عمران خان ایک خطرناک بیماری کا شکار ہیں !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان پر طرح طرح کے گھناؤنے الزام لگائے گئے۔

عمران خان ایک خطرناک بیماری کا شکار ہیں، وہ کبھی شادی نہیں کریں گے۔ (سرفراز نواز )

عمران خان میرے بیڈ روم میں لڑکیاں لے کر آتا تھا۔ (انبساط یوسف )

عمران خان نے مجھے بتایا کہ ایک بار اس نے ہیجڑے کے ساتھ ہم بستری کی کیونکہ جب تک پتہ چلا کہ وہ ہیجڑا ہے، بہت دیر ہو چکی تھی۔ (ریحام خان)

عمران خان چرس بیچتا ہے۔ (یونس احمد )

عمران خان نے مجھے گندے پیغامات بھیجے۔ (عائشہ گلا لئی )

ٹیریان عمران کی بیٹی ہے لیکن کبھی اس نے قبول نہیں کیا۔ (سیتا وائٹ )

میں نے عمران سے کہا کہ نشہ جنسی کمزوری کا شکار بناتا ہے، چھوڑ دو۔ (ریحام خان )

یہ وہ الزامات ہیں جو وقتاً فوقتاً وزیر اعظم جناب عمران خان پر لگے لیکن انہوں نے کبھی ان پر خود زبان نہیں کھولی۔ خاموشی اختیار کی بلکہ سرفراز نواز نے تو بہت کھلم کھلا تنقید بھی کی تو خان صاحب نے اپنی خاندانی اور ذاتی عظمت کا خیال رکھتے ہوئے کبھی زبان نہیں کھولی۔ پھر ایسا کیا ہے کہ اپنی تقریر کے دوران انہوں نے بلاول کو بلاول بھٹو صاحبہ کہہ کر اسے جنسی طور پر نااہل ثابت کرنے کی کوشش کی۔ عورتوں کا مذاق نہیں اڑایا کیونکہ عورتوں کا مذاق بنی گالہ میں زیادہ بے ہودہ طریقے سے اڑایا جاتا ہے۔ گو کہ بلاول نے امپائر کی انگلی کے مزے کا پوچھ کر حساب برابر کر دیا اور تصور کرنے والوں کے لئے کئی در وا کر دئیے لیکن میں خاں صاحب کے بے ہودہ طنز سے بہت بدمزہ ہوا ہوں۔

یہ بات تو ہے کہ خان صاحب کی حس مزاح ان کی گورننس کی طرح بہت بری ہے لیکن انہیں شیخ رشید کے گھسے پٹے مزاح کا سہارا لینا پڑے گا، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کوئی شک نہیں کہ خان صاحب نے بدزبانی کو ایک سیاسی حربہ کے طور پر اپنایا ہوا ہے اور یہ حماقت تو روز روشن کی عیاں ہے کہ ان کہ بڑھک بازیوں میں تضاد واضح ہوتے جا رہے ہیں لیکن پھر بھی گالی بکنا بھی ایک فن ہے جو ہر ایک بس کی بات نہیں۔ ایسی گالی جو آ پ کو واقعتاً الٹی پڑ سکتی ہو، بک کر آپ خود کو جگتوں کے ایک جہان کے لئے ایکسپوز کر رہے ہوتے ہیں۔ مجھے اپنے لمبے بالوں کی وجہ سے اکثر الٹی سیدھی باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن میرا ماننا ہے کہ مذاق اڑانے والے عمومآ بہت کھلا موقع دے دیتے ہیں مثلاً مجھے کسی نے راہ چلتے کہا، ” اوئے زنانے” تو میں نے ہمیشہ موقع غنیمت جان کر کہا، ” کسے دن اپنی کسی ۔۔۔ ( قرابت دار) کو بھیج کر دیکھ “۔ بجا کہ میں نے بھی عورت پر ہی حملہ کیا لیکن گالی یا گالی کے جواب کا مقصد اسمان سے آسمان تک مار کرنے والے طنز کے میزائل کو دل میں اتارنا ہوتا ہے تاکہ دوسرا تڑپتا رہے لیکن پھر بھی مرد کو عورت کہہ دینا بڑا ہی پھکڑ پن ہے۔

گو کہ ہم مزاحیہ پروگراموں میں یہ تیکنیک اختیار کرتے ہیں لیکن اس میں اشارہ جنسیت نہیں بلکہ مزاج یا تضاد کی طرف دلالت کرتا ہے۔ مجھے خان صاحب سے سکول لیول کے اس طنز کی بالکل امید نہ تھی۔ شیخ رشید ہمارے پروگرام خبرناک کو بہت برا بھلا کہتے ہیں کیونکہ اس میں شیخ کے بدتہذیبی کی حد تک بڑھے ہوئے پیٹ اور اس پیٹ میں اٹھنے والے مروڑ کی بہت باتیں ہوتی ہیں۔ پچھلے دنوں۔ خبر چلی کہ شیخ صاحب اپنی جائیداد کو یونیورسٹی بنانے کے لئے وقف کر رہے ہیں، بس پھر کیا تھا شیخ صاحب کو کہا گیا کہ جناب آپ پرائے جلسوں میں پھلیاں لوٹنے والے ہیں، گاڑیوں کے پیسے لے کر مکر جانے والے ہیں، بھینس باندھے بغیر موجیں لوٹنے والے ہیں اور پتہ نہیں ہیں بھی یا صرف گلاں ای نیں۔ پیٹ کا پھیلاؤ تو یہی بتاتا ہے کہ شیخ صاحب نے صرف اپنے جسم پر ہی ظلم کیا ہے۔

ادھر عمران خاں صاحب کی مردانہ وجاہت پر تو کوئی دو رائے نہیں گو کہ ان کی بہن نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم حیران ہوتے ہیں جب عمران کو یونانی دیوتا وغیرہ کہا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں مجھے حیرت ہوئی جب خاں صاحب نے مریم نواز کے کورٹ میں پیش ہونے پر افسوس کا اظہار کیا لیکن اس ہمدردی میں کہیں آنے والے وقت میں علیمہ خان کی پیشی بھی چھپی تھی۔ ندیم افضل چن کہتے ہیں کہ یہ سلپ آف ٹنگ تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ خاں صاحب نے کبھی کسی کو صاحب یا صاحبہ کہہ کر پکارا ہی نہیں۔ ان کی گفتگو کا کوئی بھی ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیجیۓ۔

صاحبہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت کہا گیا تھا بالکل ایسے جیسے بلاول نے امپائر کی انگلی کا کہا۔ بدزبانی کی سیاسی پالیسی آہستہ آہستہ لوگوں کو پی ٹی آئی سے متنفر کر رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بدزبانی سے آپ بہت سچے ہونے کا تاثر دے دیتے ہیں لیکن عوام سچائی نہیں مانگتے بلکہ ایسے نعرے مانگتے ہیں جو سبز باغ دکھائیں۔ آپ ایک بار دکھا چکے اور انگلی کا مزہ لے چکے اب کچھ کر کے بھی دکھائیں لیکن آپ کر بھی کیا سکتے ہیں، جب فائل بردار آکر دائیں بائیں بیٹھ جائیں گے تو فیصلہ سازی بھی انہیں کے کہنے پر ہوگی گوکہ خان صاحب کہا کرتے تھے کہ کپتان کی اپنی سٹریٹیجی ہوتی ہے اگر بدزبانی ہی سٹریٹیجی ہے تو الامان الحفیظ۔ میں تو انتظار میں ہوں کہ کب خان صاحب کسی فائل بردار سے بھی اسی لہجے میں مخاطب ہوں گے ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •