آخر شاعری ہی کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکثر و بیشتر ہم نے شاعروں کو یہ کہتے سنا ہے کہ شاعری ان کے لئے ایک اظہار کا ذریعہ ہے۔ شاعری کی وجہ سے ان کے بکھرے وجود کو راحت اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ شاعری ہی وہ واحد سمت ہے جو انہیں ایک پرسکون منزل اور حالات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ بطور ایک ایسے شخص کے جو محض شاعری کی کوشش ہی کرتا ہے میرے اندرایک سوال کافی عرصے سے جنم لینے لگا کہ آخر شاعری ہی کیوں؟ کیا وجہ ہے کہ اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لئے شاعری کا سہارا لیا جائے۔ کوئی اور بھی تو ذریعہ ہو سکتا ہے۔ جستجو اور مستقل اپنے جذبات کو شاعری کے ساتھ باندھ کر معاشرہ کے سامنے لا نے کے بعد اس سوال کا جواب ملاکہ آخر شاعری ہی کیوں۔ جواب کی طرف بعد میں آتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ انسان کو جب عشق ہو تا ہے تو شاعری کرنے لگتا ہے یا جب وہ ایسی کیفیت میں ہوتا ہے کہ جہاں اس کے لئے اظہار کا کوئی ذریعہ نہیں بچتا تو وہ شاعری کا راستہ اپناتا ہے۔ در حقیقت یہ بات درست نہیں کہ انسان محض دکھ، رنج یا عشق کی کیفیت میں ہی شاعری کرتا ہے۔ بہت سے ایسے شاعربھی موجود ہیں کہ جن کو کبھی عشق نہیں ہوا، کبھی کوئی ایسی کیفیت نہیں رہی جس میں وہ شدید دکھ یا صدمے سے لاحق ہوں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ بھی شاعری کر نے لگتے ہیں۔ ایسے شاعر بھی ہیں جن کا عشق محض خدا سے تھا اور بعض شاعروں کی شاعری وحدت الوجودکی گرد گھومتی ہے۔

میں نے زندگی میں اپنی پہلی غزل کافی آسانی سے تحریر کرلی تھی اوریہ اتفاق کی بات ہے کہ وہ عزل بحر میں بھی مکمل تھی۔ کیونکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ شاعر جس کیفیت کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ بحر میں مکمل نہیں ہوتی۔ ایسا اکثر نوجوان شاعروں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ میری پہلی غزل کا آغاز مکمل بحر کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ یہ عزل میں نے اس وقت تحریر کی جب میرے ذہن نے حضرت جون اور فیض کو پڑھنا شروع کیا۔ ایک طرف ایک رومانوی شاعر تھے تو دوسری طرف ایک انقلابی اور ترقی پسند شاعر۔ اپنی پہلی غزل لکھتے وقت جو طرز شاعری میں نے اپنائی وہ شاید جون اور فیض کے اسلوب پہ مبنی تھی۔ ایک طرف حصرت جون کی مایوسی اور دل کو سکون دینے والا انداز تو دوسری طرف فیض کی معنی خیز شاعری، یہ دونوں چیزیں میری پہلی عزل کی میراث تھیں۔

اب بڑھتے ہیں اس سوال کی جانب جو ہم نے چھوڑا تھا کہ آخر شاعری ہی کیوں؟ کیا کوئی اور ذریعہ نہیں؟ میرے لیے اس سوال کا جواب مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں۔ شاعری دراصل اپنے وجود کو جاننے کا نام ہے، اپنے آپ کو اور معاشرے کو پہچاننے کا نام ہے۔ یہ و ہ طریقہ ہے کہ جس سے کوئی بھی شاعر اپنے اندر کے وجود کوجھنجھوڑنے کوشش کرتا ہے۔ شاعری ایک آئینہ ہے کہ جس کے ذ ریعے انسان اپنے اندر چلنے والی چیزوں کو دیکھتا ہے۔

یہ بات حقیقت ہے کہ جذبات کے اظہار کے بعد ایک سکون کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ جب یہ اظہار ایک منفرد طریقے یا شارعری کے ذریعے ہو تو اس سکون کی کیفیفت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اکشرو بیشتر شدید غم یا دکھ میں آنے والے اشعار دراصل خوشی کے لئے ہوتے ہیں۔ ہر انسان ایک سماجی دائرہ کا پابند ہوتا ہے اور جب اس دائرہ میں کوئی بھی غم دستک دیتا ہے تو اس کے ذہن کے ذریعے اشعار بھی اس دائرہ میں اپنا قدم رکھتے ہیں تاکہ وہ اس دکھ اور غم کا مقابلہ کر سکیں۔ شاعری آپ کے سکھ، دکھ، ہجر، وصل، رنج، غم اور آپ کے جذبات کو ایک نیا مقام دیتی ہے۔ شاعری انسان کی تکالیف کو ایک ایسے مقام پہ لے جاتی ہیں کہ جہاں تکالیف بھی خوشی کا باعث بن جاتی ہیں۔

دنیا کے تمام ماہر نفسیات کا ماننا ہے کہ انسان کے لئے اپنے جذبات کا اظہار ضروری ہے اور یہی وجہ ہے کہ انسان اظہار کے لیے مختلف طریقے اپناتا ہے۔ اظہار کے اندر اگر کسی بھی قسم کی منافقت ہو تو شاید وہ سکون نہیں ملتا لیکن شاعری وہ ذریعہ ہے کہ جہا ں آپ اپنے جذبات کو اپنے معاشرے کے خیالات کے ساتھ ملا کر پیش کرسکتے۔ انسان جس سمندر میں ڈوب رہا ہوتا ہے شاعری دراصل اس سمندر میں وہ تنکے کا سہارا ہے جو اسے بچالیتی ہے۔

اکثر میں نے شاعروں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر ہم شاعری نہ کرتے تو خودکشی کرتے۔ دراصل یہ اس لئے ہے کہ ان تمام شاعروں کے پاس اپنے اندر کے وجود کو سکون دینے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ وہ اپنے جذبات کا اظہار کر نے سے کاثر تھے اور یہی وجہ ہے کے جب شاعری نے انہیں سکون دیا اور اظہار کا ایک اور موقع فراہم کیا تو انہیں احساس ہواکہ شاعری وجود کے متبادل ہونے کا نام ہے۔ یہ اکثر اس احساس کو جنم دیتی ہے کہ جہاں شاعر کو لگے تمام تر زخم بھی اس کے اشعار کے بعد پھول کے شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انسان جب عشق میں مبتلا ہوتا ہے تو اپنے اور سامنے والے کے وجود کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، اپنے خیالات کو اس کے تصورات سے مشابہت دیتا ہے۔ کچھ ایسے بھی حسین خیالات ہوتے ہیں جو اسے ہمیشہ کچھ نہ کچھ سوچنے پہ مجبور کرتے ہیں۔ اورکہتے ہیں کے عشق وہ چابی ہے جس سے ہر دروازہ کھل جاتا ہے تو شاید ان دروازوں میں ایک دروازی شاعری کا بھی ہوتا ہے جو آپ کو مکمل اظہا ر کی آزادی دیتاہے۔

ایک بات جو عام الفاظ میں کہی جاسکتی ہے اسے بالکل ایک منفرد انداز میں پیش کرنا اور پھر اس اطمینان کاہونا جو شاید آپ کو ان عام الفاظ میں نہیں ملتا یہ تمام تر خصوصیات ہیں جو شاید محض ایک شاعری کے راستے کو فوقیت دیتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا وجود جب شاعری سے جڑ جاتا ہے تو اسے الگ کرنا ناممکن ہوتاہے اور کچھ لوگوں کا وجود محض شاعری کے لئے ہی بنا ہوتا ہے۔ یہ تمام باتیں ہیں جو شاعری کو ہمیشہ مختلف کرتی ہیں اور اسے ایک منفرد مقام پر رکھتی جہاں کسی اور کی کوئی جگہ نہیں۔ جب تک انسان کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کا کوئی اور منفرد طریقہ نہیں مل جاتا تب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •