عظیم شاعرہ مایا اینجلو کا بچپن، جنسی تشدد اور ٹراما سے رہائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کی مشہور شاعرہ، ادیبہ اور انسانی حقوق کی علمبردار ڈاکٹر مایا اینجلو کا کہنا ہے۔
” ایک ان کہی داستان کو اپنے اندر رکھنے سے بڑا کوئی دکھ نہیں۔ “

مجھے اس جملے کی سچائی اور طاقت کا اندازہ ان کی شہرہ آفاق کتاب ( میں جانتی ہوں پنجرے میں قید چڑیا کیوں گاتی ہے۔ I Know Why the Caged Bird Sings) پڑھ کر ہوا۔ کئی سال قبل پڑھی اس کتاب کا اثر مجھ پر وقت کے ساتھ گہرا ہی ہوتا گیا۔ اس کی وجہ آگہی اور تجربہ کا وہ سفر ہے جو میں نے امریکہ میں رہتے ہوئے طے کیا۔ مایا اینجلو نے کل سات سوانح عمریاں لکھی ہیں۔ یہ اس سلسلے کی پہلی کتاب ہے۔ جو کہ ان کی تین سے سترہ سال کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔

یہ کتاب 1969 میں شائع ہوئی جب مایا اینجلو کی عمر 41 سال کی تھی۔ اس کی اشاعت نے امریکی سماج میں ایک تہلکہ مچا دیا تھا۔ گو کچھ بک اسٹالز نے اس کتاب کو ان کی جراتمندانہ سچائی کے اظہار کے باعث رکھنے سے انکار کر دیا، مگر اس کے باوجود بھی یہ کتاب اُس وقت لاکھوں کی تعداد میں بکی اور آج بھی اسی طرح مقبول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت اکثریتی سفید نژاد حاکمیت کے حامل معاشرہ میں پہلی بار ایک ایفرو امریکی نسل کی عورت نے نہ صرف نسل اور صنفی تفریق کی بنیاد پہ رکھے معاشرے کو کھل کر بیان کیا بلکہ ایک ایسے واقعہ کو بھی لکھا جس کا اظہار سماج میں معیوب سمجھا جاتا تھا۔ یعنی جنسی تشدد کا واقعہ۔ جس سے مایا اینجلو ساڑھے سات برس کی عمر میں اپنی ماں کے بوائے فرینڈ مسٹر فری مین کے ہاتھوں گزریں۔ اس واقعہ کا اثر اتنا بھرپور اور منفی تھا کہ اس کے بعد پانچ برس سے زیادہ عرصہ تک مایا اینجلو نے گفتگو نہ کی۔

آج می ٹو اور ٹائمز اپ جیسی تحریکوں کا زمانہ ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں ٹویٹر، فیس بک، واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعہ خبریں ایک جگہ سے دوسری جگہ سیکنڈوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ جتنا بھی رد کیا جائے لیکن کمزور کی آواز کہیں نہ کہیں سنی جا رہی ہے۔ لیکن اگر ہم مایا اینجلو کی زندگی اُس وقت کے امریکی سماج کے تناظر میں دیکھیں تو اُن کے اظہار کی جراتمندی کی داد دینی پڑے گی کہ کس طرح سادہ اور سلیس اندازبیان سے انہوں نے دل کے کمرہ میں مقفل صدمہ کو کتاب کے صفحات پہ منتقل کیا۔

جس نے لاکھوں کمزور لوگوں بالخصوص عورتوں کو سر اٹھا کر جینے اور اظہار کی جرات کا سبق دیا ہے۔ مایا اینجلو نے اس کتاب کی اشاعت کے بعد سے کئی بار اس جنسی تشدد کے سبب ٹراما کے نفسیاتی دوررس اثرات کا ذکر کیا ہے۔ گو کہ یہ واحد ٹراما نہیں تھا۔ جس سے وہ گزریں۔ ان کی زندگی بہت ہی چھوٹی سی عمر سے ٹراما کا شکار رہی ہے۔ مگر ان صدمات نے انہیں عظیم ہستی بننے سے نہیں روکا۔ انہوں نے کئی زبانیں سیکھیں۔ امن اور صنفی اور نسلی تفریق کے خلاف کام کیا۔

پچاس اعزازی ڈگریاں اور بے شمار ایوارڈز حاصل کئیے۔ بطور شاعرہ اور ادیبہ ہی نہیں بلکہ رقاصہ، اداکارہ، ہدایت کارہ، گلوکارہ، صحافی اور سماجی کارکن کے طور پر۔ گویا انہوں نے ایک زندگی میں کئی زندگیاں بسر کیں۔ تو آئیے ذرا ایک نظر مایا اینجلو کی زندگی میں جھانکتے ہیں جو جنسی تشدد ہی نہیں بلکہ نسلی معاشی اور سماجی تفریق اور ذاتی حالات کے سبب ٹراما سے بھرپور ہے۔

مایا اینجلو کی پیدائش 4 اپریل 1928 کوسینٹ لوئیس (میسوری) میں ہوئی۔ اس کے والدین بیلی جونسن اورویویک ڈکسڑ نے اس کا نام مارگریٹ اینی جانسن رکھا تھا جو ایک سال بڑے بھائی بیلی جونئیر نے پیار سے کچھ اس طرح بگاڑا کہ وہ مایا بن گئی۔ ابھی مایا تین اور بیلی چار برس کے تھے کہ ان کے والدین نے طلاق لینے کا فیصلہ کر لیا اور یوں دونوں بہن بھائی کو ان کی دادی اینی ہینڈرسن کے گھر یک طرفہ ٹکٹ خرید کے بھیج دیا۔ یہ مایا اور بیلی کی زندگی کا پہلا ٹراما تھا۔

اکیلے تنِ تنہا طویل سفر، والدین کے بغیر۔ ماں باپ کا ننھی سی اولاد کو تیاگ دینا اور دادی کے پاس اسٹیمپس (آرکنساس) جو کہ امریکہ کے جنوب میں واقع ہے بھیج دینا تکلیف دہ تجربہ تھا۔ اپنی دادی کے پاس پہنچ کر مایا کو یقین ہو چلا تھا کہ ان کے والدین زندہ نہیں۔ جب تک کہ کرسمس والے دن ان کی طرف سے بھیجے ہوئے تحائف نہ ملے۔ والدین کا زندہ اور خوشحال ہونا مایا کے لئے احساسِ جرم کا سبب تھا کہ ”آخرانہوں نے کیوں چھوڑ دیا۔“ ہم نے کیا غلط کیا تھا کہ تین اور چار برس کی عمر میں ہمارے بازؤوں پہ ٹیگ لگا کر اکیلے لونگ بیچ (Long Beach) کیلی فورنیا سے آرکنساس تک ٹرین میں بھیج دیا؟ ”گہرا غم، غصہ اور اداسی اور پھر جنوب میں سفید سماج کے ہتک آمیز رویوں میں میں پلنے والی لڑکی اظہار سے عاری اور خاموش طبع ہو گئی۔ احساسِ کمتری نے اس کا رویہ بدل دیا تھا۔ وہ اپنے آپ کو بد صورت سمجھتی تھی اور اکثر تصور کرتی تھی کہ ایک دن صبح کو وہ اٹھے گی تو کالی بدصورتی سفید حقیقت میں بدل جائے گی۔

اس طرح اس کا مسئلہ شناخت کا بھی تھا۔ اس کی نظر میں خوبصورتی کا معیار اجلی سفید رنگت، سیدھے بال اور نیلی آنکھیں تھیں۔ مایا کی دادی بہت نرم خو اور انتہائی محنتی اور محبتی خاتون تھیں۔ جنہوں نے مایا کو بغیر کسی سے شکوہ شکایت کے خود داری اور محنت سے جینے کا سبق دیا۔ مایا انہیں“ ماما ”کہتی تھیں۔ اور وہ علاقے کا واحد بلیک جنرل اسٹور چلاتی تھیں۔ ننھی مایا ایک ایسے سماج میں جس کی بنیاد جسم کی رنگت کی تفریق پہ تھی۔ اپنی دادی کی محبت کے مکمل حصار میں تھی۔

امریکہ میں انیس سو تیس اور چالیس کی دھائی میں نسلی تفریق کے قوانین نافذ تھے۔ جن کی بنیاد پہ امریکہ کے جنوبی سماج میں یورپین نژاد سفید فام افراد کو برتر اور کالوں کو کمتر گردانتے ہوئے علیحدہ کرنے کا طریقہ پارکوں، ریسٹورانوں، ہسپتال اور اسکولوں تک میں رائج تھا۔ حتی کہ ایک نلکہ سے پانی پینا بھی منع تھا۔ کالے افراد بیماری اور غربت کا شکار تھے اور ان سے جانوروں سے بدتر رویہ روا تھا۔ کئی سیاہ فام عورتیں سفید فام مردوں کے ہاتھوں جنسی تشدد کا شکار ہوئیں۔ ظاہر ہے کہ اس انسانیت سوز رویے کا اثر ملازمتوں، رہائش، تعلیم، قرضوں کے حصول اور حکومت میں شمولیت پہ پڑا اور اس طرح اس زیادتی کے خلاف ایفرو امریکیوں میں شہری حقوق کی بحالی کی مہم کا آغاز ہو چکا تھا۔ جس میں اہم کردار ادب نے ادا کیا اور نسلی تفریق کو اپنی شاعری کے ذریعہ چیلنج کیا۔

مایا اپنی زندگی کے سب سے بڑے اور اہم ٹراما سے ساڑھے سات سال کی عمر میں گزریں۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب وہ اپنے بھائی بیلی جونئیر کے ساتھ اپنی ماں کے گھر سینٹ لوئیس، مسوری رہنے گئیں۔ ددھیال کے مقابلے میں مایا کی والدہ کا گھرانہ خوشحال اور پڑھا لکھا تھا۔ یہاں مایا کی ماں کے بوائے فرینڈ مسٹر فری مین نے موقع سے فائدہ اٹھا کر مایا کو پہلے جنسی بدفعلی اور پھر باقاعدہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ ساڑھے سات سالہ مایا کو یہ فعل کنفیوز اور حیران کر گیا کیونکہ وہ اس جسمانی قربت میں اپنے باپ کو تلاش کر رہی تھی۔ جب کہ وہ کہہ رہا تھا کہ

”اگر تم نے کبھی بھی کسی کو بتایا تو میں بیلی کو مار ڈالوں گا۔ “

بیلی جونئیر مایا کا عزیز ترین بھائی ہی نہیں سب سے عزیز ترین دوست بھی تھا۔ وہ اس کو ہر بات بتاتی تھی لیکن اس کی جان کے خوف سے یہ راز نہ بتا سکی۔ حتی کہ وہ تکلیف اور بیماری کی وجہ سے ہسپتال داخل ہو گئی۔ یہ بات تو ماں اور بیلی کو پتہ چل گئی کہ کیا ہوا ہے؟ مگر کس نے کیا؟ اس راز کو مایا نے فاش نہیں کیا۔ لیکن جب بیلی نے یقین دلایا کہ ”وہ مجھے نہیں مار سکتا۔ میں اسے ایسا نہیں کرنے دوں گا“ تو مایا نے نام بتا دیا۔ اس طرح فری مین فوری طور پر پکڑا گیا مگر بدقسمتی سے ضمانت پہ ایک ہی دن میں رہا بھی ہو گیا۔ یہ بات اور ہے کہ رہائی کے بعد اگلے ہی دن مایا اینجلو کی والدہ کے مشتعل بھائیوں نے اسے مار مار کے قتل کر دیا۔

جنسی تشدد کے ٹراما سے گزرنے کے بعد قتل کی خبر کا اثر مایا پہ بہت بُرا ہوا۔ اس نے سوچا کہ میرے کہے ہوئے لفظوں میں اتنی طاقت ہے کہ کوئی مر سکتا ہے۔ ”اس آدمی کے قتل کی وجہ میں ہوں۔ کیونکہ میں نے اس کا نام بتایا تھا۔ “ یہ واقعہ مایا کی زندگی کا بہت بڑا سانحہ ثابت ہوا اور وہ اس کے نتیجہ میں شدید ذہنی خلفشار سے گزریں اور پانچ سال سے بھی زیادہ مدت تک کسی سے گفتگو نہیں کی ماسوا اپنے بھائی بیلی کے ساتھ۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •