ہزارہ شیعوں کی خونریزی کب تک؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عصرِ حاضر میں دہشت گردی انسانیت کے لیے سب سے بڑی لعنت ثابت ہوئی ہے جس نے دنیا کی تمام اقوام چاہے وہ ترقی یافتہ و مہذب ہیں یا غیر مہذب سب کو حالتِ خوف میں مبتلا کر رکھا ہے پوری انسانیت اس پر تین حرف بھیج رہی ہے اور اس عفریت کے خاتمے پر یکسو ہے اس وسیع تر انسانی اتفاق رائے کے باوجود بعض اقوام بالخصوص ہمارے مسلمانوں میں ہنوز ایسی غیر انسانی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں جو کھلے بندوں نہیں تو حیلوں بہانوں سے تو جیہات پیش کرتے ہوئے اس ناسور کی حمایت کرتی پائی جاتی ہیں

ہماری صفوں میں ایسی آوازوں کی کمی نہیں ہے جو ہر ایمان والے کو یہ حق دیتی ہیں کہ وہ کہیں بھی اپنے تئیں کسی نوع کی برائی ہوتے دیکھے تو قوتِ بازو یعنی اپنی طاقت سے اس کو ختم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ قانون کو ہاتھ میں لے کر بلا سفیمی کے کسی ملزم کو چاہے وہ سو فیصد بے گناہ ہی کیوں نہ ہو، قتل کر دیتے ہیں تو ہمارا مسلم سماج عمومی طور پر یا انتہا پسندوں کے خوف سے اس صریح ظلم کے خلاف کھل کر نہیں بولتا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ طبقات کہیں زیادہ طاقتور ہیں جو ایسے خونی قاتل کو ہیرو بنا کر پیش کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں اور اپنی اس مکروہ سوچ یا وحشیانہ حرکت پر کوئی شرمندگی یا شرمساری بھی محسوس نہیں کرتے

درویش چاہتا ہے کہ اس حقیقت کو تاریخی مثالوں اور ثبوتوں کے ساتھ پیش کرے مگر دوسری جانب ہمارے سماج میں آج بھی شدت پسندی کی سوچ اس قدر طاقتور ہے کہ ہمارا میڈیا پوری سچائی پیش کرنے یا دکھانے کا یارا یا حوصلہ نہیں رکھتا۔ زیادہ سے زیادہ اتنی گنجائش ہے کہ بہاولپور میں بے گناہ قتل ہونے والے پروفیسر صاحب کا تذکرہ کر لیا جائے یا یہ کہہ دیا جائے کہ گورنر سلمان تاثیر کا قتل دہشت گردی کی ایک بہیمانہ واردات تھی انہوں نے جس بے قصور آسیہ بی بی کو بچانا چاہا تھا اُسے ہماری سپریم جوڈیشری نے بھی بے گناہ قرار دیتے ہوئے اس کے لیے رہائی کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ تو پھر جس ظالم نے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کیا ان کے بچوں کو یتیم کیا کیوں نہ اس گھناؤنی انسانیت سوز حرکت کرنے والے کی اجتماعی مذمت کی جائے تاکہ آئندہ ہماری نسلوں میں ایسے جنونی پیدا نہ ہو سکیں۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر کہیے کیا اس سے آگے مزید چند کلمات ادا کیے جا سکتے ہیں۔ کیا ہمارے اندر سے ہی ایسی آوازیں اٹھنے نہیں لگیں گی کہ اُس قاتل کو قاتل مت کہو وہ تو غازی بھی ہے اور شہید بھی۔

یہی سوچ جب مزید آگے بڑھتی ہے تو وہ شدید ترین فرقہ پرستی کے زیرِ اثر دوسرے مذہبی فرقے والوں کو کافر اور پھر اگلے مرحلے میں واجب القتل قرار دینے تک پہنچ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ محض کافر کہنے پر اکتفا کیوں نہیں کر لیا جاتا؟ باقی کام آپ اپنے پروردگارِ عالم پر چھوڑدیں جس نے آپ کی سوچوں سے بھی بڑی آگ سے بھری جہنم تیار کر رکھی ہے وہ ایک نہ ایک دن جو اُس نے خود ہی مقرر بھی کر رکھا ہے ضرور ان کافروں کو جہنم میں ڈالتے ہوئے عذابِ عظیم دے گا حضور!

آپ بے وجہ اپنا منہ کالا کیوں کرتے ہیں خدائی اختیارات اپنے ہاتھوں میں کیوں لینا چاہتے ہیں؟ درویش نے برسوں اس نازک اور حساس ایشو پر غور کیا ہے ہماری مسلمان قوم میں اس حوالے سے اس قدر جوش و خروش آخر کیوں ہے؟ آخر ہمارے یہ بھائی دوسروں کو کافر و فاسق یا گمراہ کہنے تک محدود کیوں نہیں رہتے ہیں اس سے کہیں آگے بڑھ کر دوسروں کی زندگیاں چھین لینے کی رذیل خواہش تک کیوں پہنچنا چاہتے ہیں؟ کسی کو اس نفسیاتی بیماری کی وجوہ سے آگہی ملے تو اس کی اطلاع ضرور کرے۔ ہمارے قلب و نظر میں یہ تمامتر تلخ نوائی ہزارہ شیعہ برادری کے خلاف کوئٹہ کے خود کش حملے میں بیس بے گناہ انسانوں کی اموات نے پیدا کی ہے جو اپنی رزق روٹی کمانے کے لیے ہزار گنجی کی سبزی منڈی پہنچے تھے اور خود کش حملہ آوار نے رش میں گھس کر ان کے پرخچے اڑا دیے۔

اخباری رپورٹس کے مطابق طالبان کے ذمہ داران نے اس فاتحانہ کاوش کی ذمہ داری قبول بھی کر لی ہے مگر نہیں صاحب ہمارے اپنے اہل ایمان کے درمیان ایسے احباب موجود ہیں جو دلی و دماغی طور پر طالبان کی محبت سے سرشار ہیں وہ فوراً بولیں گے کہ طالبان تو بہت ہی نیک لوگ ہوتے ہیں، وہ تو کافروں کو مارتے ہیں، وہ بھلا ہزارہ شیعوں کا قتلِ عام کیوں کریں گے

ٹھیک ہے جناب آپ ٹھیک کہتے ہیں آپ کو غلط کہہ کر کیا کسی نے مرنا ہے ہمارے پاس تو اتنے وسائل نہیں ہیں جو اپنی جنم بھومی کو چھوڑ کر کہیں کسی بہتر پر امن ملک میں جا سکیں لہٰذا ہم سب کو یہی کہنا چاہیے کہ یہ سب ہمارے دشمنوں کی کارروائی ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی نہ کر سکے۔ ہمارا ازلی دشمن ہندو بڑا عیار ہے یہ سب را کی کارستانی ہے وہ دراصل ہم سے جہادِ کشمیر کا بدلہ لے رہے ہیں اور اپنے لوگوں کو بھیجتے ہیں تاکہ خود کش حملوں کے ذریعے ہمارے درمیان تفرقے کو ہوا دیں نفرت بھڑکا ئیں وغیرہ وغیرہ۔

یہ یہود ہنود اور صلیبیوں کی مشترکہ سوچ اور کارروائی کا نتیجہ ہے تمام عالمِ کفر ہمارے خلاف ایک ہو چکا ہے صرف نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اس شیطانی اتحاد کے خلاف بغاوت کی ہے اسی لیے تو ہم نے اُسے دعوتِ حق پہنچا دی ہے کہ بی بی اگر دوزخ کی آگ سے واقعی بچنا چاہتی ہو تو پھر ہمارے دین رحمت کے دامن میں پناہ لے لو ورنہ جتنی اچھائیاں اور نیکیاں مرضی کرتی رہو انجام کار بنو گی دوزخ کا ایندھن ہی۔ خطبہ ہذا ہنوز جاری ہوتا ہے تو ساتھ ہی ایک دوسرا بیانیہ شروع ہو جاتا ہے کہ ہندو بزدل ہیں تما م کافر اقوام مسلمانوں کی ایمانی طاقت سے خوف زدہ اور سہمی ہوئی ہیں اس لیے کہ جان پر کھیل جانے والے صرف ہم لوگ ہیں مسلمان کبھی موت سے نہیں ڈرتا جبکہ کافروں کے لیے عاقبت اور جنت کی عیش و عشرت نہیں ہے ان کے لیے تو یہی دنیا کی چند روزہ لذتیں ہیں اس لیے یہ لوگ اندر سے ڈرپوک ہوتے ہیں حق کے لیے شہادت صرف ہم مسلمان دے سکتے ہیں جو جان ہتھیلی پر رکھ کر بڑے بڑے لشکروں سے ٹکرا جاتے ہیں فدائی حملوں کے ذریعے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ اب ان میں سے کون سا بیانیہ درست ہے؟ اپنی اپنی جگہ پر دونوں ہی درست ہیں جس کی جہاں ضرورت پڑی وہاں سے اٹھا کر اُسے استعمال کر لیا۔

نیوزی لینڈ کی جس بی بی کے ہم دن رات گیت گا رہے ہیں کہ اس نے اپنی ایک فیصد اقلیت کو تحفظ دینے کے لیے کیا کیا اقدامات نہیں اٹھائے۔ وہ اگر بے دین ہے یا ہم جنس پرستوں کی حمایت میں بھی اتنی ہی سرگرم ہے یا اس نے بغیر شادی کیے بچی پیدا کر لی ہے تو یہ بہت برُی باتیں ہیں۔ اسی لیے تو ہم اُسے دولتِ دین سے سرفراز دیکھنا چاہتے ہیں بھلے مانسو وہ جو بھی ہے وہ اپنے سینے میں انسانیت کا درد رکھتی ہے اس سے بڑی کوئی دانش کوئی دولت نہیں ہے آپ اپنے لوگوں کو اس جیسا بنا لو، اکیسویں صدی کا یہی بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔

اپنے وزیراعظم سے اتنا ہی پوچھ لو کہ کوئٹہ میں بے گناہ شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے لوگ مرے ہیں آپ نے ان شیعوں کی ہمدردی میں کیا کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟ آپ کو تو تعزیت یا اظہارِ ہمدردی کے لیے ان کے پاس بروقت جانے کی بھی توفیق تک نہیں ہوئی۔ آخر کیوں؟ کیا شیعہ انسان نہیں ہیں؟ کیا ان کا خون خون نہیں ہے؟ انہیں اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ آکر کیوں دھرنے دینے پڑتے ہیں؟ دھرنے میں شریک ایک ایڈووکیٹ خاتون نے درست کہا ہے کہ ”کوئٹہ میں اتنے دنبے ذبح نہیں ہوئے جتنے ہزارہ شیعہ قتل ہوئے ہیں“

اتنے دنوں بعد اگر ہمارے صدر صاحب گئے ہی ہیں تو عجیب و غریب تعصب اور خلجان کا مظاہرہ فرما رہے ہیں بیٹھتے ہی فرماتے ہیں ”ہم سب مسلمان ہیں اور ہمیں مل کر ایک دوسرے کا تحفظ کرنا چاہیے“ کوئی پوچھے اگر مسلمان نہ ہوں تو کیا پھر ایک دوسرے کا تحفظ کرنا نہیں بنتا ہے؟ کیا غیر مسلم پاکستانی برابر کے شہری نہیں ہیں؟ صدرِ مملکت کو آئین کا کوئی خیال ہے؟ کیا انسانی رشتے سے بڑھ کر بھی کوئی رشتہ ہوتا ہے۔ آپ کے دہن مبارک سے انسانیت کی بات آخر کیوں نہیں نکلتی؟

کیا غیر مسلم کا قتل قتل نہیں ہوتا؟ جس ظالم نے خود کش حملہ کرتے ہوئے ان مظلومین کے پرخچے اڑائے ہیں کیا وہ انہیں مسلمان خیال کرتا تھا۔ کیا آپ لوگ اس گہری خلیج سے بے خبر ہیں جو اندر ہی اندر مذہبی قوم کی سوچوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کیا محض کاغذوں کی زینت بنا کر ڈرامے بازی کے لیے ہے؟ آپ سے بہتر تو شہید بے نظیر بھٹو کا بیٹا بولا ہے جس نے مظلومین سے اظہارِ ہمدردی کے لیے موقع پر پہنچ کر کہا ہے کہ حکومت فیصلہ کرے کہ وہ قاتلوں کے ساتھ ہے یا مقتولین کے ساتھ؟ آخر یہ دوغلی پالیسی کب تک چلتی رہے گی؟ آپ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیوں نہیں کرنا چاہ رہے؟ ملک دشمن سیاستدان ہیں یا وہ کالعدم تنظیمیں جو ہمارے بچوں کو مار رہی ہیں؟ بلاول بھٹو کی طرف سے اٹھائے گئے ان سوالات کا جواب آج پوری قوم جاننا چاہتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •