کیا آپ پدرسری نظام بدلنا چاہتے ہیں؟


دھرتی ماں بلاتی ہے

او میرے بچو !

او میرے سات ارب بچو !

تم تکلیف میں ہو

تم بہت دکھی ہو

تمہیں دکھی دیکھ کر میں بھی دکھی ہو جاتی ہوں

تم سب میرے بچے ہو

چاہے تم

 مشرق کے ہو یا مغرب کے

 شمال کے ہو یا جنوب کے

چاہے تم

مرد ہو یا عورت

کالے ہو یا گورے

امیر ہو یا غریب

صحتمند ہو یا بیمار

تم سب میرے بچے ہو

اور تم جانتے ہو

ماں اپنے سب بچوں سے محبت کرتی ہے

اے میرے بچو !

اب تم اکیسویں صری میں داخل ہو رہے ہو

میں پریشان ہوں

تم جانتے ہو

ماں اپنے بچوں کے بارے میں پریشان رہتی ہے

مجھے ڈر ہے

تم کہیں اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچائو

تم کہیں ایٹم بموں اور خانہ جنگیوں سے

اجتماعی خود کشی نہ کر لو

میں جانتی ہوں کہ تم ذہین ہو

لیکن ابھی دانا نہیں ہوئے

تم نے اپنے آپ کو

ملکوں اور قوموں میں بانٹ لیا ہے

اور ایک دوسرے سے کب سے جنگیں لڑ رہے ہو

تم نہیں جانتے

تمہارے دشمن بھی تمہارے رشتہ دار ہیں

کیونکہ تم سب دھرتی ماں کے بچے ہو

میں اس وقت سے یہاں موجود ہوں

جب تم پیدا بھی نہ ہوئے تھے

اے میرے بچو

میں تمہیں ایک کہانی سنانا چاہتی ہوں

کیونکہ مائیں بچوں کو کہانی سنانا پسند کرتی ہیں

تم اب جوان ہو گئے ہو

لیکن میری نگاہ میں بچے ہی ہو

اس لیے کہانی غور سےسنو

اس سے محظوظ بھی ہو

اور دانائی بھی سیکھو

اس سے تمہیں سکون ملے گا

ایک وہ زمانہ تھا

جب انسان مادر سری نظام میں رہتے تھے

دھرتی ماں کے بچے ہونے پر فخر کرتے تھے

اپنی مادری زبان پر فخر کرتے تھے

انسان کرہِ ارض پر امن و سکون سے رہتے تھے

یہ وہ دور تھا

جب انسان سادہ لوح تھے

وہ پیدائش کا راز نہ جانتے تھے

وہ نہیں جانتے تھے

بچے کیسے پیدا ہوتے ہیں

بعض عورتیں بچے کرتی تھیں بعض نہیں

جو بچے پیدا ہوتے تھے

وہ سب عورتوں کو ’ماں’ کہتے تھے

وہ سارے گائوں کے بچے ہوتے تھے

سارا گائوں ان پر محبت نچھاور کرتا تھا

اور محبت کرنے والے جوان بنتے تھے

لیکن پھر چند مردوں نے پیدائش کا راز جان لیا

اور یہ جانا کہ وہ بچوں کے باپ ہیں

چنانچہ انہوں نے بچوں کو اپنا نام دینا چاہا

اور عورتوں کو اپنی ملکیت بنانا چاہا

اور دوسرے مردوں سے دور رکھنا چاہا

انہیں بیٹے بیٹیوں سے زیادہ پسند تھے

وہ اپنی جائداد بھی بیٹوں کے نام کرنا چاہتے تھے

اس طرح پدرسری نظام کا آغاز ہوا

اور ساری دنیا میں پھیل گیا

مردوں نے حکومتیں بنائیں

اور قوانین بنائے

جس میں مردوں کو عورتوں سے زیادہ حقوق اور مراعات ملے

انہوں نے عبادت گاہیں بناہیں

اور مردوں کو اپنا پیشوا اور امام بنایا

اور عورتوں کو بتایا کہ

خدا صرف مردوں سے بات کرتا ہے

عورتیں کتنی سادہ لوح تھیں

انہوں نے مردوں کی باتیں مان لیں

اور اپنے حقوق سے دست بردار ہو گئیں

وہی انسان

جو دھرتی ماں پر فخر کرتے تھے

آسمانی باپ پر فخر کرنے لگے

اس طرح

پدر سری نظام مقدس بن گیا

پدر سری نظام

وقت کے ساتھ ساتھ طاقتور ہوتا گیا

اور عورتوں پر ظلم ڈھانے لگا

دنیا میں جنگ و جدل کرنے لگا

معصوموں کا خون بہانے لگا

اے میرے بچو

اے میرے سات ارب بچو

میں یہ سب کچھ

نجانے کب سے خاموشی اور صبر سے دیکھ رہی ہوں

لیکن اب

میرے صبر کا پیمانہ چھلک گیا ہے

میں اب مزید خاموش نہیں رہ سکتی

میں اپنے بچوں کو مزید دکھی نہیں دیکھ سکتی

میں تمہیں بتانے آئی ہوں

آسمانی باپ ایک سراب ہے ایک واہمہ ہے ایک خواب ہے ایک خیال ہے

جسے مردوں نے تخلیق کیا ہے

تا کہ پدر سری نظام قائم رہے

اور مرد عورتوں پر حکمرانی کرتے رہیں

اب تمہیں اس آسمانی باپ کو خدا حافظ کہنا ہے

پدر سری نظام کو الوداع کہنا ہے

دھرتی ماں کی طرف لوٹنا ہے

مادر سری نظام کی طرف رجوع کرنا ہے

تا کہ دنیا میں امن قائم ہو سکے

اور کرہِ ارض پر انسان سکون سے رہ سکیں

لیکن تمہیں یہ جلد کرنا ہے

اس سے پہلے کہ

انسان بموں سے اجتماعی خود کشی نہ کر لیں

اے میرے بچو

اے میرے سات ارب بچو

اب تمہیں فیصلہ کرنا ہے

تم نے پدر سری نظام قائم رکھنا ہے

یا مادر سری نظام کی طرف لوٹنا ہے

تم نے آسمانی باپ کے

یا دھرتی ماں کے بچے بن کر رہنا ہے

اور تمہیں یہ فیصلہ جلد کرنا ہے

اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail