کیا آپ پدرسری نظام بدلنا چاہتے ہیں؟


zahra naqvi

زہرا نقوی صاحبہ !

میرے تعارف اور دو فیمنسٹ خواتین کے پرمغز مکالمے پر مشتمل میرے کالم ‘کیا آپ عورتوں کی آزادی سے خوفزدہ ہیں‘ کے بارے میں مجھے خط لکھنے کا شکریہ۔ میں آپ سے پوری طرح متفق ہوں کہ عورتوں کو اپنی زندگی کے صحیح یا غلط فیصلے کرنے اور ان سے سبق سیکھنے کا پورا حق ہونا چاہیے۔ یہ ہم سب کی بدقسمتی ہے کہ عورتیں آج بھی دنیا میں دوسرے درجے کا شہری سمجھی جاتی ہیں۔

ایک وہ زمانہ تھا جب دنیا کے مختلف حصوں میں مادر سری نظام نافذ تھا۔ معاشرے میں عورت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔ لوگ جانتے تھے کہ عورت ہی بچہ پیدا کرتی ہے اور زندگی تخلیق کرتی ہے جو خدائی صفت سمجھی جاتی تھی۔ اسی لیے ان معاشروں میں دیویاں ہوتی تھیں۔ آج بھی مادری زبان اور دھرتی ماں جیسے الفاظ اسی مادر سری دور کی یاد دلاتے ہیں۔ اس دور میں عورتیں کھیتوں میں بھی کام کرتی تھیں کاروبار بھی کرتی تھیں اور زندگی کے ہر شعبے میں فعال تھیں۔ آج بھی NATIVE INDIAN کلچر میں عورتوں کی شخصیت اور رائے کا احترام کیا جاتا ہے اور انہیں دانائی کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ عورتیں امن پسند ہوتی ہیں۔

لیکن پھر ساری دنیا کا نظام بدلنے لگا۔ مردوں نے آہستہ آہستہ زندگی کے مختلف شعبوں میں بالادستی حاصل کرنی شروع کی۔

وہ خود کھیتوں میں کام کرنے لگے اور عورتوں کو گھروں میں محصور کر دیا۔

وہ سماجی‘ مذہبی اور سیاسی اداروں میں اصحابِ بست و کشاد بن گئے۔ آہستہ آہستہ پدر سری نطام قائم ہونے لگے۔ اب اگر مختلف ممالک کے مختلف شعبوں کو دیکھا جائے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ طب میں نرسیں زیادہ عورتیں اور ڈاکٹر زیادہ مرد ہیں۔ کھانا ساری دنیا میں عورتیں زیادہ پکاتی ہیں لیکن دنیا کے مشہور شیف مرد ہیں۔ استانیاں زیادہ عورتیں ہیں لیکن پرنسپل زیادہ مرد ہیں۔ مذہبی رہنما زیادہ مرد ہیں جو عورتوں کے اعمال کے بارے میں فتوے جاری کرتے ہیں اور ان کی سماجی جنسی اور سیاسی زندگی کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا میں سیاسی لیڈر ’ صدر اور وزیرِ اعظم زیادہ مرد ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں ماہرینِ نفسیات سماجیات اور سائنسیات زیادہ مرد ہیں۔ اس لیے نہیں کہ مرد زیادہ قابل ہیں وہ اس لیے کہ عورتوں کو مواقع ہی فراہم نہیں کیے جاتے۔

کسی بھی کلچر کے جو رویے اور تعصبات عورتوں کے خلاف تھے وہ ان کے مذہبی اور سماجی رویوں اور کتابوں میں دکھائی دیتے ہیں۔

‘عورتیں مردوں سے کم تر ہیں۔ ’۔ اس جھوٹ کو اتنی بار دہرایا گیا کہ عورتیں خود بھی اسے ماننے لگیں اور پھر اس کے حق میں نفسیاتی‘ سماجی اور مذہبی تاویلیں بھی دینے لگیں۔ مذاہبِ عالم پدر سری نظام سے اتنے متاثر ہوئے کہ مغرب میں خدا کو باپ بنا دیا گیا اور لوگ دھرتی ماں کے بچے ہونے کی بجائے آسمانی باپ کے بچے ہونے پر فخر کرنے لگے۔

پچھلی چند صدیوں میں دھیرے دھیرے ساری دنیا کے دانشور اس غیر فطری تعصب کی اہمیت اور نقصان کو سمجھنے لگے ہیں اور ایک ایسے نظام کے بارے میں سوچنے لگے ہیں جو اس دنیا میں ایک منصفانہ اور پرامن معاشرہ قائم کرے گا۔ اب ہمیں یہ خواب دیکھنا ہے اور پھر اس خواب کو شرمندہِ تعبر کرنا ہے۔

پدر سری نظام نہ عورتوں کے لیے اچھا ہے نہ مردوں کے لیے مفید۔ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہیں۔ دونوں برابر ہونگے تو گاڑی میں توازن ہوگا ورنہ وہ لڑھکتے ہوئے چلے گی اور بچوں اور خاندانوں پر برا اثر پڑے گا۔ جب بچے اپنے والدین کو ایک دوسرے کی عزت کرتا دیکھیں گے تو وہ بھی بڑے ہو کر اپنے دوست، محبوب اور شریکِ حیات کا احترام کرنا سیکھیں گے۔

اگر ہمیں ایک منصفانہ اور پرامن معاشرہ قائم کرنا ہے تو ہمیں پدرسری نظام کو خیرباد کہنا ہوگا اور بچوں کو باپ کے نام کی بجائے ماں کا نام دینا ہوگا اور عورتوں کو زندگی کے ہر شعبے میں عزت سے خیرمقدم کرنا ہوگا۔ عورتوں کا مردوں کے برابر ہونا عورتوں کے لیے ہی نہیں مردوں کے لیے بھی سودمند ہے۔

امید ہے آپ کو اپنے سوال کا مختصر جواب مل گیا ہوگا۔ آپ کے خط لکھنے اور مجھے انسپائر کرنے کا ایک دفعہ پھر شکریہ۔

میرے نگاہ میں پدر سری نظام کو ختم کرنے کے لیے مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے کو دوست بنانا’ مل جل کر زندگی کے ہر شعبے میں کام کرنا اور ایک سنجیدہ مکالمہ کرنا اشد ضروری ہے جو آپ اور میں دو دوست بن کر کئی برسوں سے کر رہے ہیں۔ میں اس خط کے ساتھ آپ کو اپنی انگریزی نظم MOTHER EARTH IS CALLING کا ترجمہ بھیج رہا ہوں کیونکہ وہ نظم اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ پدرسری نظام کیسے وجود میں آیا۔ امید ہے پسند آئے گی۔

آپ کا دیرینہ دوست۔۔۔

خالد سہیل

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail