پاکستانی منڈیوں پر چین کی اجارہ داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ولادیمیر لینن 1917 میں جاری شدہ مقالہ ”سامراجیت، سرمایہ داری کی معراج“ میں لکھتے ہیں، ”آزاد مقابلہ (منڈی) سرمایہ داری نظام کی خصوصیت ہے لیکن ہم نے اس مقابلہ کو اجارہ داری میں بدلتے دیکھا ہے۔ جب بڑی صنعتیں قائم ہو جاتی ہیں تووہ چھوٹی صنعتوں کو نکال باہر کرتی ہیں۔ اس طرح سرمایہ اور پیداوار چند درجن ہاتھوں میں منتقل ہوکر اجارہ داری قائم کردیتے ہیں“۔

یہ وہ دور تھا جب پہلی جنگ عظیم جاری تھی جس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک جرمنی کی بڑھتی ہوئی سرمایہ داری اور پیداوار کی صلاحیت تھی جو کہ پورے یورپ پر غالب آنے کی قریب تھی۔ اس جنگ کی سب سے بڑی وجہ برلن سے بغداد تک کی ریلوے لائن کہی جاتی ہے۔ یہ لائن 1903 میں بچھانی شروع کی گئی۔ اس کے لئے اس قدر سرمایہ چاہیے تھا کہ اس میں انگلینڈ سمیت مختلف ممالک کو شمولیت کی دعوت دی گئی۔ انگلینڈ جرمن کا تجارتی ساتھی تھا۔

پہلے پہل اس نے حامی بھر لی۔ لیکن بعد میں وہ پیچھے ہٹ گیا۔ ریلوے کا یہ منصوبہ اس کے معاشی نظام کے لئے خطرہ تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم سر ایڈورڈ گرے نے کہا، ”ہم اس کام میں کیوں رقم لگائیں جس میں ہمارا منافع مشکوک ہے۔ پہلے ہی میں اپنے دفتر میں قلم اور گھر میں جو چمچ استعمال کرتا ہوں اس پر میڈ ان جرمن لکھاہوا ہے۔ اس کے بعد تو جرمن خلیج فارس تک پہنچ کر انڈیا پر 42 بور کی بندوق تان لے گا“۔ ریلوے کا یہ منصوبہ برطانیہ کے معاشی نظام کے لئے خطرہ تھا جو کہ پہلے ہی توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت اور صنعت میں جرمن سے پیچھے تھا۔ اس وقت جرمن کی بنی ہوئی اشیئا یورپ ایشیا اور افریقہ کی منڈیوں پر قبضہ جمارہی تھیں۔

تجارتی راستے، منڈیوں پر اجارہ داری، تجارتی اشیأ اور پیداوار صدیوں سے اقوام عالم میں لڑائیوں کا باعث رہے ہیں۔ چینی کہاوت ہے کہ منڈی کی جگہ میدان جنگ ہے۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل جان پی کوئن کے بقول ”ہم جنگ کے بغیر تجارت اور تجارت کے بغیر جنگ نہیں کر سکتے۔“ منڈیوں پر قبضہ، پیداواری صلاحیت، اجارہ داری، سرمایہ کی منتقلی اور تجارتی حجم میں عدم توازن صنعتی انقلاب کے بعد ملکوں کے درمیان کشیدگی کاسب سے بڑا سبب بن گیا۔

برطانیہ اور چین کی 1839 سے 1860 کے درمیان ہونے والی دونوں افیونی جنگوں کی وجہ تجارتی حجم کا فرق ہی تھا۔ برطانیہ یہ ختم کرنا چاہتا تھا اور چین اس وقت دنیا سے علیحدہ، آزاداور الگ تھلگ رہ کر اپنی تجارت بڑھاتا جا رہا تھا۔ برطانیہ میں ریشم، چاے اور چینی مٹی کے بنے ہوے برتنوں کی مانگ بڑھ گئی تھی۔ برطانیہ کی بنی ہوئی اشیا چین میں متعارف ہی نہ تھیں۔ دولت کی متقلی کے اس عدم توازن کو ختم کرنے کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی نے افیون کی فروخت شروع کردی۔ چینی بادشاہ کے حکم پر وائسرائے لئن نے بیس ہزار افیون کے صندوق ضبط کر کے تاجروں کو گرفتار کرلیا۔ اس سے لڑائی کا آغاز ہوا۔ جس میں چین کوشکست ہوئی اور پہلی جنگ میں بشمول ہانگ کانگ پانچ اور دوسری جنگ میں 80 سے زائد بندرگاہیں برطانیہ کے ہاتھ آئیں۔ جن کو غیر ملکیوں کی تجارت کے لئے کھول دیا گیا۔

ماضی قریب کی اس تاریخ کی طرح دنیا میں آج بھی اسی طرح کی کشمکش جاری ہے۔ اب بھی برلن بغداد ریل کی طرح نئی تجارتی راہداریاں بنائی جارہی ہیں۔ غریب ممالک جو سرمایہ داروں کی منڈیاں ہیں، ان پر اجارہ داری قائم کرنے کے لئے نئے نئے طریقے اختیار کیے جارہے ہیں۔ چین کا ون بلٹ ون روڈ اور سی پیک کا منصوبہ منڈیوں تک رسائی کومختصر کرتا ہے۔ پاکستان اس منصوبہ کا اہم فریق ہے۔ اس کے مکمل ہونے کے بعد چین گوادر کے راستے مشرق وسطی، اور افریقہ تک رسائی حاصل کر لے گا۔

یہ تمام ممالک اس کی منڈیاں ہیں۔ ان ممالک کی اپنی انڈسٹری اس قابل نہیں کہ اتنے بڑے حجم کے سرمایہ داروں کا مقابلہ کر سکے۔ اب بڑی بڑی صنعتوں کا ملک ان ممالک کی چھوٹی صنعتوں کو ناکام کر دے گا۔ اس کی ایک مثال جمہوریہ کانگو کی ہے۔ اس کا مقامی پیچیدہ نمونے کا کپڑا دہائیوں سے عوام میں مقبول تھا۔ 2000 کے بعد چینی کپڑا آیا توتین گز کا ٹکڑا جو قریباً ایک ڈالر کا بکتا تھا اس کی چینی نقل آدھی قیمت پر ملنا شروع ہو گئی۔

2005 میں ورلڈٹریڈ آرگنائزیشن کا ملٹی فائبر معاہدہ اپنی مدت پوری کر گیا توغیر ملکی کپڑے پر لگی 20 فیصد کوٹا کی پابندی ختم ہونے کے بعد مقامی ٹیکسٹائل جو کہ پہلے ہی گھٹنوں پر آچکی تھی زمین بوس ہو گئی۔ اب دو سو سال پرانی کانگو کی شمالی انڈسٹریل سٹیٹ ”کیسانگی“ میں صرف ایک فیکٹری بچی ہے اور وہ بھی صرف پندرہ فیصد پیداوار دے رہی ہے۔

پاکستان کی صنعتوں کے حالات بھی اسی انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان کی انڈسٹری ستر کی دہائی کی قومیاے جانے کی پالیسی کی وجہ سے پہلے ہی کمزور تھی۔ بجلی، گیس اور ملکی سیاسی حالات کے مدوجزر اس کوخراب ہی کرتے جارہے تھے۔ لیکن پھر بھی مقامی سمال انڈسٹری بہت سے لوگوں کو روزگار مہیا کر رہی تھی۔ اب کمزور ٹیکسٹائل انڈسٹری چین کی سستی گارمنٹس کے سامنے اپنی منڈی کھو رہی ہے۔ وزیرآباد کی چھریاں چاقو، گوجرانوالہ کے برتن، مشینیں، گجرات کے پنکھے، سیالکوٹ کے کھیلوں کا سامان بنانے والے کارخانے سب ختم ہونے کے قریب۔

کراچی کی گارمنٹس، حیدر آباد کی چوڑیاں سندھ کی دستکاری کو چھوڑیں یہاں تولال شہباز قلندرکے دربار پر چڑھائی جانے والی چادریں، نیاز، جائے نماز اور تسبیاں بھی چائنا کی بک رہی ہیں۔ بجلی کے اوزار، سوئچ اور بورڈ پاکستان کے گھروں میں بنتے تھے اب ان صنعتوں کے تیس تیس سالہ تجربہ کارہنرمند افراد صرف چائنا کے موبائل، کارڈ، سمیں، کھلونے، جرابیں، پلاسٹک کی جوتیاں، پنسلیں اور کارٹون ریڑھیوں پر بیچنے اور پڑھے لکھے جوان چنگ چی چلانے پر مجبور ہیں۔

امریکہ کی معیشت کو بھی انہی مسائل کا سامنا ہے۔ چین اور امریکہ کی تجارت کا بیلنس امریکہ کے خلاف جا رہا ہے۔ اس کو چین کے علاوہ ترکی اور انڈیا سے بھی یہی شکایت ہے۔ وہ آج کل سب کے ساتھ اس نقصان دہ تجارتی توازن کو جو اس کے مطابق غیر منصفانہ تجارتی معاہدوں کی وجہ سے ہے، صحیح کرنے کے لئے بات چیت کررہا ہے۔ اب اس نے انڈیا اور ترکی سے ترجیحی تجارت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بنیاد پر صرف انڈیا سے تجارت پر امریکہ کی 25 کروڑڈالر سالانہ کی بچت ہو گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا، ”تجارت، ٹیکس، تارکین وطن اور امور خارجہ سمیت ہر معاملہ میں تمام فیصلے امریکی خاندانوں اور مزدوروں کے مفادات میں کیے جائیں گے۔ ہمیں اپنی سرحدیں دوسرے ممالک کی تباہ کاریوں سے بچانی ہوں گی جو ہماری مصنوعات کی نقل اور ہماری کمپنیا ں چوری کر کے ہمارے ملک کی نوکریوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ اس تباہی سے بچاؤ کے بعد ہی ہمیں عظیم طاقت اور خوشحالی کی منزل ملے گی“۔

پاکستان میں بھی ملکی انڈسٹری کی تباہی سے بیروزگاری میں اضافہ کے ساتھ ساتھ درآمدات، تجارتی حجم میں عدم توازن اور بجٹ کا خسارہ ہر سال بڑھتا ہی جاتا ہے۔ اس سرمایہ دار دنیا میں اگر ہم اپنی حثییت برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی صنعتوں کو سہارادینا پڑے گا۔ سی پیک جاری رکھیں لیکن پابندی لگایئں کہ پاکستان میں انڈسٹری لگائیں پھر رستہ ملے گا۔ چین ہمارے ملک میں پیداوار کے ساتھ ٹیکنالوجی بھی منتقل کرے۔ موبائل فون یہاں بھی بن سکتے ہیں۔ ہماری فارما انڈسٹری بہترین تھی، پابند کریں کہ ادویات کی فیکٹریاں یہاں بھی لگاے۔ زراعت کی نئی ادویات اور بیج یہاں پیدا کرے۔ سٹیل انڈسٹری کو سہارا دے کر کھڑا کرے۔

اب ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے کارخانوں کی تباہی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ چاہتے ہیں یا تجارتی عدم توازن کو ختم کرکے اپنے ملک کی معیشت کو قدموں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سوچنے اور عمل کرنے کا وقت ہے ورنہ تجارت اور معیشت کی یہ جنگ ہم بغیر لڑے ہی ہار جائیں گے۔

ابھی وقت ہے کہ اپنے اہداف ٹھیک کیے جائیں کیونکہ 470 قبل مسیح کے چینی جنگی فلاسفر ژوانگ ژو کے بقول ”اگر صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کر لیا جاے توجنگیں بغیر تلوار کے بھی جیتی جا سکتی ہیں۔ “ اگر اب بھی نہ سوچا گیا تو چین کی ہماری منڈیوں میں اجارہ داری ہو جاے گی کیونکہ امریکی معیشت دان ارونڈ سوبرمینین نے لکھا ہے، ”چین اپنے (سرمایہ کے) حجم کے لحاظ سے پوری دنیا پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ “ اور پھر چین سرمایہ داری نظام کی معراج پر پہنچ کر لینن کی اس بات کوپورا کردے گا، ”جب بڑی صنعتیں قائم ہو جاتی ہیں تووہ چھوٹی صنعتوں کو نکال باہر کرتی ہیں۔ اس طرح سرمایہ اور پیداوار چند درجن ہاتھوں میں منتقل ہوکر اجارہ داری قائم کردیتے ہیں“۔ ً

اگرچہ 1970 میں منظور شدہ اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق سامراجیت تمام دنیا میں قانونی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ لوگ آزاد ہوگئے ہیں۔ اس کو کسی بھی شکل میں جاری رکھنا جرم قرار دیا جا چکا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ نے ہی 1994 میں اس حقیقت کا اقرار کیا کہ یہ سسٹم کسی نہ کسی شکل میں دنیا میں ابھی بھی موجود ہے۔ یہ خطرہ ہمارے لئے بھی موجود ہے کہ چین کی ہماری منڈیوں میں اجارہ داری سے سرمایہ دار چین، سامراج بن جاے گا اور ہم اس کی کالونی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •