گدھے کے ساتھ سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ھمارے معاشرے میں تین طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جو گدھے کی طرح کے انسان ہیں ایک وہ جو گدھے والوں کو گدھا بنا کے لطف لیتے ہیں اور تیسرے وہ جو سمجھدار رحمدل انسان ہوتے ہیں لیکن ان کو زندگی میں کسی نا کسی موڑ پر گدھے کے ساتھ سفر کرنا پڑ جاتا ہے یہ سفر بیٹے بیوی یا کسی نظریے کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

زیادہ تر لوگوں کو یہ سفر شادی کے بعد بیوی کے ساتھ کرنا پڑتا ہے اور یہ سفر جو ان کے خیال میں ایک خوشگوار تفریح ہونی چاہیے ان کے لئے اس وقت ایک اذیت بننا شروع ہوجاتا ہے جب ان سے پوچھا جاتا ہے کے آپ دونوں گدھے پر کیوں سوار ہیں یہ تو ظلم ہے گدھے پر اگر بیوی اتر جائے شوہر کے احترام میں تو شوہر پر لعن طعن کے بیوی کی نزاکت کا بھی احساس نہی ہٹے کٹے شوہر کو اگر شوہر اتر جائے تو بیوی کو دوزخ کا ایندھن قرار دینا کے شوہر کی عزت ہی نہی کر رہی اگر دونوں اتر جائے تو بیوقوف قرار پاتے ہیں کے گدھے کے ہوتے ہوئے پیدل چل رہے ہیں حتی کے گدھے کو سر پر اٹھا لیں تو بھی پاگل ہونے کا تمغہ لیتے ہیں۔

گدھے کے ساتھ یہ سفر کوئی بھی سرکاری یا پرائیویٹ افسر بھی کرسکتا ہے اگر وہ ایمانداری سے کام کرے تو ماتحت، گھر والے، عوام میں عزت کھو بیٹھے گا کے کس کام کا اس اس پوسٹ پر کام کرنا جب کوئی فائدہ نہی دے سکتا، اگر سب کے جائز ناجائز کام بغیر رشوت کے کرے تو بھی بیوقوف قرار پائے گا اگر رشوت لے کر کرے تو راشی دوزخی ہوجائے گا گدھے کے ساتھ یہ سفر ہر کسی کو کسی نا کسی کے ساتھ کرنا ہی ہوتا ہے۔

کامیاب سفر کرنے کے لئے آپ اپنی فطرت کو سمجھ لیں اگر آپ ایماندار ہیں تو یہ سفر قیمت ہوگی آپ کی جنت کی اس لئے سب سے مشکل طعنوں سے مصیبتوں سے بھرا ہوگا آپ کا یہ سفر اس لئے جیسا آپ کو ٹھیک لگے گدھے کا ویسا استعمال کرتے جائے اور کسی بھی آواز پر توجہ نا دیں۔

اگر آپ ایماندار بزدل اور لالچی بھی ہیں تو بھی کام چل جائے گا آپ بس پوزیشن بدلتے ریے گدھے کے ساتھ، کبھی چڑھ جائیں کبھی اتر جائیں اور کبھی اٹھا لیں۔

سب سے زیادہ لطف اس سفر کا وہ لوگ لیتے ہیں جو کرپٹ ہوتے ہے، بے رحم ہوتے ہیں وہ نا تو کسی کی پروا کرتے ہیں اور نا ہی اپنی پوزیشن بدلتے ہیں بلکہ اور زیادہ اسی پوزیشن پر رہ کے اور خود دوسروں کو برا بھلا گالی گلوچ دے کر مزہ لیتے ہیں اس سفر کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •