نوشی باجی کے آنسو کون پونچھے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوشی باجی نے اتنے زور سے گلے لگایا کہ میرا دم گھٹنے لگا۔ میں نے کسمسا کر ان کی گرفت سے آزاد ہونے کی سعی کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ ”اتنے بیزار ہو مجھ سے کہ جان چھڑا کر بھاگنا چاہتے ہو؟ “ انہوں نے شکایتی انداز میں کہا۔ مجھے ایسا لگا جیسے ان کے بازوؤں سے نکلنے کی کوشش بد تمیزی ہو۔ ”نہیں مجھے امی نے بلایا تھا میں ادھر جانا چاہتا تھا۔ “ میں نے جلدی سے بہانہ کیا۔ ”چلو جاؤ“ انہوں نے ایک دم گرفت ڈھیلی کر دی۔ ”سب مجھ سے تنگ ہیں، اسی لئے مجھے گھر سے نکالنا چاہتے ہیں۔ “

پتا نہیں ان کے لہجے میں کیا بات تھی کہ میرے دل میں پھانس سی چبھ گئی۔ وہ تو اتنی پیاری تھیں۔ ان کے سیاہ گھنے اور لمبے بالوں میں کتنی چمک تھی اور رنگ اتنا گورا تھا کہ گاؤں کی ہر لڑکی ان کے سامنے سانولی لگتی تھی۔ مجھے تو ان کے سفید موتیوں جیسے دانت بہت اچھے لگتے تھے۔ میں کبھی جب امی اور ابو کے ساتھ ڈینٹسٹ کے پاس جاتا تھا تو ان کے کمرے میں بالکل اسی طرح کے مصنوعی دانت پڑے ہوئے دیکھتا تھا۔ مجھے ہمیشہ یہی لگتا تھا کہ نوشی باجی نے اپنے دانت نکال کر وہاں رکھ دیے ہوں۔ وہ جب ہنستی تھیں تو ان کے دانت بہت پیارے لگتے تھے۔

وہ میری حقیقی بہن نہیں تھیں۔ میری خالہ کی بیٹی تھیں۔ ہم ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں ان کے ہاں جا کر دو تین ہفتے گزارتے تھے۔ ان سے چھوٹی دو بہنیں تھیں اور ایک چھوٹا بھائی۔ بھائی میرا ہم عمر تھا یعنی تقریباً گیارہ بارہ برس کا۔ مجھے ایسا لگتا تھا جیسے وہ اس سے زیادہ مجھ سے پیار کرتی تھیں۔ جب بھی مجھے اپنے پاس بلاتی تھیں تو ان سے بھینی بھینی سی خوشبو آتی تھی جو مجھے بہت اچھی لگتی تھی۔ میرے خالو زمیندار تھے۔ ہمارے لئے سب سے بڑی کشش ان کے ڈیرے پر جانے کی ہوتی تھی۔ وہاں ہم ٹیوب ویل پر نہاتے تھے، شہتوت اور امرود کے درختوں سے پھل توڑ کر کھاتے تھے۔

خالہ ان دنوں میں امی کے ساتھ بیٹھ کر گاؤں بھر کی عورتوں کے قصے سنایا کرتی تھیں۔ اس بار خلافِ معمول ہم گرمیوں کی بجائے سردیوں کی چھٹیوں میں آئے تھے۔ آنے سے پہلے جب یہ بات ہوئی تو میں نے امی سے پوچھا کہ ہم کیوں جا رہے ہیں تو وہ ہنس پڑیں۔ ”تمہاری نوشی باجی کی شادی ہو رہی ہے۔ “

”واہ پھر تو بڑا مزا آئے گا۔ “ میں بہت خوش ہوا تھا۔ اور پھر ہم گاؤں میں آ گئے۔ خالو کے گھر میں بڑی رونق تھی بڑی اور چھوٹی خالہ بھی اپنے اپنے خاندان کے ساتھ آ چکی تھیں۔ دونوں ماموں بھی آئے ہوئے تھے۔ کوئی کمرہ خالی نہیں تھا۔ سب میں چار چار پانچ پانچ چارپائیاں لگی تھیں۔ پہلے دن کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ کہاں سونا ہے۔ نوشی باجی سب کے بستروں پر نئی چادریں بچھا رہی تھیں، نئے کمبل اور نئی رضائیاں نکال رہی تھیں۔ میں ان کے اسسٹنٹ کے طور پر ساتھ تھا۔

”نوشی باجی میں کہاں سوؤں گا؟ “ میں نے پوچھا۔ ”اوہ ہاں! یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔ “ انہوں نے چادر بچھاتے ہوئے پریشانی سے کہا۔ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ وہ مجھے تنگ کرنے کے لئے جھوٹ موٹ پریشان ہیں اور اندر سے ہنس رہی ہوں گی۔

”دراصل ہمارے گھر میں اتنی چارپائیاں نہیں ہیں۔ تمہیں کسی نہ کسی کے ساتھ سونا پڑے گا۔ چلو خیر تم میرے ساتھ سو جانا۔ “ انہوں نے دریا دلی سے کہا۔ ”نہیں میرے لئے الگ بندوبست کریں یا میں اپنی امی کے ساتھ سوؤں گا۔ “ میں نے فوراً انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

”میرے ساتھ کیوں نہیں، میں تمہیں کھا تو نہیں جاؤں گی“ نوشی باجی نے ناراضی سے کہا۔ ”نہیں یہ بات نہیں، مجھے شرم آتی ہے۔ “ میں نے نظریں جھکائے ہوئے آہستہ سے کہا۔

”اچھا اب مجھ سے شرم آنے لگی ہے۔ کیا بڑے ہو گئے ہو؟ مونچھ تو آئی نہیں اب تک تمہاری۔ “ نوشی باجی ہنسنے لگیں۔ ”میں تو نہیں لیکن آپ تو بڑی ہو گئی ہیں۔ “ میں یہ کہہ کر بھاگنے والا تھا مگر انہوں نے لپک کر پکڑ لیا۔ ”بھاگنے نہیں دوں گی تمہیں تو میں اپنے ساتھ ہی سلاؤں گی۔ “

”چھوڑیں ناں“ میں نے لجاجت سے کہا۔ پھر جب رات کو مجھے اپنی امی کے ساتھ والی چارپائی ملی تو میں سمجھا کہ نوشی باجی مجھے تنگ کرنے کے ایسی باتیں کرتی ہیں۔ ان کے بڑے سے صحن کے ایک کونے میں مٹی کا چولہا تھا اس کے ارد گرد تین تین فٹ اونچی دیوار تھی اس طرح آٹھ دس فٹ کی جگہ بطور کچن استعمال ہوتی تھی۔ اس چولہے میں لکڑیاں جلائی جاتی تھیں۔ دھواں بھی پھیلتا تھا۔ رات کو شاید کسی نے چائے کی فرمائش کر دی۔ نوشی باجی کے ساتھ دو تین لڑکیاں چائے بنانے لگیں۔ میں بھی وہیں بیٹھ گیا کیوں کہ سردی کافی زیادہ تھی لیکن چولہے میں آگ تھی اس لئے وہاں بیٹھنا اچھا لگ رہا تھا۔

”نوشی باجی اتنی بڑی دیگ چڑھا دی ہے کیا پورے گاؤں کے لئے چائے بنا رہی ہیں؟ “ میں نے پوچھا۔ وہ ہنس پڑیں۔ ”اچھا بڑی باتیں آ گئی ہیں۔ اتنے سارے مہمان ہیں ابھی تو چند ایک نے فرمائش کی ہے لیکن جب چائے کا دور چلے گا تو سب کہیں گے ایک کپ مجھے بھی دینا۔ میں ان کو جانتی ہوں اس لئے سب کے لئے چائے بنا رہی ہوں۔ “

”آپ کی تو شادی ہو رہی ہے، آپ جا رہی ہیں۔ پھر ان کے لئے چائے کون بنائے گا؟ “

”فضول باتیں مت کرو، یہ بھی تو اپنے اپنے گھر چلے جائیں گے۔ “ نوشی باجی نے مجھے گھورا اور پھر بات بدل دی۔

رات کے دس بجے تھے اور ان لوگوں کو چائے کی پڑی تھی۔ خیر شادی والے گھروں میں کون جلدی سوتا ہے۔ مختلف علاقوں سے آنے والے رشتہ دار اکٹھے ہوتے ہیں تو خوب گپیں لگتی ہیں۔ ایسے میں بچے اپنے کھیل کھیلتے ہیں۔ سارے بچے صحن میں آ گئے اور ٹھنڈے موسم کھیل کھیلنے لگے۔ دو قطاریں بن گئیں۔ ہم آئے ہیں، ہم آئے ہیں، تم کس کو لینے آئے ہو، ہم نوشی باجی کو لینے آئے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •