صدارتی نظام قائم کرنے کی کوشش کی تو ملک ٹوٹ جائے گا: بلاول بھٹو
پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم سلیکٹیڈ ہے۔ وزیراعظم کی زبان بہت تیزی سے پھسلتی ہے، انھیں زبان پر قابو رکھنا چاہئے۔ صدارتی نظام نافذ کرنے ککی کوشش کی تو ملک ٹوٹ جائےگا۔
قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی عوام مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہی ہے۔ مہنگائی اتنی بڑھ رہی ہے کہ تمام ادارے متاثر ہوئے ہیں اور ملک کی معاشی صورتحال سب کے سامنے ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیرخزانہ کا بیان تھا کہ معاشی پالیسیوں کی وجہ سےعوام کی چیخیں نکلیں گی، اس مہنگائی سے ہر پاکستانی کو تکلیف پہنچ رہی ہے جبکہ حکومت قرض مانگنے پر خوشیاں مناتی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور غربت دو الگ الگ مسئلے ہیں۔ موجودہ حکومت عوام پر بہت ظلم کررہی ہے، سبسڈیوں کو ختم کرکے امیروں کو ریلیف دیا جارہا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مظلوم اور غریب کا خیال رکھیں۔ غریبوں کے بجائے امیروں کو ریلیف دینے کا نظام نہیں چل سکتا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر بجٹ میں عوام کے لیے ریلف نہیں ہوگا تو حکومت کے لیے مشکل ہوگی، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو اگر ایوان اور پارلیمان میں نہیں لایا گیا تو یہ غیر قانونی ہوگا۔
چئیرمین پیپلز پارٹی نے دو ٹوک کہا کہ ملک میں ون یونٹ کو قبول نہیں کریں گے، صدارتی نظام قائم کرنے کی کوشش کی تو ملک ٹوٹ جائے گا۔
وزیراعظم کی جانب سے متازع تبصرے پر انھوں نے کہا ایسے بیان دینے سے بیان دینے والے کا قد چھوٹا ہوتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ عورت ہونا گالی ہے تاہم تحریک پاکستان میں عورت اور مرد شانہ بشانہ کھڑے تھے، پاکستان کی عورتیں بہادرہیں۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کو چاہئے کہ اپنی زبان کو قابو رکھیں۔


