آدم کے تخلیق کیے گئے مجموعی وجود کا ہی ایک حصہ ہے حوّا۔
اس لیے جب اشرف المخلوقات کہا گیا ہے تو اس میں عورت بھی شامل ہے۔

اور جب آدم کو سجدہ ہوا ہے تو اس میں اس کا مجموعی وجود حوّا سمیت شامل ہے۔
سجدہ نر کو نہیں ہوا۔
آدم کو ہوا ہے۔
انسان کو ہوا ہے۔
اشرف المخلوقات کو ہوا ہے۔

اگر مردانگی سے مراد محض شہوت کا عضو رکھنا ہے تو پھر ایسی بات کہنے والا مرد یقیناً آدم نہیں محض نر ہے۔
اگر اس بات پر زعم ہے کہ وہ نر ہے اور عورت کا جسم مادہ کے طور پر استعمال کرنے کا جنسی و جسمانی سسٹم رکھتا ہے تو عورت کا راستہ یہاں سے مخالف سمت کو مڑ جاتا ہے۔
عورت اسی عمل کے نتیجے میں ماں بنتی ہے۔

ماں کیا مقام رکھتی ہے اور ماں کس درد سے گزر کر ابنِ آدم کی پرورش کرتی ہے یہ سب کو معلوم ہی ہے۔
مگر جو معلوم ہونا چاہیے وہ یہ کہ اب میڈیکل سائنس دنیا بھر میں نر کے سپرم کو الگ سے لے کر فریز کرتی ہے اور ماں بننے کی خواہش رکھنے والی آدم کی مونث کو تخلیقی عمل کے لیے دیتی ہے۔

اس پروسیس میں نر کا بچہ بعض ملکوں میں جانتا بھی نہیں کہ اس نے اپنا ”نر پن“ کہاں چھوڑا!
وہ بالکل ہی مائنس ہوجاتا ہے۔
جیسے تھا ہی نہیں!
جبکہ ماں موجود ہوتی ہے۔

اس پر ایک مسلمان کو حیران ہونے کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ قرآن عیسیٰ و مریم کی صورت میں پہلے ہی بتا چکا ہے کہ تخلیقی عمل کا معاملہ کچھ اور ہے!
رب العالمین عیسیٰ علیہ کو ابنِ مریم کہہ چکا اور اپنی نشانیوں کو سوچنے والوں پر عیاں کرچکا، ورنہ کیا رب کے ہاں عیسیٰ علیہ کے لیے ایک باپ نہ تھا!
ابنِ مریم ہونا، ماں کا بیٹا ہونا بہت ہی اعلیٰ بات ہے۔ اسے صرف وہ محسوس کرسکتا ہے، جس کے اندر اشرف المخلوقات کا شرف موجود ہو۔
مگر مسلمان پاکستان کا مسلمان سماج نر اور نر کے بچوں میں پھنس چکا ہے۔

اور اب پاکستان میں لوگوں کی زبانیں بند کرنے کے لیے نر اور نر کے بچوں کا ایک انبوہ تخلیق کیا جاچکا ہے جو سوشل میڈیا پر اپنا عضوئے خاص ہاتھ میں پکڑے ماں بہن کی گالیاں دیتا نظر آتا پے۔
یہ عضوئے خاص بے نام سیاسی ورکروں کو بطور ہتھیار تھما دیا گیا ہے۔

ادھر کوئی بولے، فوراً کہو کہ تیری بہن اور تیری ماں میں یہ گھُسیڑ دوں گا۔
کوئی صحافی عورت اپنی رائے کا اظہار کرے تو براہِ راست اسے اپنا یہ کراہیت آمیز ہتھیار گھُسیڑنے کی گالی دو۔

حیرت اور عجب!
محض اس عضوئے خاص پر ہے یہ تکبر اور زعم!
محض یہ ہے مردانگی!

یہ بالکل اس منظر کی طرح ہے جو ہمیں کبھی کبھی راہ چلتے دکھتا ہے کہ شہوت کی بھوک سے وحشی ہوتا گلیوں کا نر کتا مادہ کتیا کو بھنبھوڑ رہا ہوتا ہے اور دونوں وحشت سے بھونک رہے ہوتے ہیں اور لوگ نظر انداز کرکے گزر جاتے ہیں۔

جبکہ آدم اشرف اس لیے ہے کہ وہ بطور نر یا مادہ دنیا میں اپنا کردار نہیں رکھتا، بلکہ
آدم کے اندر عورت اور مرد کی تفریق کے بغیر جو کمال رکھا ہے وہ ہے اس کی دانش۔

اس کا شعور۔
اس کے ہاتھ میں اپنے نفس، عمل اور ردعمل کی لگام۔

سماج کا ارتقاء۔
سچ اور جھوٹ کی پہچان۔
ظالم اور مظلوم کی سمجھ۔
نسلوں کی ذہنی تربیت۔
حقوق العباد کا تحفظ۔

اپنے مونث حصے کی شناخت کا شعور آدم کے اشرف المخلوقات ہونے کا بنیادی ٹیسٹ ہے۔
اس کا مونث حصّہ،
عورت!
جس کی گود میں آدم تقدس و احترام کا سبق سیکھتا ہے۔
افسوس پاکستان میں سماجی اور سرکاری سطح پر تقدس کا جنازہ نکل رہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 88 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah