جرمنی میں عرب ممالک سے آنے والی لڑکیوں کی فحش فلموں کے رجحان مین بے پناہ اضافہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عراق، شام اور افغانستان سمیت کئی مسلم ممالک کے شہری جنگوں کی تباہ کاری سے بچنے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں اپنے ممالک چھوڑ کر نکلے اور یورپ و دیگر خطوں کا رخ کیا۔ ان کی ایک بڑی تعداد ترکی کے راستے جرمنی پہنچی اور اب وہاں پناہ گزین کیموں میں رہ رہی ہے۔ امریکی میڈیا کمپنی ’ووکیٹو‘ (Vocativ)نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی میں پناہ گزین لڑکیوں کی فحش فلموں کا رجحان انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

جرمنی میں پناہ گزین لڑکیوں کی فحش فلموں کی مانگ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ فحش فلمیں بنانے کے درجنوں نئے سٹوڈیوز کھل گئے ہیں جن میں صرف پناہ گزین لڑکیوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر انہیں فحش فلموں میں لیا جا رہا ہے۔ ان میں سے متعدد لڑکیاں تو فحش فلموں کی اداکارہ کے طور پر بہت شہرت بھی پا چکی ہیں۔

ووکیٹو کے مطابق جرمن شہری اس لیے بھی پناہ گزین لڑکیوں کی فحش فلموں کو پسند کر رہے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ پناہ گزینوں کی زیادہ سے زیادہ تذلیل کی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جرمن شہریوں کو اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کا اپنے ملک میں آنا پسند نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ لوگ ملک سے نکل جائیں۔

ووکیٹو کے مطابق پناہ گزین لڑکیوں کی فحش فلموں کا رجحان امریکہ اور دیگر مغربی و یورپی ممالک میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ گوگل رینکینگ کے مطابق بھی جرمنی اور دیگر ممالک میں حالیہ عرصے میں ان فلموں کا رجحان کئی سو فیصد بڑھا ہے اور اس میں مسلسل تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •